اسلام میں نکاح مسنونہ کے احکام
’’چار چیزیں انبیاء کی سنتیں ہیں،حیاء ،خوشبو ،مسواک اور نکاح‘‘(جامع ترمذی)
نکاح نسل انسانی کی بقاء کا ذریعہ اور خواہش نفسانی کی تکمیل کا مہذب طریقہ ہے۔ مذہب اسلام میں اسے عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت سے نبی کریمﷺ کا فرمان ہے’’نکاح اعلانیہ طور پر کرو اور مسجد میں اس کا اہتمام کرو‘‘(صحیح بخاری)۔ خود نبی کریم ﷺ نے افضل المساجد یعنی مسجد حرام میں حرم کعبہ کے سائے میں حضرت میمونہ ؓ سے نکاح کیا تھا۔ نیز اس پرمسرت موقع پر خطبہ مسنونہ کے ذریعے خدا اور اس کے رسولﷺ کی حمد و ثناء اور قول سدید اور تقویٰ ورع کی نصیحت نکاح کے مذہبی تشخص کو اجاگر کرتی اوراس کے عبودیت کے پہلو کوعیاں کرتی ہے۔
اللہ رب العزت نے انسان کو رشتوں کی جس خوبصورت لڑی میں پرویا ہے ان میں سب سے اہم رشتہ عقد نکاح کے ذریعہ زوجین میں طے پانے والی نسبت ہے۔ یہی وہ ناطہ ہے جو ابتدائے آفرینش میں سب سے پہلے وجود میں آنے والا اور فنائے عالم کے بعد بہشت بریں میں سدا قائم رہنے والا ہے۔ اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں اس رشتے کونسبی رشتے کے ساتھ مقام نعمت میں ذکر فرمایا ہے۔سورۃ الفرقان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اوروہ (اللہ) ایسی ذات ہے جس نے پانی سے انسان کو پیدا کیا اوراس کو خاندان والا اور سسرال والا بنایا‘‘۔
ارشاد ربانی ہے ’’اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو،دَر حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے، جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے۔ یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے‘‘ (سورۃ الحجرات)۔ دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے ’’اس کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہارے ہی وجود سے جوڑے پیدا فرمائے، تاکہ تم اس جوڑی کے ذریعے سکون حاصل کرسکو اور تمہارے درمیان اپنی قدرت سے محبت اور رحمت کا بیج بودیا‘‘ (الروم:21)۔
ایک بیوی جب پنج وقتہ نماز کی پابندی کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی خدمت کرے تو اس کو اجازت ہے کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے‘‘(حلیہ ابو نعیم)۔حدیث نبوی ﷺ ہے کہ ’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تم سب میں سب سے زیادہ اچھا ہوں‘‘۔ ایک اور حدیث میں فرمان نبوی ﷺ ہے کہ ’’گھر میں تندخو، سخت مزاج یا فوجی بن کر نہ رہو، بلکہ اُن کے ساتھ اچھے سے پیش آؤ اور کوئی اگر باہر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو، لیکن گھر میں برا ہے تو وہ برا ہے۔گھر والوں کے ساتھ اچھا سلوک رکھے اور اس نیت سے رکھے کہ یہ بھی عبادت کا حصہ ہے اور مجھے اس حسن سلوک پر نیکیاں مل رہی ہیں‘‘(سنن الترمذی: 3895)۔ اسی طرح رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’نکاح میری سنت ہے، جس نے میری سنت سے رُوگردانی کی، وہ ہم میں سے نہیں‘‘(متفق علیہ، بخاری و مسلم)۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مسکین ہے، مسکین ہے وہ مرد جس کی بیوی نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا اگرچہ وہ بہت مال والا ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں! اگرچہ وہ بہت مال والا ہو‘‘۔ پھر فرمایا ’’مسکین ہے، مسکین ہے وہ عورت جس کا خاوند نہ ہو۔ لوگوں نے عرض کیا اگرچہ بہت مال دار ہو تب بھی وہ مسکین ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ہاں! اگرچہ مال والی ہو‘‘ (مجمع الزوائد)۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’خدا کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی نگہداشت کرنے والا ہوں، مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، اور رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور میں عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جو میری سنت سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘ (صحیح بخاری)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جو شخص نکاح کرنے کی طاقت ہونے کے باوجود نکاح نہ کرے، وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘ (مجمع الزوائد)۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا ایک متاع ہے اور اس دنیا کی سب سے قیمتی متاع نیک بیوی ہے (مسلم شریف)۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے جوانو کی جماعت! تم میں جو شخص خانہ داری (نان ونفقہ) کا بوجھ اٹھانے کی قدرت رکھتا ہو اس کو نکاح کرلینا چاہیے، کیونکہ نکاح کو نگاہ کے پست ہونے اور شرمگاہ کے محفوظ رہنے میں خاص دخل ہے۔ جو شخص قدرت نہ رکھتا ہو اس کو روزہ رکھنا چاہیے‘‘(مسلم شریف)۔
جامع ترمذی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’چار چیزیں انبیاء کی (متفقہ ) سنت ہیں،حیاء ،خوشبو ،مسواک اور نکاح‘‘۔
نکاح چونکہ ہر امیرو غریب اورمردوزن کی یکساں بشری ضرورت ہے،اس لئے شریعت اسلامیہ نے اس کو سادگی کے ساتھ منعقد کرنے اورخوامخواہ کے تکلفات سے دور رکھنے کی ہدایت کی ہے۔شعب الایمان میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے نبی کریمﷺ کافرمان ہے’’سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم تکلف ہو‘‘۔ بدقسمتی سے سادگی اور بے تکلفی کی اس اہم دینی ہدایت کو ہمارے مسلم معاشرے میں یکسر نظرانداز کرکے اس طبعی اورفطری عمل کومشکل سے مشکل تر بنادیا گیا ہے۔آج کل بیسیوں قسم کی غیرعقلی اور غیرشرعی رسومات ادا کی جا رہی ہیں جن کے بغیر نکاح کی تقریب کونامکمل متصور کیا جاتا ہے۔ ان رسومات کا نقصان یہ ہے کہ ان کی ادائیگی کیلئے مطلوب رقم نہ ہونے کی وجہ سے قوم کی لاکھوں بچیاں نکاح کی عمرسے متجاوزہوجاتی ہیں اورشوہر کی صورت میں ایک محفوظ سائبان سے محروم رہ جاتی ہیں۔شادی جیسی حرمت والے معاملے کو اللہ کے احکامات اور رسول اکرمﷺ کی سنت کے مطابق انجام دیا جائے تو معاشرے کو بہت بڑے بگاڑ سے بچایا جا سکتا ہے۔