چھوٹا بندر

تحریر : ملک احسن اعوان(راولپنڈی)


ایک بار ایک چھوٹا بندر پہاڑ سے نیچے اترا اور مکئی کے کھیت میں پہنچ گیا۔ مکئی کے بہت سے بڑے بڑے خوشے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا اوراس نے ان سے ایک گٹھی بھر کر اٹھا لی۔

جیسے ہی وہ آگے چلا، اسے ایک آڑو کا درخت نظر آیا جو بڑے بڑے سرخ آڑوؤں سے لدا ہوا تھا۔ اس نے مکئی پھینک دی اور دو آڑو توڑ لیے۔ آڑو اتنے بڑے تھے کہ اسے ایک ہاتھ میں ایک ہی پکڑنا پڑا۔

آڑو پکڑے ہوئے وہ آگے بڑھا تو اسے تربوزوں کا کھیت نظر آیا۔ اسے فوراً سمجھ آیا کہ تربوز آڑوؤں سے کہیں بڑے ہیں۔ اس لیے اس نے آڑو پھینک دیے اور سب سے بڑے تربوز کی طرف چل پڑا۔

اچانک اس نے ایک چھوٹا سا خرگوش اچھلتا ہوا دیکھا۔ وہ تربوز چھوڑ کر خرگوش کے پیچھے جنگل میں دوڑ پڑا۔کافی دیر تک خرگوش کا پیچھا کرنے کے بعد بندر تھک ہار کر رک گیا۔ اب وہ گہرے جنگل میں کھو چکا تھا اور اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 22)

ازواج مطہرات کا مقام:بائیسویں پارے کے شروع میں ازواجِ مطہراتؓ سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کا مقام امتیازی ہے۔ سو تقویٰ اختیار کرو‘ غیر محرم مردوں کے ساتھ نرم لہجے میں بات نہ کرو اور ضرورت کے مطابق بات کرو‘ اپنے گھروں پر رہو اور زمانۂ جاہلیت کی طرح زیب و زینت کی نمائش نہ کرو‘ نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرو اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو اور جو ایسا کریں گی تو اُن کو دُہرا اجر ملے گا اور اُن کیلئے آخرت میں عزت کی روزی کا اہتمام ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 22)

امہات المومنین کا مقام:قرآنِ پاک کے بائیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحزاب سے ہوتا ہے۔ سورۂ احزاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اُمہات المومنین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جو کوئی بھی اُمہات المومنینؓ میں سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کیلئے اپنے آپ کو وقف کرے گی اور نیک اعمال کرے گی‘ اللہ اسے دو گنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کیلئے پاک رزق تیار کیا گیا ہے۔

21رمضان المبارک یوم شہادتِ سید ناحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

داماد نبی و شیر خدا کی زندگی کا ہر پہلو قابل رشک و قابل تقلید ہے

باب العلم ، حیدرکرارحضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

تفسیر قرآن میں مرتبہ کمال پر فائز تھے:حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تینوں خلفاء کو مفید مشورے دیئے، سڑکوں کی تعمیر سے لے کرجنگ کے آداب تک میں مدد فرماتے رہے

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کے فوائد:اکیسویں پارے کی پہلی آیت میں تلاوت قرآن اور اقامتِ صلوٰۃ کا حکم ہے اور یہ کہ نماز کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اسی معیار پر ہر مسلمان اپنی نماز کی مقبولیت اور افادیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کا حکم:قرآنِ مجید‘ فرقانِ حمید کے اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ العنکبوت سے ہوتا ہے۔ اکیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ‘ اپنے حبیبﷺ سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے‘ اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: بیشک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔