سندھ میں امن وا مان کی بحالی کا ٹاسک
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے نئے آئی جی جاوید عالم اوڈھو کو کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن جاری رکھنے اور کراچی سے سٹریٹ کرائم کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کرنے کا کہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایات پر عملدرآمدکے لیے آئی جی سندھ اپنے پہلے دورے پر اندرون سندھ پہنچے ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کچے کو پرامن علاقے میں تبدیل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے اور جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ اس سے قبل آئی جی کو کچے کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ آئی جی جاوید عالم اوڈھو کو کراچی کے حالات کا بخوبی ادراک ہے جہاں ڈاکوؤں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ابھی چند روز پہلے بفرزون کے علاقے میں 18سالہ نوجوان کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کردیا گیا۔ اس نوجوان نے قسطوں پر خریدے گئے اپنے موبائل فون کو ڈاکوؤں سے بچانے کی کوشش کی تو ڈاکوؤں نے بے گناہ نوجوان کو قتل کردیا۔ پولیس اپنی سی کوشش کر رہی ہے، آئے روز مقابلے بھی ہوتے ہیں جن میں مبینہ ڈاکو ہلاک یا زخمی ہورہے ہیں لیکن واقعات میں اس تیزی سے کمی نہیں آرہی جس کا عوام مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر شہر میں پولیس اہلکاروں کی تعداد کم ہے تو نئی بھرتیاں کی جانی چاہئیں۔ پولیس گشت میں بھی اضافہ کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس ہو۔
یہاں سکیورٹی اداروں کی تعریف بے جا نہ ہوگی جنہوں نے دو ٹن سے زائد بارودی مواد برآمد کر کے کراچی میں دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی کو ناکام بنایا۔ تین دہشت گردوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا جن کا کالعدم بی ایل اے کے مجید بریگیڈ سے تعلق بتایا گیا ہے۔ یہ دہشت گرد ایک ایسے اہم مقام کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہے تھے جس میں خداناخواہستہ وہ کامیاب ہوجاتے تو اس کے اثرات معیشت سمیت ایسے بھیانک ہوتے جس کو سوچ کر ہی آدمی کانپ جاتا ہے۔ دہشت گردوں نے افغانستان سے بارودی مواد پہلے بلوچستان اور پھر تھوڑا تھوڑا کرکے کراچی منتقل کیا۔ صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے یقین دلایا ہے کہ دہشت گردوں کے پورے نیٹ ورک کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلوچستان سے کراچی تک چیکنگ میں کوتاہی برتی گئی یا دہشت گردوں نے کوئی دوسرا طریقہ یا راستہ استعمال کیا؟ سکیورٹی اداروں کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔
ادھرصوبائی حکومت اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے اعلانات سے لگ رہا ہے کہ جلد ہی کراچی کی قسمت بدلنے والی ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں برس کراچی پر 46ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ تاریخی ورثہ بحال کیا جائے گا اور تاریخی بازاروں کی بحالی سے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا۔ میئر کراچی کے مطابق شارع فیصل پر سولر لائٹس لگائی گئی ہیں جن پر ایک ارب روپے لاگت آئی ہے، اس سے بجلی کے بل میں سالانہ ڈھائی کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ شہر کا پیسہ شہر پر ہی لگایا جارہا ہے۔ نفرت پر مبنی سیاست اور بیانات یا سستے نعروں سے تاریخ نہیں بدلی جاسکتی۔ شہر کے مسائل سے پیپلز پارٹی پہلے غافل رہی اور نہ آج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی، سیوریج، سڑکیں اور انفراسٹرکچر کے مسائل گزشتہ شہری حکومتوں کی غفلت کا نتیجہ ہیں۔
کراچی کی بدتر صورتحال پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے کراچی بچاؤ مہم کا اعلان کردیا ہے۔ فاروق ستار کے مطابق ملکی بقا اور سلامتی کراچی سے وابستہ ہے، اگر پاکستان کو بچانا ہے تو پہلے کراچی کو بچانا ہوگا۔ اس شہر کو فعال کردار دینا ہوگا ‘جو کہ ماضی میں اس کی پہچان تھی۔فاروق ستار نے کہا کہ ڈمپر اور کھلے گٹروں سے جانوں کا زیاں ہو رہا ہے لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے ایم ڈی کیٹ کے سسٹم پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کوٹہ سسٹم ملک کو تاریک کررہا ہے۔ صوبائی حکومت اور میئر کے دعوے اور ایم کیو ایم کی تنقید اپنی جگہ تاہم ایمانداری سے بات کریں تو اس وقت شہر کا برا حال ہے۔ 46ارب روپے کی رقم اللہ کرے شہر پر لگ جائے، مافیا کے ہاتھوں خورد برد نہ ہوجائے۔ سولر لائٹس پر ایک ارب روپے نے بھی ہوش اُڑا دیے۔ سالانہ ڈھائی کروڑ روپے بچانے کے لیے ایک ارب کا خرچ‘ حساب کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ میئر صاحب تاریخی ورثہ اور بازار ضرور بحال کریں، ساتھ میں سڑکیں بھی تو بنائیں، گٹر لائنیں بھی ڈالیں، گھر گھر پانی پہنچائیں۔ شہر کا پیسہ اگر شہر پر لگ رہا ہے تو نظر کیوں نہیں آتا؟ شہر میں بسیں چلانا اچھی بات ہے، یہ بالکل درست ہے کہ عوام کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کی شدید ضرورت ہے لیکن اس نظام کی باقاعدہ دیکھ بھال کی ضرورت ہے ورنہ جلد ہی یہ نظام کھٹارا بسوں کی شکل میں ڈمپ ہوجائے گا۔
یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اسی شہر میں کبھی کے ٹی سی اور پھر ایکسپریس بسیں چلا کرتی تھیں۔ کہاں گئیں وہ کروڑوں اربوں روپے کی بسیں؟ رہی بات ایم کیو ایم کی تنقید کی تو افسوس یہ ہے کہ کئی دہائیوں تک ایم کیو ایم صوبے اور وفاق میں حکومتوں کا حصہ رہی۔ اُس وقت کوٹا سسٹم کیوں ختم نہ کرایا؟ سیمنٹ سے بنے گٹر کے ڈھکنوں کا فرسودہ نظام ابھی تک رائج ہے، ایک بڑی گاڑی گزرتی ہے اور ڈھکن گٹر کے اندر۔ دنیا بھر میں ڈھکن کے نظام کا اگر انتظامیہ کو نہیں پتا تو اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، گوگل سرچ کرلیں۔ مضبوط اور ناقابلِ چوری ڈھکن کیسے لگائے جاتے ہیں، مضبوط اور پائیدار سڑکیں کیسے بنتی ہیں اور فٹ پاتھ کیسے بار بار کارآمد بنائے جاتے ہیں، سب کچھ موجود ہے، بس تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔