پنجابی لوک داستانوں کے فارسی تراجم کا جائزہ

تحریر : ڈاکٹر منیر گجر


تاریخ کے دائروی چکر پر نگاہ کی جائے تو پنجاب شروع ہی سے مغرب کی طرف سے وارد ہونے والے حملہ آوروں کی گزرگاہ رہا ہے۔ 1221ء میں خوارزم کے شہزادے جلال الدین کا تعاقب کرتے ہوئے چنگیز خان دریائے اٹک کے کنارے تک آیا تو منگولوں نے ہندوستان کا راستہ دیکھا۔

 اس کے بعد کے ڈھائی سو سال پنجاب حملہ آوروں کی زد میں آیا اور ایسا زد میں آیا کہ ہر طرف تباہی و بربادی پھیل گئی۔ بابر کے آنے سے حالات کچھ سنبھلے اور حملہ آوروں کی مستقل آمد میں کچھ وقفہ آیا۔ یوں اس سارے عمل سے ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی جو اٹھارہویں صدی تک کسی نہ کسی صورت اپنا وجود برقرار رکھتی ہے۔ ان حملہ آوروں کے ساتھ ٹکر لینے والے دہلی کے سلاطین میں سے بلبن اور علاء الدین کے نام نمایاں ہیں لیکن اس کام کے لیے حکمرانوں کو بڑی بڑی فوجیں رکھناپڑیں۔ ان حالات میں نئی سرکار کی طرف سے خطہ پنجاب کے باسیوں کوفارسی زبان اپنانے کا حکم ملا۔ یوں جہاں فارسی در بار سرکار کی زبان بنی وہیں اس نے مقامی آبادیوں کی محبوب زبان پنجابی پر بھی اثر ڈالا۔ فوجا سنگھ لکھتے ہیں کہ ہندوستان کی سرزمین پر محمود کا اصل کارنامہ ہندوستان اور ایران کی زبانوں کے درمیان لسانیاتی روابط کا قیام ہے جس میں پنجابی نے بڑی شان کے ساتھ فارسی زبان اور فارسی شاعری کے اثرات قبول کیے جس کے باعث دونوں زبانوں نے نئے احساس کو اپنے کلی مزاج کا حصہ بنایا جس نے آگے چل کر اس خطے کے تخلیقی مزاج کو خاصی حد تک متاثر کیا۔

ایک تو حکمران طبقے کی زبان ہونے کی وجہ سے اور دوسرا مسلمانوں کے اس زبان ( فارسی ) کے ساتھ گہرے مذہبی اور تاریخی روابط کی وجہ سے یہ نو وارد زبان خطہ پنجاب کے انفرادی اور اجتماعی رویوں پر بہت جلد اثر انداز ہوئی۔ اس فوری اثر کے سبب قومی اور ملی سطح پر بہت سا ادب فارسی میں تخلیق کیا گیا۔ اس نئے تخلیقی رجحان کی وجہ سے فارسی شعراکا دھیان مقامی دانش کی نمائندہ لوک داستانوں کی طرف بھی گیا اور ان تخلیق کاروں نے پنجابی قصوں کو نئی رواج پاتی فارسی زبان میں لکھنا شروع کیا۔ پنجاب کے لگ بھگ سبھی لوک قصے جیسے ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال اور مرزا صاحباں فارسی کے تخلیقی استعارے میں ڈھالے گئے۔ اس نئے منظر نامے میں سب سے زیادہ جو قصہ فارسی شعراکی توجہ کا مرکز بنا وہ پنجاب کی لوک داستان ہیر رانجھا کی رومانوی کہانی ہے۔ اب تک لگ بھگ اٹھارہ شعرانے اس کہانی کو فارسی میں شعری قالب میں منتقل کیا۔ ان میں سے کئی شعراایسے ہیں جو حملہ آوروں کے ساتھ یا ان کے بنائے راستوں پر چل کر یہاں آئے اور کچھ یہاں کے مقامی شعراتھے جنہوں نے فارسی زبان کو تخلیقی عمل کے لیے ذریعہ اظہار بنایا۔ باقی کولابی جو مقامی تو نہ تھا مگر اس سلسلے کا پہلا تخلیق کار ہے جس نے فارسی زبان کی قوت کو اظہار کا وسیلہ بنایا اور ہیر رانجھا کے قصے کو فارسی زبان میں منتقل کیا۔

یہ بخارہ کے جنوب میں ایک گاؤں کولاب کا رہنے والا تھا۔ عہد اکبری میں ہندوستان رہا اور 1579ء میں جونپور میں معصوم خان کا بلی کی بغاوت کے وقت مارا گیا ۔ اس نے مثنوی ہیرو رانجھا، لکھی۔ اس مثنوی سے ہی اس کا مکمل نام حیات جان سامنے آتا ہے۔ باقی کے مالی حالات کچھ اچھے نہیں تھے لیکن اسے اپنی شعری خوبیوں پر بہت فخر تھا۔ اس بات کی گواہی اس کے شعروں سے ملتی ہے۔ باقی نے ہیر رانجھے کا قصہ کب نظمایا اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ متعین نہیں ہو سکی لیکن اس کے کلام میں سے ملے اشاروں سے 1575ء اور1579ء کا درمیانی عرصہ اس کا قصہ ہیر لکھنے کا عرصہ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد باقر لکھتے ہیں :مولانا باقی کی مثنوی ہیر رانجھا کی صحیح تاریخ تصنیف معین کرنا ممکن نہیں۔ البتہ شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا سن تصنیف 983ھ اور 987ھ کے بین بین ہے۔ لیکن یہ بھی صرف ایک قیاس ہے۔ شاعر اکبر کی حدودسلطنت کا ذکر اس انداز سے کرتا ہے کہ گمان ہوتا ہے کہ وہ بنگال فتح کر چکا تھا۔ اور یہ 983ھ کا واقعہ ہے۔ لیکن چونکہ مولانا خود 987ھ کے بعد بقید حیات نہ تھے اس لیے یہ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ مثنوی اس سے پہلے ہی اختتام کو پہنچ چکی تھی، لہٰذا اس کی تاریخ تصنیف 983ھ اور987ھ کے بین بین قرار پائی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...

اب ایسے نہیں چلے گا !

اسلام آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ وہ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کا ماضی میں تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ شہر ِاقتدار میں پہلی مرتبہ اشرافیہ کے غیر قانونی منصوبوں کے خلاف کارروائیاں ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

کرپشن الزامات اور سیاسی محرکات!

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کی جانب سے پنجاب حکومت پر کرپشن کے الزامات نے پنجاب کے سیاسی محاذ پر نئی صورتحال طاری کر دی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس پر پانچ ارب روپے کا نوٹس بھجوادیا ہے۔

کھمبوں سے کچھ آگے بھی سوچیے!

سندھ حکومت آج کل کمال پر کمال کر رہی ہے اور میڈیا ہو یا سوشل میڈیا حیدرآباد اور سکھر چھائے ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں نے برسوں سے خبروں کی زینت رہنے والے کراچی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پختونخوا میں نئی صف بندی ؟

خیبر پختونخوامیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے۔مولانا فضل الرحمان کی جانب سے حال ہی میں دئیے گئے سخت بیانات کو محض غصے سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

خوشحال بلوچستان، مضبوط پاکستان

بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار استحکام کا راستہ نفرت اور انتشار سے نہیں بلکہ تعلیم، امن، جمہوری رویوں، میرٹ، شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود سے گزرتا ہے۔

وزیر اعظم کا دورۂ راولا کوٹ

آزاد جموں و کشمیر میں ایک طرف وزیراعظم افتخار گیلانی حکومت کے آئینی اختیارات کے تحفظ، عوامی مسائل کے حل اور آزاد کشمیر کے اداروں پر اعتماد کی بحالی کی بات کرتے دکھائی دیئے تو دوسری جانب پونچھ کی صورتحال، سیاسی اختلافات اور آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت سے متعلق گردش کرتی اطلاعات نے سیاسی ماحول کو موضوعِ بحث بنائے رکھا۔