سعادت حسن منٹو ۔۔۔اُردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار

تحریر : محمد حسن عسکری


اس کے سینہ میں افسانہ نگاری کے سارے اسرارورموزدفن تھے: اردو افسانے میں بس منٹو ایک ایسا آدمی ہے جو کسی جذبے یا احساس سے نہ ڈرتا تھا اور جس کے لیے کوئی احساس حقیر یا غیر دلچسپ نہ تھا،منٹو کی شخصیت اردو کے افسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ آزاد تھی‘ اس معنی میں کہ اس نے احساسات پر کسی قسم کی بندشیں نہیں لگائی تھیں

منٹو کے ماہ و سال

سعادت حسن منٹو 11مئی 1912ء کو لدھیانہ کے قصبہ سمبرالہ کے ایک کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام مولوی غلام حسین تھا اور وہ پیشہ سے جج تھے۔ منٹو ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔منٹو بچپن میں شریر کھلندڑے اور تعلیم کی طرف سے بے پروا تھے ،میٹرک میں دو بار فیل ہونے کے بعد تھرڈ ڈویژن میں امتحان پاس کیا۔ سکول کے دنوں میں اُن کا محبوب مشغلہ افواہیں پھیلانا اور لوگوں کو بیوقوف بنانا تھا مثلاً میرا فونٹین پن گدھے کی سینگ سے بنا ہے، لاہور کی ٹریفک پولیس کو برف کے کوٹ پہنائے جا رہے ہیں یا تاج محل امریکہ والوں نے خرید لیا ہے اور مشینوں سے اکھاڑ کر اسے امریکہ لے جائیں گے۔ انہوں نے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر ’’انجمن احمقاں‘‘ بھی قائم کی تھی۔ میٹرک کے بعد انہیں علی گڑھ بھیجا گیا لیکں وہاں سے یہ کہہ کر نکال دیا گیا کہ ان کو دق کی بیماری ہے۔ واپس آ کر انہوں نے امرتسر میںایف اے میں داخلہ لے لیا۔1935ء میں منٹو بمبئی چلے گئے۔ ادبی حلقوں میں بطور افسانہ نگار ان کا تعارف ہو چکا تھا۔ اُن کو پہلی ملازمت ہفت روزہ ’’پارس‘‘ میں ملی۔ اس کے بعد منٹو نذیر لدھیانوی کے ہفت روزہ ’’مصور‘‘کے ایڈیٹر بن گئے ۔انہی دنوں انہوں نے’’ہمایوں‘‘ اور ’’عالمگیر‘‘کے روسی ادب نمبر مرتب کئے۔بمبئی آ کر منٹو نے شوکت رضوی کی فلم ’’نوکر‘‘ کیلئے مکالمے لکھنے شروع کر دئے۔ بعد میں 100 روپے ماہوار پر بطور مکالمہ نویس فلمستان چلے گئے۔ یہاں ان کی دوستی اشوک کمار سے ہو گئی۔ اشوک کمار نے بمبئی ٹاکیز خرید لی تو منٹو بھی ان کے ساتھ بمبئی ٹاکیز چلے گئے۔ قیام پاکستان کے بعد منٹو پاکستان آ گئے اور اپنی عمرکے آخری سات سال دی مال لاہور کے پہلو میں لکشمی بلڈنگ میں مقیم رہے۔ 18 جنوری 1955 ء کی ایک سرد صبح اہلِ ادب نے یہ خبر سنی کہ اُردو ادب کو تاریخی افسانے اور کہانیاں دینے والا منٹو خود تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

جس دن منٹو مرا تھا ، اُس دن بھی میں نے یہی کہا تھا کہ منٹو جیسے آدمی کی زندگی یا موت کے بارے میں جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ، ہمیں تو اُس کی زندگی اور موت دونوں کے معنی متعین کرنے چاہئیں۔ منٹو تو ان لوگوں میں سے تھا جو صرف  ایک فرد یا ایک ادیب سے کچھ زیادہ ہوتے ہیں۔ پھر اب تو جذبات پرستی کی گنجائش یوں بھی نہیں رہی کہ منٹو کو مرے دو مہینے سے زیادہ ہو گئے ، اور ہمارے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ اردو ادب میں یا کم سے کم پچھلے بیس سال کے اردو ادب میں منٹو کی جگہ کیا ہے؟ بعض لوگوں کے خیال میں منٹو اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ منٹو چاہے موپاساں وغیرہ کی صف میں نہ آسکے لیکن یورپ کے اچھے خاصے افسانہ نگاروں سے اُس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ میں ان دونوں باتوں سے متفق ہوں بلکہ میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر منٹو موپاساں کے برابر نہیں پہنچ سکا تو اس میں اتنا قصور خود منٹو کا نہ تھا جتنا اس ادبی روایت کا جس میں وہ پیدا ہوا۔ جس بات میں منٹوموپاساں سے پیچھے رہ جاتا ہے، وہ موپاساں کی نثر ہے اور موپاساں کو جس قسم کی نظر درکار تھی وہ فرانس میں اور کچھ نہیں تو دوسو سال سے نشو نما پارہی تھی۔ موپاساں کے پیچھے روش فو کو تھا، والٹیئر تھا، استاں دال تھا، فلو بیئر تھا۔ منٹو کے پیچھے کون تھا ؟ میری بات کا وہ مطلب نہ سمجھیے جو اُردو کے ایم اے سمجھیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اُردو نثر بالکل فضول ہے۔ اس میں بھی بہت سی خوبیاں ہیں لیکن منٹو کو جن چیزوں کی ضرورت تھی ، وہ اردو  نثر کی روایت میں موجود نہ تھیں۔ منٹو کو پانی پینے کے لیے اپنے آپ کنواں کھودنا پڑا۔

موضوع اور ہیئت دونوں میں منٹو کی حیثیت ایک پیشروکی ہے۔ اس لیے منٹو کے متعلق کوئی آخری فیصلہ کرنے سے پہلے  ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ اُس سے پہلے اُردو میں کیا تھا۔ اُس کے بعد ہم عصرکیا کر رہے تھے منٹو کیا کر سکا اور کیا نہیں کر سکا، یہ باتیں دیکھے بغیر ہم منٹو کو اچھا یا برا تو کہہ لیں گے مگر اردو ادب میں منٹو کی حیثیت ہماری سمجھ میں نہ آئے گی۔ منٹو نے جو کنواں کھودا تھا وہ ٹیڑھا بھینگا سہی ، اور اس میں سے جو پانی نکلا ، وہ گدلا یا کھاری سہی ،مگر دو باتیں ایسی ہیں جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایک تو یہ کہ منٹو نے کنواں کھودا ضرور، دوسرے یہ کہ اس میں سے پانی نکالا۔ اب ذرا کہیے تو سہی کہ اُردو کے کتنے ادبیوں کے متعلق یہ دونوں باتیں کہی جاسکتی ہیں؟

 میں اس بات سے بے خبر نہیں ہوں کہ آج سے نہیں بلکہ شروع سے ہی بہت سے خوش مذاق حضرات کو منٹو کی ان دونوں خوبیوں سے انکار رہا ہے۔ اس کے بر خلاف ہم نے یہ بھی دیکھا کہ اقبال کی وفات سے لے کر آج تک کسی اُردو ادیب کا ماتم اس طرح نہیں ہوا جس طرح منٹو کا۔ آخر کوئی چیز تو تھی جس نے لوگوں کو اتنا سوگ منانے پر مجبور کیا۔ خیر، بعض لوگ اتنی مقبولیت  کو بھی منٹو کی پستی کا آخری اور قطعی ثبوت سمجھیں گے، کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ ادیب کو ہر آدمی کے لیے نہیں لکھنا چاہیے۔ ایسے لوگوں کو بیس سال سے منٹو پر یہی اعتراض رہا ہے کہ منٹو تو بس ایسی باتیں کرتا ہے جس سے لوگ چونک پڑیں۔ شاید یہ کوئی شریفانہ یا غیراد بیانہ بات ہو۔ لیکن میں نے جو تھوڑا بہت ادب پڑھا ہے، اس سے تو یہی پتا چلتا ہے کہ لوگوں کو چونکا نا ادب کا ایک مقدس فریضہ رہا ہے، بلکہ میل وَل نے تو ایسے لوگوں پر لعنت بھیجی ہے جو چونکانے سے ڈرتے ہیں۔ منٹو کو چھوڑیے، بودلیئر جیسے عظیم شاعر کو کیا کہیے گا جس کا ایک ادبی اصول ہی یہ تھا کہ متوسط طبقے کو چونکا یا جائے ؟ اگر چونکا نا کوئی بہت بڑا اد بی نقص ہے تو چونکنے سے ڈرنا ایک ذہنی بیماری ہے، کمزور شخصیت کی نشانی ہے۔ جو آدمی دوسروں کو چونکا نا چاہے، اُس میں پہلے خود چونکنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ جس شخص کے جسمانی ، ذہنی اور اخلاقی اعصاب زندہ نہ ہوں، وہ کسی کو کیا چونکائے گا۔ننگی کیا نہائے گی کیا نچوڑے گی۔ اگر کوئی ادیب اپنے پڑھنے والوں کو چونکا تا ہے تو یہ کوئی شکایت کی بات  نہیں۔ ورنہ پھر تو بڑھئی کی شکایت کیجیے کہ اس نے کرسی کیوں بنائی۔ ایسا ادیب تو محض اپنا فریضہ ادا کرتا ہے۔ ہاں، ادیب سے آپ یہ ضرور پوچھ سکتے ہیں کہ تم نے ہمیں چونکانے کے بعد دکھایا کیا۔ اگر ہمیں جھنجھوڑ کر جگانے کے بعد منٹو نے ہمیں انسانی فطرت اور انسانی معاشرے کا کوئی تماشا نہیں دکھایا، اگر اس نے ہمارے اندر زندگی کا کوئی نیا شعور پیدا نہیں کیا تو پھر  ہم اسے گالیاں دینے میں حق بجانب ہوں گے کہ اس نے ہمیں چین سے سونے بھی نہیں دیا۔ جو لوگ کسی قیمت پر جاگنا ہی نہیں چاہتے، انہیں تو ان کے حال پر چھوڑیے لیکن کیا آپ ’نیا قانون‘،’ہتک‘ ،’بابو گوپی ناتھ‘ جیسے افسانے پڑھ کر  دیانتداری کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ منٹو نے ہمیں چونکا کر مفت میں ہماری نیند خراب کرائی ؟

 اچھا منٹو نے چونکا یا بھی ہے دو طریقے میں۔ ایک تو اُس کے اچھے افسانے ہیں جنہیں پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ  انسانی حقیقت ہمارے لیے کچھ بدل سی گئی ہے۔ دوسری طرف اُس کے برُے افسانے ہیں۔ منٹو کا ڈھنڈورچی ہونے کے باوجود مجھے تسلیم ہے کہ اس نے بعض بہت ہی خراب افسانے لکھے ہیں لیکن اُس کے برُے سے برُے افسانے میں بھی آپ  کو دو ایک فقرے ایسے ضرور ملیں گے جو کسی نہ کسی آدمی یا چیز یا خیال یا احساس کو منور کر کے رکھ دیں گے۔ چاہے یہ روشنی ایسی ہو جو آپ کو پسند نہ آئے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں بھی آورد زیادہ ہے، یہ بھی منٹو کا مداری پن تھا۔ مگر پہلی بات تو یہ ہے کہ آمد اور آورد کا فرق ادب میں کوئی معنی نہیں رکھتا۔ کوئی چیز آمد ہو یا آورد، فیصلہ کن بات تو یہ ہے کہ اس سے نتیجہ کیا برآمد ہوا۔ اگر آورد کے ذریعے کسی تجربے کو اظہار مل گیا تو وہ آمد سے بہتر ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نوائے سروش بھی دو طرح سنی جاتی ہے، کبھی تو سروش اپنے آپ بول پڑتا ہے، کبھی اس کے کان مروڑ نے پڑتے ہیں۔سروش کی فیاضی سے تو ہر آدمی ہی ادیب بن سکتا ہے، لیکن سروش کو ز بر دستی بلوانے کے لیے ہمت درکار ہے کیونکہ سروش کے کان مروڑ نے کا مطلب ہے اپنے کان مروڑنا۔ آپ یہ تو ضرور کہہ سکتے ہیں کہ بعض دفعہ منٹو نے سروش کے کان اس طرح مروڑے کہ وہ بولنے کی بجائے چیخ پڑا یا اول فول بکنے لگا لیکن منٹو نے حوصلہ تو دکھایا۔ یہ کہہ دینا تو آسان ہے کہ منٹو کرتا ہی کیا تھا، دو بے جوڑ باتوں کو جوڑ دیتا تھا  مگر یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس ان مل بے جوڑ میں آدمی کا حلیہ بگڑ جاتا ہے۔ 

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار منٹو کے اندر اس شعبدے بازی کی تہہ میں جو چیز کام کر رہی تھی وہ یہ کہ منٹو اپنے چھوٹے سے چھوٹے احساس یا جذبے کو دبانے یا رد کرنے کا قائل نہ تھا۔ ہر چیز اُس کے اندر کوئی نہ کوئی رد عمل پیدا کرتی تھی اور وہ اس رد عمل کو قبول کر لیتا تھا۔ ان چھوٹے چھوٹے اور وقتی تجربات کو ایک دوسرے سے متعلق اور منضبط کرتے رہنے کی عادت اس میں نہ تھی۔ وقتی رد عمل کو وہ اتنادلچسپ یا وقیع سمجھتا تھا کہ اس پر انضباط و ارتباط کو قربان کر دیتا تھا۔ اسی لیے اُس کے افسانے کبھی تو بہت اچھے ہوتے  تھے کبھی بہت برے۔ اور کبھی افسانے میں ایک آدھ فقر ہ ہی کام کا نکلتا تھا۔ منٹو میں یہ بہت بڑا نقص تھا لیکن اُردو کے  دوسرے افسانہ نگاروں کا حال یہ رہا ہے کہ وہ یا تو اپنے احساس کو ایک ڈھرے پہ لگا دیتے ہیں ، اس ڈگر سے ہٹ کر کسی اور  قسم کے تجربے کی صلاحیت ان میں باقی ہی نہیں رہتی ، یا پھر وہ چھوٹے چھوٹے اور ہنگامی تجربات کو حقیر سمجھ کر رد کرتے چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ادیب دو چارا چھے افسانے لکھ کے ٹھپ ہو جاتے ہیں۔ اردو افسانے میں بس منٹو ایک ایسا آدمی ہے جو کسی جذبے یا احساس سے نہ ڈرتا تھا اور جس کے لیے کوئی احساس حقیر یا غیر دلچسپ نہ تھا۔

 بعض حضرات نے منٹو کے کارنا مے کو یہ کہہ کر اڑانے کی کوشش کی ہے کہ منٹو کے یہاں افسانے کا خام مواد تو ہے، افسانے نہیں ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اُردو کے دوسرے افسانہ نگاروں کے پاس خام مواد تک نہیں ہے۔ کیونکہ خام مواد تو احساسات اور جذبات ہی فراہم کرتے ہیں۔ جب آدمی اپنے اعصاب پر پہرے بٹھا دے تو نتیجہ ظاہر ہے۔ منٹو کی شخصیت اردو کے افسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ آزاد تھی۔ اس معنی میں کہ اس نے اپنے احساسات پر کسی قسم کی بندشیں نہیں لگائی تھیں۔ جب اُس کے احساسات ایک دوسرے سے آزاد ہونے لگتے تھے تو یہی چیز اس کے افسانے کے لیے مہلک بھی بن جاتی تھی، لیکن اُردو میں کوئی افسانہ نگار ایسا نہیں جو احساسات کی آزادی سے اتنا کم ڈرتا ہو۔ احساسات اور ارتعاشات کی ہلچل میں منٹو کی شخصیت ضرور پاش پاش ہوگئی لیکن اپنی زندگی اور موت سے منٹو نے ہمیں اتنا ضرور دکھا دیا کہ فن کار اپنا مواد کس طرح حاصل کرتا ہے کیونکہ اس نے مواد جمع کرنے کا کام سر عام اور سب کی نظروں کے سامنے کیا۔ اس لیے اردو میں اُس کی حیثیت محض ایک ادیب سے زیادہ سے۔ اسی لیے اس کی موت اُس کی زندگی کی معنویت کو مکمل کرتی ہے اور اسی لیے اُس کے بُرے افسانوں کو برا سمجھنے کے باوجود منٹو میں کو اردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار کہتا ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سکل بیسڈ لرننگ خواتین کیلئے نئے مواقع

ہمارا معاشرہ اس وقت ایک اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے جہاں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکل بیسڈ لرننگ تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ رجحان نہ صرف معاشی خودمختاری کا ذریعہ بن رہا ہے بلکہ سماجی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی کا سبب بھی بن رہا ہے۔

خواتین کیلئے رہنمائی :سردی اور دھوپ کی کمی کے سکن پر اثرات

سردیوں کا موسم اپنے ساتھ ٹھنڈی ہوا، خشک ماحول اور دھوپ کی کمی لے آتا ہے۔ یہ عوامل جہاں مجموعی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہیں سکن خاص طور پر متاثر ہوتی ہے۔

آج کا پکوان:چکن اچاری

اجزا:مرغی: آدھا کلو، کوکنگ آئل:دو کپ،پیاز: ایک عدد، کیچپ: ایک چمچ،دہی: دو کپ،ادرک ، لہسن کا پیسٹ: دو دو چائے کے چمچ،ہلدی: حسب ضرورت،سرسوں کے

رشید جہاں ، اُردو کی پہلی ڈرامہ نگار خاتون

اردو ادب میں جس طرح خواتین افسانہ نگاروں، ناول نگاروں اور شاعرات نے اپنی مخصوص فکر، جذبات اور احساسات کا اظہار منفر د زبان اور اسلوب میں کیا اسی طرح ڈراما نگاری کے ضمن میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔

حیدر آباد اور سیالکوٹ کی لیگ میں انٹری: پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیمیں شامل

پاکستان سپر لیگ کے سیزن 11 میں 8ٹیمیں مد مقابل ہوں گی: پہلے دو سیزن میں پانچ ٹیمیں اسلام آباد یونائیٹڈ، لاہورقلندرز، پشاور زلمی، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرزشامل تھیں،تیسرے سیزن سے چھٹی ٹیم ملتان سلطانز لیگ کا حصہ بنی

مطیعِ اعظم(چوتھی قسط )

سید نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی درخواست رد کر دی۔ تب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے سفارش کروائی لیکن سید نا علیؓ نے پھر انکار کر دیا۔ تب عبداللہ ؓ رات کی تاریکی میں مکہ چلے گئے۔