خواتین کیلئے رہنمائی :سردی اور دھوپ کی کمی کے سکن پر اثرات
سردیوں کا موسم اپنے ساتھ ٹھنڈی ہوا، خشک ماحول اور دھوپ کی کمی لے آتا ہے۔ یہ عوامل جہاں مجموعی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہیں سکن خاص طور پر متاثر ہوتی ہے۔
خواتین چونکہ ہارمونل تبدیلیوں، میک اَپ کے استعمال اور گھریلو و پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث پہلے ہی جلدی مسائل کا سامنا کرتی ہیں، اس لیے سردیوں میں مناسب احتیاط نہ برتی جائے تو خشکی، حساسیت اور قبل از وقت بڑھاپے کے آثار نمایاں ہو سکتے ہیں۔
سردی اور خشک موسم کے سکن پر اثرات
سردیوں میں ہوا میں نمی کم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں جلد اپنی قدرتی نمی کھو بیٹھتی ہے۔ اس کا سب سے عام نتیجہ خشکی، کھچاؤ اور کھردرا پن ہے۔ ہاتھوں، پاؤں، کہنیوں اور ہونٹوں پر یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ بعض خواتین میں ایگزیما یا الرجی جیسی علامات بھی شدت اختیار کر لیتی ہیں۔
دھوپ کی کمی اور وٹامن ڈی
دھوپ کی کمی جلد پر ایک اور بڑا اثر ڈالتی ہے۔ سورج کی روشنی وٹامن ڈی کا قدرتی ذریعہ ہے جو جلد کی صحت، کولیجن کی تیاری اور مجموعی مدافعت کے لیے ضروری ہے۔ سردیوں میں دھوپ کم ملنے سے وٹامن ڈی کی کمی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں جلد بے رونق، تھکی ہوئی اور قبل از وقت جھریوں کا شکار ہو سکتی ہے۔
خون کی گردش میں کمی
سرد موسم میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، جس سے جلد تک مناسب مقدار میں آکسیجن اور غذائی اجزاء نہیں پہنچ پاتے۔ اس وجہ سے جلد کی قدرتی چمک کم ہو جاتی ہے اور رنگت مدھم دکھائی دینے لگتی ہے۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور چہرے پر بے جان پن بھی اسی کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔
صابن اور گرم پانی کا غلط استعمال
سردیوں میں اکثر خواتین زیادہ گرم پانی سے نہاتی ہیں اور سخت صابن استعمال کرتی ہیں، جو جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ (Skin Barrier) کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس سے خشکی، جلن اور خارش میں اضافہ ہوتا ہے۔
احتیاطی تدابیر اور سکن کیئر روٹین موئسچرائزنگ کو معمول بنائیں
سردیوں میں موئسچرائزر کا باقاعدہ استعمال بے حد ضروری ہے۔ نہانے کے فوراً بعد جب جلد ہلکی نم ہو، اس وقت کریم یا لوشن لگائیں تاکہ نمی جلد میں محفوظ رہے۔ چہرے کے لیے ہلکی مگر گہری نمی دینے والی کریم اور جسم کے لیے موٹے لوشن کا انتخاب بہتر رہتا ہے۔
نرم کلینزر استعمال کریں
صابن یا فیس واش کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔ الکحل فری اور صابن سے پاک (Soap-free) کلینزر جلد کو صاف بھی رکھتے ہیں اور خشکی سے بھی بچاتے ہیں۔ دن میں دو بار سے زیادہ چہرہ دھونے سے گریز کریں۔
دھوپ سے فائدہ اٹھائیں
اگرچہ سردیوں میں دھوپ کم ہوتی ہے، پھر بھی روزانہ 15 سے 20 منٹ ہلکی دھوپ میں بیٹھنا وٹامن ڈی کے لیے فائدہ مند ہے۔ البتہ طویل وقت دھوپ میں رہنے کی صورت میں سن اسکرین کا استعمال نہ بھولیں، کیونکہ سردیوں میں بھی UV شعاعیں جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
پانی اور غذا کا خیال
سردیوں میں پیاس کم لگنے کے باعث پانی کا استعمال کم ہو جاتا ہے، جو جلد کی خشکی بڑھاتا ہے۔ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا ضروری ہے۔ غذا میں سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات، زیتون کا تیل اور مچھلی شامل کریں، جو جلد کو اندر سے غذائیت فراہم کرتے ہیں۔
ہونٹوں اور ہاتھوں کی خصوصی نگہداشت
ہونٹ اور ہاتھ سردیوں میں سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ لپ بام اور ہینڈ کریم کا بار بار استعمال کریں۔ سوتے وقت موٹی تہہ لگا کر نرم دستانے پہننا بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔
میک اَپ کا محتاط استعمال
سردیوں میں بھاری فاؤنڈیشن اور میٹ پروڈکٹس جلد کو مزید خشک کر سکتے ہیں۔ ہلکی، کریمی اور موئسچر بیسڈ مصنوعات کا استعمال بہتر رہتا ہے۔ میک اپ ہٹانا ہرگز نہ بھولیں۔سردی اور دھوپ کی کمی جلد پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے، مگر درست اسکن کیئر روٹین، متوازن غذا اور معمولی احتیاطی تدابیر اپنا کر خواتین اپنی جلد کو صحت مند، نرم اور چمکدار رکھ سکتی ہیں۔ یاد رکھیں، خوبصورت جلد کا راز مہنگی مصنوعات میں نہیں بلکہ مستقل نگہداشت اور صحت مند عادات میں پوشیدہ ہے۔