اخلاص: عبادات اور اعمال کی اصل روح
’’آپ اللہ کی عبادت اس کیلئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریں‘‘(الزمر)
اخلاص تمام اعمال کی روح ہے اور وہ عمل جس میں اخلاص نہ ہواُس جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو، گویا اخلاص عبادات وا عمال میں روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر انسان کابنیادی مطمع نظر یہی ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اس کی رضاکو حاصل کرے اور جنت کا دخول انھیں نصیب ہو، اس مقصدکیلئے اخلاص کا ہونا ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال کاحسن معتبرہے نہ کہ محض کثرت، جیسا کہ ارشادباری تعالیٰ ہے : لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ احْسَنُ عَمَلاً (الملک) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اَعمال کے حسن کو جانچنے کا تذکرہ کیا ہے، کثرت کا نہیں،چنانچہ اعمال کی قبولیت اور اس پراجروثواب کے حصول کیلئے اس میں روحانیت واخلاص اور کیفیت کااعتبار ہے نہ کہ محض تعدادیاقلت وکثرت کا۔ حضرات مفسرین نے آیت کے لفظ’’اَحْسَنَ عَمَلاً‘‘ کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ اس سے وہ عمل مراد ہے جو اخلاص پر مبنی ہو اور شریعت کے مطابق ہو۔
اس آیت کے پیش نظر علماء محققین نے اعمالِ صالحہ کی قبولیت کیلئے دو شرطیں ذکر کی ہیں: (1)اخلاص یعنی وہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے کیاجائے،(2)اتباعِ سنت یعنی وہ عمل قرآن وسنت کی تعلیمات کے موافق ہو۔ بدعت یاکسی اور طرح سے خلاف شرع نہ ہو۔
اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل سے محض اللہ واحد کی قربت کا طالب ہو،اہل علم نے اخلاص کی کئی تعریفیں ذکر کی ہیں جو ایک دوسرے سے قریب قریب ہیں۔ایک تعریف یہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اطاعت میں تنہا مقصود جاننا اخلاص کہلاتا ہے ۔دوسری تعریف یہ کی گئی ہے کہ اخلاص یہ ہے کہ بندہ کے اعمال ظاہر و باطن ہر دو صورت میں برابر ہوں اور ریاکاری یہ ہے کہ بندے کا ظاہر اس کے باطن سے بہتر اور اچھاہو، اور سچا اخلاص یہ ہے کہ بندے کا باطن اس کے ظاہر سے زیادہ پختہ اور پائیدار (بارونق)ہو۔تیسری تعریف یہ کی گئی ہے کہ عمل کو ہر طرح کی آمیزش سے پاک وصاف رکھنا اخلاص کہلاتا ہے۔(مدارج السالکین از ابن قیم رحمہ اللہ )
مذکورہ تعریفوں سے واضح ہوا کہ اخلاص، عمل کو اللہ واحد کی طرف پھیرنے اور اس سے قربت حاصل کرنے کا نام ہے، جس میں کوئی ریا ونمود، زائل ہونے والے ساز و سامان کی طلب اور بناوٹ نہ ہو،بلکہ بندہ صرف اللہ واحد کے ثواب کی امید کرے، اس کے عذاب سے ڈرے اور اس کی رضا مندی کا حریص ہو۔اسی لئے امام قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’لوگوں کی وجہ سے عمل ترک کردینا ریاکاری اور لوگوں کی خاطر عمل کرنا شرک ہے ۔اور اخلاص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان دونوں چیزوں سے عافیت میں رکھے ۔(مدارج السالکین از ابن قیمؒ )
اخلاص ایک ایسی کیفیت ہے جو عمل کو اہمیت بخشتی ہے اور عمل کی قبولیت کیلئے نہایت ضرورت کی حامل ہے۔ قرآن مجید میں اخلاص کا حکم دیتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک ہم نے آپ کی طرف (یہ) کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے تو آپ اللہ کی عبادت اس کیلئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریں‘‘(الزمر: 2)۔ اس آیت مبارکہ میں مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے اپنی عبادات کو اخلاص سے مزین کرو۔
اخلاص کی ضد ریا اور دکھلاوا ہے آقا ﷺنے دکھلاوے اور ریا کاری سے متعلق فرمایا کہ جس نے دکھلاوے کیلئے نماز پڑھی اس نے شرک کیا اور جس نے دکھلاوے کیلئے روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے صدقہ وخیرات دکھاوے کیلئے کیا اس نے شر ک کیا۔اسی طرح متفقہ علیہ حدیث ہے کہ جو شخص کوئی عمل سنانے اور شہرت کیلئے کرے گا اللہ تعالیٰ اسے شہرت دے گا اور جو کوئی عمل دکھاوے کیلئے کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دکھا دے گا۔
ترمذی میں ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگو جُبّْ الحَزنِ (غم کے کنویں) سے پناہ مانگو۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جُبّْ الحَزنَ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے(اس کا حال اتنا برا ہے کہ) خود جہنم ہر دن میں چار سو مرتبہ اس سے پناہ مانگتی ہے۔ عرض کیا گیا یارسول اللہ ﷺ اس میں کون لوگ جائیں گے؟ آپﷺ نے فرمایاوہ بڑے عبادت گزار اور زیادہ قرآن پڑھنے والے جو دوسروں کو دکھانے کیلئے اچھے اعمال کرتے ہیں۔
اخلاص کے بڑے اچھے ثمرات و فوائد ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں اخلاص کے فضائل و ثمرات میں سے ہیں۔ اخلاص اعمال کی قبولیت کا سب سے عظیم سبب ہے ،بشرطیکہ نبی کریم ﷺکی اتباع شامل ہو۔اخلاص کے نتیجہ میں بندے کو اللہ کی اورپھر فرشتوں کی محبت حاصل ہوتی ہے اور زمین (والوں کے دلوں)میں اس کی مقبولیت لکھ دی جاتی ہے ۔اخلاص عمل کی اساس اور اس کی روح ہے ۔ اخلاص تھوڑے عمل اور معمولی دعا پر بیش بہا اجر اور عظیم ثواب عطا کرتا ہے ۔ مخلص کا ہر عمل جس سے اللہ کی خوشنودی مقصود ہو لکھا جاتا ہے ، وہ عمل مباح ہی کیوں نہ ہو۔ مخلص جس عمل کی بھی نیت کرے لکھ لیا جاتاہے اگر چہ اسے انجام نہ دے سکے ۔ مخلص اگر سو جائے یا بھول جائے تو معمول کے مطابق جو عمل کرتا تھا اسے لکھا جاتاہے ۔ اگر مخلص بندہ بیمار ہو جائے یا حالت سفر میں ہو تواس کے اخلاص کے سبب اس کیلئے وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ حالت اقامت وصحت میں کیا کرتا تھا۔ اخلاص کے سبب اللہ تعالیٰ امت کی مدد فرماتا ہے۔ اخلاص آخرت کے عذاب سے نجات دلاتا ہے ۔ دنیا و آخرت کی مصیبتوں سے نجات اخلاص کے ثمرات میں سے ہے ۔ اخلاص کے سبب آخرت میں درجات کی بلندی حاصل ہوتی ہے ۔ دعاؤں کی قبولیت حاصل ہوتی ہے ۔جنت میں داخلہ اور جہنم سے نجات عطاہوتی ہے۔( اخلاص کے ثمرات اور ریاکاری کے نقصانات از شیخ سعید بن علی بن وھف القحطانی)۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب باتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے(آمین )