رشید جہاں ، اُردو کی پہلی ڈرامہ نگار خاتون
اردو ادب میں جس طرح خواتین افسانہ نگاروں، ناول نگاروں اور شاعرات نے اپنی مخصوص فکر، جذبات اور احساسات کا اظہار منفر د زبان اور اسلوب میں کیا اسی طرح ڈراما نگاری کے ضمن میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔
اردو میں خواتین ڈراما نگاروں کی ڈراما نگاری کا آغاز ڈاکٹر رشید جہاں سے ہوتا ہے۔ وہ دور اُردو ادب میں ترقی پسند تحریک کے عروج کا دور تھا۔ زندگی کے ان موضوعات پر کھل کر گفتگو کی گئی جو اس سے پہلے نا گفتہ بہ تھے۔ خاص طور پر خواتین کے مسائل کو صیح معنوں میں سمجھا اور پیش کیا گیا۔ ڈاکٹر رشید جہاں عصمت چغتائی ، آمنہ نازلی ، صدیقہ بیگم سیو ہا روی ، صالحہ عابد حسین وغیرہ نے دیگر اصناف کے علاوہ فن ڈراما میں بھی کمال دکھایا۔ خاص طور پر رشید جہاں اور عصمت چغتائی نے اپنے اسلوب اور زبان کی ندرت سے خاص انفرادیت پیدا کی۔ کرشن چندر ، منٹو، بیدی اور عصمت نے جس طرح اپنے ڈراموں میں ارد گرد کی عام زندگی اور عام بول چال کو مکالموں میں استعمال کیا اس کے ابتدائی نقوش ڈاکٹر رشید جہاں کے ڈراموں میں نظر آتے ہیں۔ 1932ء میں شائع ہونے والے مجموعے’’ انگارے‘‘ میں ان کا ڈراما ’’ پردے کے پیچھے ‘‘موجود ہے جو ان کے مجموعے’’ وہ اور دوسرے افسانے ڈرامے‘‘ میں شامل ہے۔یہ ڈرامے اُن کی ڈرامائی حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہاجرہ بیگم اس مجموعے میں شامل اپنے مضمون’’ کچھ رشید جہاں کے بارے میں‘‘ لکھتی ہیں کہ رشید جہاں نے 1932 ء سے 1952 ء تک 20 سال تقریباً 25،30 افسانے لکھے اور پندرہ بیس ڈرامے۔ ان کے ڈرامے ریڈ یو پر نشر ہوئے اور سٹیج بھی کیے گئے ۔
رشید جہاں ہندوستانی سماج میں انقلاب کے خواب دیکھ رہی تھیں۔ ان کے ڈراموں میں ان کی اُسی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ وطن پرستی ، عوام دوستی اور دردمندی کے احساسات نظر آتے ہیں۔ ان کے مشاہدے کی وسعت اور اظہا رو بیان کی فطری بے ساختگی نے ان سے بے حد خوبصورت اور سچے مکالمے لکھوائے خاص طور پر عورت کے مسائل اور ان کے احساسات و جذبات کا نسائی لہجے میں اظہار ملتا ہے۔ ہر جگہ ایک ترقی پسندانہ شعور واضح دکھائی دیتا ہے۔ ڈراموں کے مکالموں میں نسائیت کا احساس سماجی معنویت سے بھر پور ہوتا ہے۔ زندگی کی سچائیوں کا ادراک ہوتا ہے۔ وہ مکالموں کی مدد سے عورتوں کی سوچ کو ایک کشمکش کا تاثر دینا خوب جانتی ہیں۔ یہ کشمکش پڑھنے والے کے ذہن کو اجتماعی اور تہذیبی زندگی کی طرف لے جاتی ہے اور اس کے اچھے برُے پہلوؤں کو جو خاص طور پر عورتوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں حقیقی انداز سے پیش کرتی ہیں۔
رشید جہاں کے ڈراموں میں نسائی کردار اور لہجے کی مصورانہ پیش کش موجود ہے۔ زندہ اور تیز فقرے اشاروں اور کنائیوں کی مدد سے پوری صورتحال کو واضح کر دیتے ہیں۔ انہیں اس بات کا شعور تھا کہ ڈرامے کے ذریعے زندگی کو بدلنے اور لوگوں کی توجہ زندگی کے مسائل کی طرف دلانے میں مدد مل سکتی ہے۔ ان ڈراموں میں ہندوستانی عورت کے انسانی حقوق کی بحالی کے مسائل موجود ہیں ۔’’پردے کے پیچھے‘،’گوشہ عافیت ‘، ’پڑوسی عورت‘ ان کے بہترین ڈرامے ہیں۔
ڈاکٹر قمر رئیس ان کے مجموعے ’’وہ اور دوسرے افسانے ڈرامے‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ افسانے کے علاوہ رشید جہاں نے اردو ڈراما نگاری کو بھی ایک نیا موڑ دینے کی کوشش کی ، انہیں ابتدا سے احساس تھا کہ زندگی کو بدلنے اور اس کے مسائل کی طرف عوام کی توجہ مبذول کرانے میں ڈراما کار گر رول ادا کر سکتا ہے۔’ انگارے‘ میں ان کی ایک کہانی کے علاوہ ایک ڈراما ’پردے کے پیچھے ‘بھی شامل ہے 1931-32ء کی تخلیق ہے جب اردو میں ایکانکی ڈرامے کا آغاز ہی ہوا تھا۔ یہ ڈراما عمل اور کلائمکس کے احساس سے تقریباً عاری ہے پھر بھی پڑھنے میں دلچسپ ہے اس لیے کہ اس میں پردے کے پیچھے گھٹے گھٹے پُر عفونت ماحول میں زندگی بسر کرنے والی خواتین کی المناک زندگی اور مرد کی ہوسنا کی کے جاندار نقش ابھارے گئے ، دوسرے ایکانکی ڈرامے عورت کا موضوع بھی متوسط طبقہ کے مسلم گھرانوں میں عورت کی پر عذاب زندگی اور شرمناک محکومی ہے، لیکن اس ڈرامے میں برجستہ اور زندہ مکالموں کے علاوہ تعمیر کا سلیقہ اور نقطہ عروج زیادہ ہنر مندانہ ہے۔ بعد میں انہوں نے انڈین پیو پلز تھیٹر کے لیے بھی’ کانٹے والا‘ ، ’گوشہ عافیت‘ اور ’پندوستانی‘ جیسے ڈرامے لکھے۔