کشمکش اور بداعتمادی کی فضا
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی چھ جنوری کی پریس کانفرنس کے چار نکات خاص طور پر قابل ذکر ہیں، پہلا نکتہ یہ کہ انہوں نے 2025ء کو پالیسی کے حوالے سے شفافیت کا سال قراردیا،یعنی اس سال قوم کو شفاف پالیسی دی گئی جو کسی بھی کنفیوژن سے پاک ہے۔
یہ واضح ہوا کہ دہشت گرداصل میں فتنہ الخواج ہیں اور فتنہ الہندوستان ہیں۔دوسرانکتہ بھارت اور افغان طالبان کا گٹھ جوڑ ثابت ہونے کے حوالے سے تھا، تیسرا نکتہ یہ تھا کہ دہشت گردوں کو اندرونی سپورٹ حاصل ہے اور چوتھا یہ کہ دہشت گردی کے حوالے سے افغانستان مرکز ہے اور پاکستان کا یہ بیانیہ اب دنیا تسلیم کررہی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے کلپ بھی چلائے، اسی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی کے وہ کلپ بھی پریس کانفرنس میں چلائے گئے جس میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کی مخالفت کی گئی تھی۔اس پریس کانفرنس کا اہم پہلو یہ تھا کہ پہلی بار صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ کا نام باقاعدہ طورپر لیاگیا۔یہ وفاق اور صوبائی حکومت کے مابین کشمکش اور بداعتمادی کی فضا کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال ملک میں 27 خودکش حملے ہوئے جن میں سے 16 خیبرپختونخوا میں ہوئے۔ یہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے۔ اس سے اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ اس وقت خیبرپختونخوا میں امن وامان کی صورتحال خستہ حال ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کا کہناہے کہ اسے بھی اس بات کا ادراک ہے لیکن یہ کیسا ادراک ہے کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی پالیسی وضع نہیں کی جاسکی۔ صوبائی اسمبلی میں گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے امن وامان پر بحث ہورہی ہے، ایوان میں شرکا محض بحث ہی کررہے ہیں اس حوالے سے چھ ماہ کے دوران کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکی، دہشت گردوں کی روک تھا م کے لیے کوئی میکنزم نہیں بنایاجاسکا۔صرف اتنا ہوا کہ امن کے نام پر ایک کانفرنس بلائی گئی، اس کانفرنس کو کامیاب کانفرنس کہاجاسکتا ہے جس میں مختلف سفارشات پیش کی گئیں لیکن بدقسمتی سے کسی بھی سفارش پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا۔
سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کی جانب سے ایک سکیورٹی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان شامل ہیں۔ اس کمیٹی کے بھی ایک یا دو اجلاس ہوئے ہوں گے۔کیامنتخب نمائندوں کو خیبرپختونخوا کے حالات کا اندازہ نہیں کہ سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں اس قدر لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہے؟چھ ماہ کے دوران اسمبلی فلور پر صرف لفاظی ہی کیوں کی جاتی رہی، کوئی ٹھوس لائحہ عمل کیوں نہیں سامنے آسکا؟ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مشیر اطلاعات کالعدم ٹی ٹی پی کو دہشت گردکہنے سے گریزاں ہیں۔ ان کے اس بیان سے صوبائی حکومت کی پوزیشن مزید خراب ہوئی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو اس وقت ایک سنجیدہ اور تجربہ کار مشیریا وزیر اطلاعات کی اشدضرورت ہے جو حکومتی بیانیے کو مناسب طریقے سے آگے پہنچا سکے۔ جو معصوم لوگوں کو مارتے ہیں اُن کو دہشت گرد کہنے میں بھلا کیا ہچکچاہٹ ہوسکتی ہے؟ دہشت گردوں کو واپس کون لایا اس بحث کو اب ختم ہونا چاہئے۔ اصل بات یہ ہے کہ جوآگئے ان کا کیاکیاجائے اور جو آرہے ہیں ان کا راستہ کیسے روکاجائے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پاکستان تحریک انصاف کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے لیکن اس صوبے کے چار کروڑ عوام کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اسی جماعت کے سرپر ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اس حوالے سے یقینا کافی سنجیدہ ہیں، گزشتہ روز’ دنیا نیوز‘ سے ملاقات کے دوران بھی انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ صوبے میں امن وامان کی بحالی ترجیح ہے، گورننس کے حوالے سے بھی تسلیم کیا کہ اس میں مسائل ہیں، بیوروکریسی کو لگام ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، کرپشن کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کررہے ہیں، تاہم یہ اقدامات تب ہی ممکن ہوسکتے ہیں جب صوبے کے چیف ایگزیکٹو پشاور میں موجود رہیں۔ مسائل کی طرف توجہ دیں اوران سے لوگوں کو چھٹکارا دلانے کی کوشش کریں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے جو ایک واضح پیغام ہے، یہ پیغام ہمسایہ ملک افغانستان کے لیے بھی تھا جہاں سے دہشت گرد یہاں دراندازی کررہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس سے یہ نتیجہ بھی اخذکیاجاسکتا ہے کہ سیاسی معاملات کو سدھارے بغیر سکیورٹی معاملات بہتر نہیں بنائے جاسکتے۔ صوبے اور وفاق کی پالیسی اس حوالے سے ایک ہونی چاہئے۔ عالمی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں جس کے اثرات یقینی طورپر پاکستان اور افغانستان پر بھی مرتب ہوں گے۔ ریاست پاکستان اب ایک واضح پالیسی اختیار کرچکی ہے اور ماضی میں دوست کہلائے جانے والے افغان طالبان کو کسی بھی صورت میں اب دوست تسلیم نہیں کیاجارہا۔کالعدم ٹی ٹی پی کے حوالے سے بھی واضح مؤقف سامنے آچکاہے اور مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان کا سرکاری ردعمل انتہائی کمزور رہا اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جس میں ایک سبب افغان طالبان رجیم میں پائے جانے والے اندرونی اختلافات بھی ہیں۔ خیبرپختو نخوا حکومت کو بھی اب ان معاملات کو سمجھنا ہوگااور کوشش کرنی ہوگی کہ اس معاملے میں وفاق کے ساتھ بیٹھ کر بات کی جائے۔ ایک بات قابل ِذکر ہے جو گزشتہ روز وزیراعلیٰ نے پشاور میں صحافیوں سے بھی کہی کہ وہ امن وامان کے سلسلے میں مقتدرہ کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ اگر سہیل آفریدی مقتدرہ کے ساتھ بیٹھ سکتے ہی تو وفاق کے ساتھ بیٹھنے میں کیا حرج ہے ؟وفاقی حکومت کی جانب سے بھی اس حوالے سے اقدامات نظر آنے چاہئیں۔ سیاست ہوتی رہے گی، سب سے اہم ایشو سکیورٹی ہے،فریقین کو اس کیلئے مل بیٹھنا ہوگا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 9 جنوری کو سندھ کارخ کررہے ہیں جہاں وہ سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں مختلف اضلاع کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل وہ پنجاب گئے تھے جہاں کچھ ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے۔ بظاہر سندھ میں لگ رہا ہے کہ پنجاب جیسی صورتحال نہیں ہو گی۔ امید کرسکتے ہیں کہ سندھ کے دورے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنے صوبے کے معاملات کی طرف توجہ دیں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ سٹریٹ موومنٹ پارٹی کی طرف سے چلائی جائے اور صوبائی حکومت کو اس صوبے کے معاملات درست کرنے کے لیے چھوڑدیا جائے۔ صوبے میں اس وقت بدانتظامی کی کیفیت ہے، افسر شاہی پر وزیر اعلیٰ کی گرفت اتنی مضبوط نہیں جتنی ہونی چاہئے۔ اگرچہ ان کی جانب سے مؤقف آرہا ہے کہ حالیہ تبادلے اورتعیناتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں لیکن ان پر مختلف حلقوں کی جانب سے انگلیاں اب بھی اُٹھ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان تبادلوں اور تعیناتیوں میں وزیراعلیٰ سے زیادہ بیوروکریسی کی خواہشات کا عمل دخل تھا اور اب وہ اس عمل دخل کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہیں، لیکن اس کیلئے ان کا صوبے میں موجود رہنا ضروری ہے۔