رشوت :معاشرے کا بڑھتا ناسور
’’رشوت لینے والے اوردینے والے پراللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے‘‘(سنن ابن ماجہ) ’’رشوت لینے اور دینے والا دونوں دوزخ میں جائیں گے‘‘ ( معجم طبرانی)
رشوت بد عنوانی کی ایک خاص قسم ہے جس میں پیسے یا تحفہ دینے سے وصول کنندہ کا طرزِ عمل تبدیل ہوتا ہے۔ رشوت کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ قانونی لغتی معنوں میں کسی سرکاری افسر یا کسی عوامی یا قانونی امور کے مجاز کے عمل کو متاثر کرنے کیلئے کسی قدر کی شے کی پیشکش، دینا، وصولی یا مانگنا رشوت کہلاتا ہے۔ رشوت کا مقصد وصول کنندہ کے اعمال پر اثر انداز ہونا ہوتا ہے۔ رشوت پیسہ، چیز، جائیداد، ترجیح، استحقاق، معاوضہ، قدر کی شے، فائدہ یا محض کسی سرکاری یا عوامی اہلکار کے عمل یا ووٹ پر اثر انداز ہونے یا ترغیب دینے کا وعدہ یا عہد، کسی بھی شکل میں دی جا سکتی ہے۔ بد ترین قسم کی رشوت وہ ہے جو قیدیوں کے لواحقین سے وصول کی جاتی ہے اور اس کے بدلے قیدیوں سے بدسلوکی نہیں کی جاتی۔
آج جبکہ زمانہ بہت تیزی کے ساتھ ترقی کررہا ہے اورآئے دن نت نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں،ایسے میں رشوت کی کسی خاص شکل وصورت کو متعین نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صرف کاغذکے چند نوٹوں کے لین دین کو رشوت کا نام دیا جاسکتا ہے ، بلکہ زمانہ اورحیثیت کے اعتبارسے رشوت کی شکلیں بھی مختلف ہوتی رہتی ہیں۔ چنانچہ اگرکوئی عام آدمی کسی کلرک کورشوت دیتاہے تووہ وہ چندنوٹوں کی شکل میں ہوتی ہے،لیکن اگریہی رشوت کوئی خاص آدمی کسی بڑے عہدہ دار، مثلاً وزیریاکسی بڑے صاحب منصب کو دیتاہے تووہ کبھی بنگلہ، موٹر کار یا پھر کسی بیرون ملک کے سیاحتی ٹکٹ وغیرہ کی شکل میں ہوتی ہے، جسے وہ ہدیہ یا نذرانہ کا خوبصورت نام دیتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ رشوت کی ترقی یافتہ شکل ہوتی ہے، اس لئے صرف کاغذکے چند نوٹوں کے لین دین ہی کو رشوت کا نام نہیں دے سکتے ،بلکہ اس کے علاوہ بھی ہروہ شے جواپنے جائزیاناجائزمقاصدکوحاصل کرنے کیلئے کسی اہل منصب کودی جائے رشوت کہلائے گی۔
رشوت کی مذمت پر قرآن و حدیث میں بڑی سخت سے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِ رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم (بھی) ناجائز طریقے سے کھا سکو حالاں کہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)‘‘(سورۃ البقرہ)۔ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’(اے پیغمبر) یہ لوگ جھوٹے سننے والے اور حرام مال (رشوت) کھانے والے ہیں‘‘(سورۃ المائدہ)۔
اسی طرح احادیث نبویہ میں حضور ﷺفرماتے ہیں : ’’رشوت لینے والے اوردینے والے پراللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے‘‘ (ابن ماجہ)۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ ’’رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں دوزخ میں جائیں گے‘‘ ( معجم طبرانی)۔ ایک جگہ ارشاد ہے: ’’جو بھی گوشت پوست ’’مالِ سُحت‘‘ (مال رشوت )سے بڑھتا اور پروان چڑھاتا ہے اُس کیلئے دوزخ کی آگ ہی زیادہ موزوں ہے۔حضرت ام سلمہ ؓفرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : ’ ’میں بہرحال ایک آدمی ہی تو ہوں! ہوسکتا ہے کہ تم ایک مقدمہ میرے پاس لائو اور تم میں سے ایک کاذب فریق دوسرے کی بہ نسبت زیادہ شیریں کلام اور چرب زبان ہو اور اس کے دلائل سن کر میں اُس کے حق میں فیصلہ کردوں مگر یہ سمجھ لو کہ اگر اس طرح اپنے کسی بھائی کے حق میں سے کوئی چیز تم نے میرے فیصلہ کے ذریعہ سے حاصل کی تو دراصل تم دوزخ کا ایک ٹکڑا حاصل کروگے (بخاری و مسلم) ۔حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور امام ابو دائود نے حضرت عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضور ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’فیصلہ کرنے کے سلسلے میں رشوت لینے اور دینے والے پر آپﷺنے لعنت فرمائی‘‘ (ترمذی، احمد ، ابن حبان)۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے فیصلے کے سلسلے میں رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔( ابن ماجہ)
مذکورہ بالا تمام احادیث رشوت کی حرمت اور اُس کے عدم جواز پر صراحت کے ساتھ دلالت کر رہی ہیں، اس لئے کہ لعنت یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دُوری کسی عظیم گناہ کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رشوت کبیرہ گناہ ہے اور اس کے مرتکب کو جہنم کی وعید سنائی گئی ہے۔
اسلام کی نظرمیں جس طرح رشوت لینے اوردینے والاملعون اوردوزخی ہے، اسی طرح اس معاملہ کی دلالی کرنے والابھی ملعون ہے۔ حضرت ثوبان ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے رشوت لینے اوردینے والے اوررشوت کی دلالی کرنے والے سب پرلعنت فرمائی ہے‘‘ (احمدو طبرانی)۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺفرماتے ہیں کہ قاضی کاکسی سے رشوت لے کراس کے حق میں فیصلہ کرناکفرکے برابرہے،اورعام لوگوں کاایک دوسرے سے رشوت لینا حرام کمائی ہے(طبرانی)
علامہ سیدسلیمان ندوی رحمہ اللہ نے اسلام سے قبل زمانۂ جاہلیت میں رشوت کے چلن پرروشنی ڈالتے ہوئے لکھاہے کہ عرب کے کاہن اپنی مفروضہ غیبی طاقت کی بناپربعض مقدموں کے فیصلے کرتے تھے،اہل غرض ان کواس کیلئے مزدوری یارشوت کے طورپرکچھ نذرانہ دیتے تھے،اس کوحلوان کہتے تھے۔اسلام آیا تو اوہام کا یہ دفترہی اڑگیا،اس پربھی نبی کریمﷺ نے کاہن کے حلوان کی خاص طورسے ممانعت فرمائی ۔(جامع ترمذی)
رشوت انسانی سوسائٹی کیلئے ایک ایسا رستا ہوا ناسور اور مہلک مرض ہے جو اُسے موت کی ہلیز پر لاکر کھڑا کردیتا ہے ۔ اور اُس کے امن وامان اور راحت و سکون کو اختلاف و افتراق اور انتشار و خلفشار میں بدل دیتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرتی زندگی میں اخوت و محبت اور ہمدردی و بھائی چارگی کے رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں اور اُن کی جگہ بغض و نفرت اورعداوت و شقاوت کے کانٹے اگنے لگتے ہیں، جس میں معاشرہ اور سوسائٹی کا امن و سکون بہت بری طرح سے اُلجھ کر تار تار ہوجاتا ہے۔