چھوٹا بندر
ایک بار ایک چھوٹا بندر پہاڑ سے نیچے اترا اور مکئی کے کھیت میں پہنچ گیا۔ مکئی کے بہت سے بڑے بڑے خوشے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اوراس نے ان سے ایک گٹھی بھر کر اٹھا لی۔
جیسے ہی وہ آگے چلا، اسے ایک آڑو کا درخت نظر آیا جو بڑے بڑے سرخ آڑوؤں سے لدا ہوا تھا۔ اس نے مکئی پھینک دی اور دو آڑو توڑ لیے۔ آڑو اتنے بڑے تھے کہ اسے ایک ہاتھ میں ایک ہی پکڑنا پڑا۔
آڑو پکڑے ہوئے وہ آگے بڑھا تو اسے تربوزوں کا کھیت نظر آیا۔ اسے فوراً سمجھ آیا کہ تربوز آڑوؤں سے کہیں بڑے ہیں۔ اس لیے اس نے آڑو پھینک دیے اور سب سے بڑے تربوز کی طرف چل پڑا۔
اچانک اس نے ایک چھوٹا سا خرگوش اچھلتا ہوا دیکھا۔ وہ تربوز چھوڑ کر خرگوش کے پیچھے جنگل میں دوڑ پڑا۔کافی دیر تک خرگوش کا پیچھا کرنے کے بعد بندر تھک ہار کر رک گیا۔ اب وہ گہرے جنگل میں کھو چکا تھا اور اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔