ایکشن کمیٹی معاہدے پر عملدرآمد،پیش رفت

تحریر : محمد اسلم میر


لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب بسنے والے کشمیری عوام نے پانچ جنوری کو یوم حقِ خود ارادیت اس عزم کے ساتھ منایا کہ اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت نہ ملنے تک وہ بھارت کے خلاف جدوجہد آزاد ی جاری رکھیں گے۔

 5جنوری 1949ء کو اقوامِ متحدہ نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا مگربھارت کی تو سیع پسندانہ سوچ اور ہٹ دھرمی سا ت دہائیوں سے زائد عرصے سے اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں شفاف اور منصفانہ رائے شماری کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور اس کے جواب میں بھارتی ظلم و جبر ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ 5اگست 2019ء جیسے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام پر جبر کی انتہا کر دی، اس کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ اپنے حقِ جمہور اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

 پانچ جنوری کو آزاد جموں و کشمیر میں بھارت مخالف ریلیاں نکالی گئیں اور جلسے و جلوس منعقد کئے گئے جن میں مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔یوم حقِ خود ارادیت کے موقع پر وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا داعی ہے، پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے لوگ جنگ و جدل نہیں چاہتے لیکن ہم یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ اپنے دفاع کا حق کیسے استعمال کرنا ہے۔ بھارت جنگی میدان میں پاکستان کی صلاحیت کا اندازہ کر چکا ہے لہٰذا بھارت وقت ضائع کئے بغیر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرار دادوں کے مطابق حقِ یعنی خود ارادیت دے۔ مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و جبر کسی قوم کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کر سکتا۔ مودی سرکار کو ان مظالم سے پسپائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔اہلِ پاکستان و آزاد جموں و کشمیر سفارتی، اخلاقی اور سیاسی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی حمایت جاری رکھیں گے۔ یوم حق خود ارادیت کے موقع پر ہم اقوامِ متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے، عالمی برادری اپنے وعدے پورے کرے اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموشی توڑ کر اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

 ادھر وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے گزشتہ جمعہ کو کہا کہ اُن کی حکومت کا مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کسی قسم کی محاذ آرائی کا کوئی ارادہ نہیں۔ حکومت نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پانے والے 39 نکاتی معاہدے پر 75 فیصد عملدرآمد کر دیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں پاکستان پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کی حمایت سے چوہدری انوار الحق کو عدم اعتماد کی تحریک منظور کر کے اقتدار سے بے دخل کیا اور 11 نومبر 2025ء کو فیصل ممتاز راٹھور وزیر اعظم بنے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے ڈیڑھ ماہ کے دوران آزاد جموں و کشمیر کے دو ڈویژنز میں بڑے عوامی اجتماعات کئے ہیں اور وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے واضع کیا کہ ان کی جماعت کی طرف سے اقتدار سنبھالنے کے بعد عوامی بے چینی میں واضح کمی آئی ہے اور وزیراعظم سیکرٹریٹ اور وزیراعظم ہاؤس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ گزشتہ ڈھائی برس کی حکومت نے عوام اور حکمرانوں کے درمیان خلیج پیدا کر دی تھی جسے موجودہ حکومت نے ختم کر دیا ہے، جس کے بعد آزاد کشمیر میں سیاسی گہما گہمی نظر آ رہی ہے۔ حکومت نے بہت کم عرصے میں عوام سے رابطہ استوار کیا ہے اور آزاد کشمیر میں بڑے عوامی اجتماعات کا انعقاد مثبت عوامی ردِعمل کی عکاسی کرتا ہے۔حکومتی حلقوں کے مطابق ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اگرچہ اس کے لیے تین ماہ کی مدت مقرر تھی تاہم حکومت نے زیادہ تر نکات ڈیڑھ ماہ میں مکمل کر لیے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نیک نیتی کے ساتھ معاملات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حکومت کی سوچ اور فکر کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کو بر وقت حل کرنے کے عملی مظاہرے سے آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کی سڑکیں جو کبھی سیاستدانوں کے لیے دشوار گزار تھیں، وہاں عوام استقبالی بینرز لیے موجود ہوتے ہیں۔ حکومت نے عوامی مفاد میں بلا تاخیر فیصلے کئے اور ڈیڑھ ماہ کے دوران پانچ کابینہ اجلاس اور اسمبلی سیشنز میں متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور اور ان کی کابینہ کے ارکان کی کارکردگی سے لگ رہا ہے کہ یہ حکومت سیاسی مقابلہ بازی کے بجائے عوامی مسائل کو حل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ عوامی اعتماد کی بحالی حکومت کی ترجیح دکھائی دے رہی ہے۔

 پاکستان پیپلز پارٹی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتی ہے جس کا جواب ابھی تک مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی نے نہیں دیا۔ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی اگر اس بار احتجاج کے لیے نکلے گی تو اسے سیاسی جماعتوں کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے مقابلے میں موجودہ وزیر اعظم نے ایسے اقدامات کئے ہیں جس سے انہیں عوام میں پزیرائی مل رہی ہے۔ اس مرتبہ عوامی ایکشن کمیٹی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ کے کارکنوں اور عام آدمی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے، جواب حکومتی نمائندوں کے رابطے میں ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عداوت اور محبت صرف اللہ کیلئے !

’’اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں‘‘ (سورۃ یونس) رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے،کہاں ہیں میرے وہ بندے جو میری عظمت اور میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرتے تھے؟ آج جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں، میں اپنے ان بندوں کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا‘‘ (صحیح مسلم)

اسلام میں نکاح مسنونہ کے احکام

’’چار چیزیں انبیاء کی سنتیں ہیں،حیاء ،خوشبو ،مسواک اور نکاح‘‘(جامع ترمذی)

رشوت :معاشرے کا بڑھتا ناسور

’’رشوت لینے والے اوردینے والے پراللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے‘‘(سنن ابن ماجہ) ’’رشوت لینے اور دینے والا دونوں دوزخ میں جائیں گے‘‘ ( معجم طبرانی)

اخلاص: عبادات اور اعمال کی اصل روح

’’آپ اللہ کی عبادت اس کیلئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کریں‘‘(الزمر)

مسائل اور اُن کا حل

وکیل کا زکوٰۃ کی رقم خود استعمال کرنا:سوال :اگر کسی نے کسی کو زکوٰۃ کی رقم دی اور یہ کہا کہ اسے مستحق تک پہنچادو۔ اگر وکیل خود مستحق زکوٰۃ ہو تو کیا وہ یہ رقم استعمال کرسکتا ہے ؟(نعیم سرور، فیصل آباد)

تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں بڑی رکاوٹ

ملک میں سیاسی استحکام کے لیے حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کے بعد کئی اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں مگر اس کے باوجود مذاکراتی عمل تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آتا ہے۔