لاپرواہی
سردیوں کی چھٹیوں کا آغاز ہو چکا تھا اور پہاڑی علاقے میں واقع چھوٹے سے گاؤں گلشن نور میں ہر طرف برف باری کا سماں تھا۔
اسکول بند تھے اور بچوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ رضوان اور اس کی چھوٹی بہن مریم بھی بہت پرجوش تھے لیکن ان کی امی جان مسلسل انہیں احتیاط برتنے کی ہدایت دے رہی تھیں۔
ایک صبح جب رضوان بیدار ہوا تو کھڑکی سے باہر ہر طرف سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔ اس نے شور مچا کر مریم کو بھی جگا دیا: مریم! دیکھو، باہر کتنی برف ہے، چلو برف باری میں کھیلتے ہیں!
بچے ابھی باہر نکلنے ہی والے تھے کہ ابو نے انہیں روک لیا۔ انہوں نے سمجھایا، بچوں! سردی میں کھیلنا ضرور چاہیے لیکن خود کو محفوظ رکھنا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر تم بیمار ہو گئے تو چھٹیاں بستر پر گزریں گی۔
امی جان نے بچوں کو پیار سے پاس بٹھایا اور انہیں سردی سے بچنے کے طریقے بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں سردی بہت زیادہ ہوتی ہے تو بڑا کوٹ پہننا کافی نہیں بلکہ کپڑوں کی تہیں پہننا ضروری ہے۔ گرم بنیان، پھر سویٹر اور اس کے اوپر جیکٹ بھی پہننا ضروری ہے۔
جسم کی زیادہ تر گرمی سر اور پیروں کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔ اس لیے اونی ٹوپی اور موٹی جرابیں پہننا لازمی ہے۔ برف کو براہِ راست ہاتھ لگانے سے ہاتھ سن ہو سکتے ہیں، اس لیے دستانے پہننا ضروری ہے۔
بچوں نے امی کی بات مانی۔ انہوں نے اپنے اونی مفلر لپیٹے، ٹوپیاں پہنیں اور جوتے پہن کر باہر نکلے۔
باہر گراؤنڈ میں دوسرے بچے بھی موجود تھے۔ سب برف کے گولے بنا رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ رضوان کا دوست ذیشان پتلے کپڑے اور عام سی چپل پہن کر باہر آ گیا تھا۔ وہ بہت بہادر بن رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اسے سردی نہیں لگتی۔
کچھ دیر گزرنے کے بعد ذیشان کے ہاتھ نیلے پڑنے لگے اور وہ بری طرح کانپنے لگا۔ اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ رونے لگا۔ رضوان نے فوراً اپنے ابو کو بلایا۔ ابو ذیشان کو گھر کے اندر لے گئے، اسے کمبل اڑھایا اور اسے گرم سوپ پلایا۔
ابو نے تمام بچوں کو اکٹھا کیا اور کہا: بہادری یہ نہیں کہ آپ موسم کا مقابلہ بغیر حفاظتی تدابیر کے کریں بلکہ دانشمندی یہ ہے کہ آپ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔
رضوان اور مریم نے اس دن بہت کچھ سیکھا۔ وہ باہر ضرور کھیلتے لیکن گرم کپڑوں میں ملبوس رہتے۔ امی جان انہیں روزانہ رات کو گرم دودھ اور خشک میوہ جات دیتیں تاکہ ان کی قوتِ مدافعت مضبوط رہے۔
چھٹیاں ختم ہونے تک رضوان اور مریم بالکل تندرست رہے، جبکہ ذیشان اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ایک ہفتہ بخار میں مبتلا رہا۔
بچو! سردیوں کی چھٹیوں کا بھرپور لطف تب ہی اٹھایا جا سکتا ہے جب ہم اپنی صحت اور حفاظت کا خیال رکھیں۔