ببلو ٹریفک دوست بن گیا!

تحریر : محمد صابرعطاء، لیہ


ببلوساتویں جماعت کاطالب علم تھا۔ اسے سائیکل چلانا بہت پسند تھا۔ ہر شام وہ اپنے دوست میرو کے ساتھ گلی میں سائیکل چلایا کرتا تھا۔ اسے ٹریفک قوانین اچھے نہیں لگتے تھے اسے لگتا تھا کہ یہ سب بڑوں کیلئے ہوتے ہیں بچوں کو ان سے کیا لینا دینا ہے؟

ایک دن ببلو اپنی نئی سائیکل لے کر سڑک کے قریب پہنچا تو سامنے ایک رنگ برنگا ٹریفک اشارہ جگمگانے لگا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس بار اشارہ بول بھی رہا تھا۔

اشارہ بولا: ببلو ذرہ رکو!

ببلو نے ڈر کر سائیکل روک دی، ’’آپ، آپ…بول سکتے ہیں؟‘‘، ببلو نے کہا۔ 

اشارہ ہنس کر بولا : میں ٹریفک کادوست اشارہ ہوں۔ جب کوئی بچہ ٹریفک قوانین کو نظر انداز کرے تو میں اسے سبق سکھانے آجاتا ہوں۔ 

ببلو نے حیرت سے پوچھا: کیا میں نے کچھ غلط کیاہے؟ دوست اشارہ کہنے لگا: ببلو دوست ! سڑک صرف بڑوں کیلئے نہیں ہے، بچوں کیلئے بھی ہے۔ اگر سب قوانین پر عمل کریں گے تو پوری شہر کی حفاظت ہوگی۔آپ سب کی زندگیاں حادثوں سے بچی رہیں گی۔ بہت سے لوگ عمر بھر کی معذوری سے بچ جائیں گے۔  آؤ  ! 

میں تمہیں کچھ قوانین بتاتا ہوں۔

پہلا قانون سرخ بتی پر رک جاناہے۔اشارہ سرخ ہوا اور بولا: جب میں سرخ ہو جاؤں تو چاہے تم پیدل ہو یا سائیکل پر، ہمیشہ رک جاؤ۔ کئی حادثے اس لیے ہوتے ہیں کہ لوگ سرخ بتی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ببلو نے سر ہلایا : اچھا۔۔۔ اب میں کبھی سرخ بتی پر نہیں جاؤں گا۔

دوسراقانون یہ ہے کہ پیدل چلنے کیلئے زیبرا کراسنگ استعمال کرو۔یہ کہہ کر اشارہ نے اپنی لائٹس سفید اور سیاہ کر لیں ۔

یہ دیکھو زیبرا کراسنگ! یہی جگہ ہے جہاں بچوں اور بڑوں کو سڑک پار کرنی چاہیے۔ گاڑیاں یہاں رک جاتی ہیں۔ اگر تم بیچ سڑک میں بھاگو گے تو ڈرائیور تمہیں دیکھ نہیں پائیں گے۔

ببلو نے سوچا : واہ! میں تو اکثر درمیان سے گزرتا تھا۔ اب سے ہمیشہ زیبرا کراسنگ ہی استعمال کروں گا۔

تیسرا قانون یہ ہے کہ ہیلمٹ استعمال کیا جائے۔دوست اشارہ پھر سبز ہوکر کہنے لگا: سبز رنگ کہتا ہے کہ راستہ صاف ہے، لیکن احتیاط کے ساتھ! سائیکل یا موٹر سائیکل چلاتے وقت ہیلمٹ ضرور پہنو، یہ تمہاری حفاظت کیلئے ہے۔

ببلو نے مسکرا کر کہا : بابا تو روز کہتے ہیں مگر میں ٹال دیتا ہوں۔ اب سے ہیلمٹ لازمی پہنوں گا ۔

ٹریفک کے دوست  اشارے نے خوش ہو کر کہا : شاباش ببلو! جو ٹریفک قوانین پر عمل کرتے ہیں، وہ خود بھی محفوظ رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ آج سے تم ٹریفک دوست بن گئے ہو۔

دوسرے روز ببلو اپنی سائیکل پر نکلا تو اس بار اس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا۔وہ سرخ بتی پر رکا۔ زیبرا کراسنگ پر پیدل چلنے والوں کو راستہ دیا اورٹریفک دوست اشارہ اسے دیکھ کر بول اٹھا : دیکھو!ہماراببلواب ٹریفک دوست بن گیا ہے!

ببلو خوشی سے مسکرا رہا تھاکیونکہ اسے معلوم تھا کہ قانون کی پاسداری سب کی حفاظت کی ضمانت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔