عداوت اور محبت صرف اللہ کیلئے !
’’اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں‘‘ (سورۃ یونس) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے،کہاں ہیں میرے وہ بندے جو میری عظمت اور میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے؟ آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں، میں اپنے ان بندوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا‘‘ (صحیح مسلم)
نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ جس نے اللہ ہی کیلئے کسی سے محبت کی اور اللہ ہی کیلئے دشمنی رکھی اور اللہ ہی کیلئے دیا (جس کسی کو کچھ دیا) اور اللہ ہی کیلئے منع کیا اور نہ دیا تو اس نے اپنے ایمان کی تکمیل کر لی‘‘( ابو داؤد)۔
ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اس لیے مسلمان کی کوشش اپنے ہر قول و فعل سے یہی ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے۔ آپ ﷺ کے فرمان سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کام کرنے کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے یعنی جس شخص نے اپنی حرکات و سکنات، اپنے جذبات اور احساسات اس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیئے کہ وہ جس سے تعلق جوڑتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے ہی جوڑتا ہے، اور جس سے تعلقات توڑتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کیلئے توڑتا ہے، جس کو کچھ دیتا ہے اللہ ہی کیلئے دیتا ہے اور جس کو دینے سے ہاتھ روکتا ہے صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے۔
جس شخص کی سوچ اور تفکرات اس قدر رضائے الٰہی کے تابع ہوں، اسے اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق اور کامل ایمان نصیب ہوتا ہے۔ عداوت یعنی دشمنی اور محبت اللہ ہی کیلئے کرنا ایسا عمل ہے جس سے انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت معاذ ؓ کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو لوگ میری رضا کیلئے آپس میں محبت کرتے ہیں ان کیلئے میری محبت واجب ہو جاتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح)
ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے کہ حضرت ابو امامہ ؓ حضورﷺکا ارشاد نقل فرماتے ہیں ’’ جس بندے نے بھی اللہ کیلئے کسی سے محبت کی، اس نے دراصل اپنے رب کریم کی عظمت اور توقیر کی۔ کیونکہ جب عداوت اور محبت اللہ کی رضا کیلئے ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی قدر و منزلت کا اندازہ، حضرت ابو ذر غفاری ؓ کی روایت سے ہو سکتا ہے،وہ حضور اکرم ﷺکا ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : یعنی بندوں کے اعمال میں سے اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ محبت اور عداوت ہے جو اللہ کی رضا کیلئے ہو‘‘(رواہ احمد)۔
اللہ کی رضا کیلئے مسلمان بھائی سے محبت کرنا اور رضائے الٰہی کیلئے اس سے ملاقات کرنا، کتنا عظیم عمل ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہے، فرماتے ہیں کہ آقاﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کیلئے چلاجو دوسری بستی میں تھا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ اس کے راستے میں منتظر بنا کر بٹھا دیا گیا۔ جب وہ شخص اس جگہ سے گزرا تو فرشتے نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ اس شخص نے جواب دیا کہ میں اپنے ایک مسلمان بھائی کی ملاقات کیلئے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے کہا کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے یا کوئی اور حق ہے جس کی خاطر اس کے پاس جا رہے ہو؟ اس شخص نے جواب دیا ’’ مجھے تو صرف اللہ تعالیٰ کیلئے اس سے محبت ہے، اس لیے اس سے ملاقات کیلئے جا رہا ہوں فرشتے نے کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرتا ہے جس طرح تم اللہ تعالیٰ کیلئے اس شخص سے محبت کرتے ہو‘‘ (صحیح مسلم، کتاب البرولصلۃ والاداب : 6549)
آج معاشرے میں محبت اور عداوت کیلئے دنیوی مفادات کو بنیاد بنا لیا گیاہے۔ چنانچہ کسی سے کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو اس سے محبت کی جاتی ہے۔ اس کی عزت اور توقیر معاشرے کی نگاہ میں ہوتی ہے اور جس کسی سے فائدہ نہ پہنچے، اسے عزت کی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس سے نفرت کی جاتی ہے۔اس دنیا میں رشتہ داری اور قرابت کی وجہ سے محبت اور تعلق کا ہونا تو عام ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کی مالی مدد کرتا ہے اسے ہدیے اور تحفے دیتا ہے، تو اس محسن کی محبت بھی ایک فطری بات ہے۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے ان تمام تعلقات سے قطع نظر کرتے ہوئے، محبت اور عداوت اللہ کی رضا کیلئے ہونی چاہیے۔
آقاﷺ کے ارشادات کی روشنی میں واضح ہو چکا کہ جب ہماری محبت اور نفرت کا مدار رضائے الٰہی پر ہوگا، تو اس سے ایمان کامل ہو گا، دنیا اور آخرت میں نجات اور فلاح نصیب ہو گی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور محبت حاصل ہوگی۔ جس سے اللہ تعالیٰ محبت کریں گے اس سے تمام مخلوق محبت کرے گی۔ جیسا کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جب اللہ تعالیٰ کسی سے محبت فرماتے ہیں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ارشادفرماتے ہیں کہ ’’مجھے فلاں شخص سے محبت ہے تم بھی اس سے محبت کرو۔ اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام خود بھی اس شخص سے محبت کرتے ہیں اور آسمان میں اعلان کر دیتے ہیں کہ فلاں شخص اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ ہے تم سب اس سے محبت کرو۔ پس آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اور زمین والوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے۔(صحیح مسلم :6705)
اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کسی سے محبت کرنے کا کتنا بڑا انعام ملتا ہے، کہ سب آسمان اور زمین والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ والوں کی طرف، دل خود بخود کھینچتا ہے۔ کسی اندرونی جذبے کے تحت ان سے محبت اور الفت جوش مارنے لگتی ہے۔ بے لوث محبت کی وجہ سے دوسروں کے دل میں بھی عزت اور توقیر بڑھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیوی اور اخروی انعامات ملتے ہیں اور آخرت میں بلند و بالا درجات نصیب ہوتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:کہاں ہیں میرے وہ بندے جو میری عظمت اور میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے؟ آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں، میں اپنے ان بندوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا‘‘ (رواہ مسلم)۔
بے لوث محبت کرنے والوں کے بارے میں حضرت عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ کے بندوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو انبیاء و شہداء تو نہیں ہوں گے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو مرتبہ انہیں ملے گا اس پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے‘‘، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسولﷺ! آپ ﷺ ہمیں بتائیں وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ ایسے لوگ ہوں گے جن میں آپس میں خونی رشتہ تو نہ ہو گا اور نہ مالی لین دین اور کاروبار ہو گا لیکن وہ اللہ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے، قسم اللہ کی، ان کے چہرے (مجسم) نور ہوں گے، وہ خود پرنور ہوں گے انہیں کوئی ڈر نہ ہو گا جب کہ لوگ ڈر رہے ہوں گے، انہیں کوئی رنج و غم نہ ہو گا جب کہ لوگ رنجیدہ و غمگین ہوں گے‘‘ اور آپ ﷺ نے سورۃ یونس کی آیت نمبر 26تلاوت فرمائی:’’یاد رکھو اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی باہمی محبت اور عداوت اپنی رضا کی خاطر نصیب فرمائے۔ آمین