لاپرواہی

تحریر : دانیال حسن چغتائی


سردیوں کی چھٹیوں کا آغاز ہو چکا تھا اور پہاڑی علاقے میں واقع چھوٹے سے گاؤں گلشن نور میں ہر طرف برف باری کا سماں تھا۔

اسکول بند تھے اور بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ رضوان اور اس کی چھوٹی بہن مریم بھی بہت پرجوش تھے لیکن ان کی امی جان مسلسل انہیں احتیاط برتنے کی ہدایت دے رہی تھیں۔

ایک صبح جب رضوان بیدار ہوا تو کھڑکی سے باہر ہر طرف سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔ اس نے شور مچا کر مریم کو بھی جگا دیا: مریم! دیکھو، باہر کتنی برف ہے، چلو برف باری میں کھیلتے ہیں!

بچے ابھی باہر نکلنے ہی والے تھے کہ ابو نے انہیں روک لیا۔ انہوں نے سمجھایا، بچوں! سردی میں کھیلنا ضرور چاہیے لیکن خود کو محفوظ رکھنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر تم بیمار ہو گئے تو چھٹیاں بستر پر گزریں گی۔

امی جان نے بچوں کو پیار سے پاس بٹھایا اور انہیں سردی سے بچنے کے طریقے بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے تو بڑا کوٹ پہننا کافی نہیں بلکہ کپڑوں کی تہیں پہننا ضروری ہے۔ گرم بنیان، پھر سویٹر اور اس کے اوپر جیکٹ بھی پہننا ضروری ہے۔ 

 جسم کی زیادہ تر گرمی سر اور پیروں کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔ اس لیے اونی ٹوپی اور موٹی جرابیں پہننا لازمی ہے۔ برف کو براہِ راست ہاتھ لگانے سے ہاتھ سن ہو سکتے ہیں، اس لیے دستانے پہننا ضروری ہے۔

بچوں نے امی کی بات مانی۔ انہوں نے اپنے اونی مفلر لپیٹے، ٹوپیاں پہنیں اور جوتے پہن کر باہر نکلے۔

باہر گراؤنڈ میں دوسرے بچے بھی موجود تھے۔ سب برف کے گولے بنا رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ رضوان کا دوست ذیشان پتلے کپڑے اور عام سی چپل پہن کر باہر آ گیا تھا۔ وہ بہت بہادر بن رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اسے سردی نہیں لگتی۔

کچھ دیر گزرنے کے بعد ذیشان کے ہاتھ نیلے پڑنے لگے اور وہ بری طرح کانپنے لگا۔ اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ رونے لگا۔ رضوان نے فوراً اپنے ابو کو بلایا۔ ابو ذیشان کو گھر کے اندر لے گئے، اسے کمبل اڑھایا اور اسے گرم سوپ پلایا۔

ابو نے تمام بچوں کو اکٹھا کیا اور کہا: بہادری یہ نہیں کہ آپ موسم کا مقابلہ بغیر حفاظتی تدابیر کے کریں بلکہ دانشمندی یہ ہے کہ آپ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔

رضوان اور مریم نے اس دن بہت کچھ سیکھا۔ وہ باہر ضرور کھیلتے لیکن گرم کپڑوں میں ملبوس رہتے۔ امی جان انہیں روزانہ رات کو گرم دودھ اور خشک میوہ جات دیتیں تاکہ ان کی قوتِ مدافعت مضبوط رہے۔

چھٹیاں ختم ہونے تک رضوان اور مریم بالکل تندرست رہے، جبکہ ذیشان اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ایک ہفتہ بخار میں مبتلا رہا۔ 

بچو! سردیوں کی چھٹیوں کا بھرپور لطف تب ہی اٹھایا جا سکتا ہے جب ہم اپنی صحت اور حفاظت کا خیال رکھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 22)

ازواج مطہرات کا مقام:بائیسویں پارے کے شروع میں ازواجِ مطہراتؓ سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کا مقام امتیازی ہے۔ سو تقویٰ اختیار کرو‘ غیر محرم مردوں کے ساتھ نرم لہجے میں بات نہ کرو اور ضرورت کے مطابق بات کرو‘ اپنے گھروں پر رہو اور زمانۂ جاہلیت کی طرح زیب و زینت کی نمائش نہ کرو‘ نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرو اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو اور جو ایسا کریں گی تو اُن کو دُہرا اجر ملے گا اور اُن کیلئے آخرت میں عزت کی روزی کا اہتمام ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 22)

امہات المومنین کا مقام:قرآنِ پاک کے بائیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحزاب سے ہوتا ہے۔ سورۂ احزاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اُمہات المومنین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جو کوئی بھی اُمہات المومنینؓ میں سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کیلئے اپنے آپ کو وقف کرے گی اور نیک اعمال کرے گی‘ اللہ اسے دو گنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کیلئے پاک رزق تیار کیا گیا ہے۔

21رمضان المبارک یوم شہادتِ سید ناحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

داماد نبی و شیر خدا کی زندگی کا ہر پہلو قابل رشک و قابل تقلید ہے

باب العلم ، حیدرکرارحضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

تفسیر قرآن میں مرتبہ کمال پر فائز تھے:حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تینوں خلفاء کو مفید مشورے دیئے، سڑکوں کی تعمیر سے لے کرجنگ کے آداب تک میں مدد فرماتے رہے

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کے فوائد:اکیسویں پارے کی پہلی آیت میں تلاوت قرآن اور اقامتِ صلوٰۃ کا حکم ہے اور یہ کہ نماز کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اسی معیار پر ہر مسلمان اپنی نماز کی مقبولیت اور افادیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کا حکم:قرآنِ مجید‘ فرقانِ حمید کے اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ العنکبوت سے ہوتا ہے۔ اکیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ‘ اپنے حبیبﷺ سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے‘ اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: بیشک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔