مطیعِ اعظم(چوتھی قسط )

تحریر : اشفاق احمد خاں


سید نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی درخواست رد کر دی۔ تب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے سفارش کروائی لیکن سید نا علیؓ نے پھر انکار کر دیا۔ تب عبداللہ ؓ رات کی تاریکی میں مکہ چلے گئے۔

 پھر لوگوں نے انہیں مکہ میں سجدہ کی حالت میں یہ کہتے سنا: ’’اے میرے رب! تو جانتا ہے کہ میں صرف تیرے خوف کی وجہ سے قریش کے ساتھ دنیا داری میں شریک ہونا نہیں چاہتا‘‘۔

عبداللہ بن عمر ؓ کو واقعی دنیا اور اس کی لذتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اپنے مال میں سے جوان کو پسند آ جاتا وہ اسے اللہ کی راہ میں دے دیتے۔ ایک مرتبہ ان کا آزاد کردہ ایک غلام عراق سے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سلام عرض کرنے کے بعد اس نے کہا:  میرے آقا، میں عراق سے آپ کیلئے ایک تحفہ لے کر آیا ہوں۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے پوچھا وہ کیا ہے؟۔ اس نے کہا: وہ جوارش( ایک دوا) ہے۔عبداللہؓ  بولے: وہ کیا ہوتی ہے؟، اس نے کہا: یہ کھانے کو ہضم کر دیتی ہے۔عبداللہؓ نے کہا: میں نے تو چالیس برس سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، میں اس ہضم کرنے والی دوا کو کیا کروں گا۔

اسی طرح ان سے محبت اور عقیدت رکھنے والا ایک آدمی قرعہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے دیکھا کہ آپؓ کے جسم پر کھردرا لباس ہے۔ کہنے لگا: میں آپؓ کیلئے خراسان سے نرم کپڑا لے کر آیا ہوں، اگر آپ اسے زیب تن کریں گے تو میری آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے گی۔ عبداللہ بن عمر ؓنے اس کی طرف دیکھا اور پھر کپڑے کو جانچا اور کہا: یہ ریشم تو نہیں ہے؟ قرعہ نے کہا: جی نہیں، یہ تو سُوتی ہے۔ عبداللہ ؓ بولے پھر بھی میں اس کو پہننے سے ڈرتا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو پہننے کے بعد میں متکبر اور مغرور ہو جائوں اور اللہ تعالیٰ کو تکبر اور غرور پسند نہیں۔ اتنا کہنے کے بعد انہوں نے کپڑا واپس کر دیا۔

 ان کے حوالے سے یہ بات بہت مشہور تھی کہ ان کے گھر کے سارے سامان کی قیمت سو درہم سے زیادہ نہیں تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ انہوں نے دنیا کے اصل روپ کو پہچان لیا تھا، اس لئے انہوں نے دنیا سے بے رغبتی اختیار کی اور وہ آخرت کی حقیقت کو بھی جان گئے تھے۔ اسی بنا پر اس کے حصول میں اتنی زیادہ محنت اور کوشش کی۔ انہوں نے جس انداز میں زندگی گزاری اس کا ایک ایک لمحہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ دنیا کے بارے میں فرماتے تھے۔ دنیا کی مثال تو ایک درخت کی مانند ہے، جس کے سائے میں آدمی گھڑی دو گھڑی آرام کرتا ہے اور آگے چل دیتا ہے۔اس حقیقت کے پیش نظر وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے۔ ان کے بھیجتے عبداللہ بن عبید اللہ بن عمر ؒ اپنے باپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایک دن انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: ’’ اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت کے ساتھ ایک گواہ بھی سامنے لائیں گے، اور اے نبی! تجھے ہم ان لوگوں پر بطور گواہ سامنے لائیں گے‘‘۔جب یہ آیت ختم کی تو عبداللہ بن عمرؓ اتنا روئے کہ ان کی داڑھی بھیک گئی۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ انتہائی متقی اور پرہیز گار تھے۔ ان کی راتیں عبادت میں گزرتیں اور روزے رکھنا ان کے معمول میں شامل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ابن مسیب ؒ نے کہا: اگر مجھے کسی کے متعلق گواہی دینے کا اختیار ہوتا کہ وہ جنتی ہے تو میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا کہ وہ جنتی ہیں۔

نافع ؒ سے کسی نے پوچھا :ابن عمر ؓ اپنے گھر میں کیا کرتے ہیں۔ نافع ؒ نے کہا: وہ ایسا کام کرتے ہیں جس کا شاید تم اہتمام نہ کر سکو۔ وہ ہر نماز کیلئے وضو کرتے ہیں، پھر وضو اور نماز کے درمیان قرآن کی تلاوت میں وقت گزارتے ہیں۔عبداللہ بن عمرؓ رات کو ایسے سوتے جیسے پرندے سوتے ہیں۔ یعنی تھوڑا سا سوتے، پھر اٹھ کر نماز پڑھتے، پھر تھوڑا سوتے پھر اٹھ کر نماز پڑھتے اس طرح چار پانچ بار رات کو نماز پڑھتے۔ بعض اوقات آپؓ دن میں بغیر کسی ضرورت کے بازار کا چکر لگاتے۔ کچھ خریدنے کی نیت سے نہیں بلکہ صرف اس لئے کہ بازار میں ملنے والے لوگوں کو سلام کر کے ثواب حاصل کریں۔ 

آپؓ کی طبیعت میں نرمی اور در گزر جیسی خوبیاں نمایاں تھیں۔ انہوں نے زندگی بھر کبھی کسی غلام یا نوکر کو برا بھلا نہیں کہا۔ ایک مرتبہ اپنے غلام کو درشت لہجے میں ڈانٹا تو بعد میں اس کے ازالہ کیلئے اسے آزاد کر دیا۔

زید بن اسلم ؒ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا عبداللہ ؓ کو ایک آدمی گالیاں دے رہا ہے اور وہ خاموش بیٹھے ہیں۔ اس کے جواب میں بس اتنا کہا کہ میں اور میرا بھائی عاصم کسی کو گالیاں نہیں دیتے۔

عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا گیا کہ دوست کا دوست پر کیا حق ہے تو انہوں نے جواب دیا: دوست کو بھوکا رکھ کر تجھے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھانا چاہئے۔ اسے برہنہ رکھ کر تجھے اپنے بدن پر لباس نہیں پہننا چاہیے۔خوشی غمی میں اس کے ساتھ شریک ہونا چاہیے۔(جاری ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 22)

ازواج مطہرات کا مقام:بائیسویں پارے کے شروع میں ازواجِ مطہراتؓ سے کہا گیا کہ آپ لوگوں کا مقام امتیازی ہے۔ سو تقویٰ اختیار کرو‘ غیر محرم مردوں کے ساتھ نرم لہجے میں بات نہ کرو اور ضرورت کے مطابق بات کرو‘ اپنے گھروں پر رہو اور زمانۂ جاہلیت کی طرح زیب و زینت کی نمائش نہ کرو‘ نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرو اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی اطاعت پر کاربند رہو اور جو ایسا کریں گی تو اُن کو دُہرا اجر ملے گا اور اُن کیلئے آخرت میں عزت کی روزی کا اہتمام ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 22)

امہات المومنین کا مقام:قرآنِ پاک کے بائیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحزاب سے ہوتا ہے۔ سورۂ احزاب کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے اُمہات المومنین سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ جو کوئی بھی اُمہات المومنینؓ میں سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کیلئے اپنے آپ کو وقف کرے گی اور نیک اعمال کرے گی‘ اللہ اسے دو گنا اجر عطا فرمائے گا اور اس کیلئے پاک رزق تیار کیا گیا ہے۔

21رمضان المبارک یوم شہادتِ سید ناحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

داماد نبی و شیر خدا کی زندگی کا ہر پہلو قابل رشک و قابل تقلید ہے

باب العلم ، حیدرکرارحضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

تفسیر قرآن میں مرتبہ کمال پر فائز تھے:حضرت علیؓ نے مسلمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، تینوں خلفاء کو مفید مشورے دیئے، سڑکوں کی تعمیر سے لے کرجنگ کے آداب تک میں مدد فرماتے رہے

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کے فوائد:اکیسویں پارے کی پہلی آیت میں تلاوت قرآن اور اقامتِ صلوٰۃ کا حکم ہے اور یہ کہ نماز کے منجملہ فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اسی معیار پر ہر مسلمان اپنی نماز کی مقبولیت اور افادیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 21)

نماز کا حکم:قرآنِ مجید‘ فرقانِ حمید کے اکیسویں پارے کا آغاز سورۃ العنکبوت سے ہوتا ہے۔ اکیسویں پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ‘ اپنے حبیبﷺ سے فرماتے ہیں کہ جو کتاب آپ پر نازل کی گئی ہے‘ اس کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا: بیشک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔