سکل بیسڈ لرننگ خواتین کیلئے نئے مواقع

تحریر : اُم رباب


ہمارا معاشرہ اس وقت ایک اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے جہاں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکل بیسڈ لرننگ تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ رجحان نہ صرف معاشی خودمختاری کا ذریعہ بن رہا ہے بلکہ سماجی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی کا سبب بھی بن رہا ہے۔

 سکل بیسڈ لرننگ سے مراد وہ عملی مہارتیں ہیں جو براہِ راست روزگار، کاروبار یا فری لانسنگ سے جڑی ہوتی ہیں، اور جنہیں سیکھنے کے لیے طویل تعلیمی اسناد کی شرط نہیں ہوتی۔پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود عملی زندگی میں مواقع سے محروم رہتی ہے۔ گھریلو ذمہ داریاں، سماجی پابندیاں، نقل و حرکت کے مسائل اور مناسب روزگار کا فقدان ایسی رکاوٹیں ہیں جو خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل رہتی ہیں۔ ایسے میں سکل بیسڈ لرننگ ایک ایسا متبادل راستہ فراہم کرتی ہے جو گھر بیٹھے بھی ممکن ہے اور محدود وسائل کے باوجود خواتین کو بااختیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ڈیجیٹل دور نے سکل بیسڈ لرننگ کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ آج پاکستانی خواتین آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے گرافک ڈیزائننگ، کنٹینٹ رائٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، ویڈیو ایڈیٹنگ، سوشل میڈیا مینجمنٹ اور ڈیٹا انٹری جیسی مہارتیں سیکھ کر نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔ فری لانسنگ پلیٹ فارمز نے خواتین کے لیے ایک ایسا محفوظ اور لچکدار ماحول پیدا کیا ہے جہاں وہ اپنی سہولت کے مطابق کام کر سکتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ روایتی مہارتیں بھی نئی شکل میں ابھر رہی ہیں۔ سلائی کڑھائی، فیشن ڈیزائننگ، بیوٹیشن کورسز، کرافٹس، بیکنگ اور کیٹرنگ جیسے ہنر اب صرف محدود دائرے تک نہیں رہے بلکہ آن لائن مارکیٹنگ اور ای کامرس کے ذریعے باقاعدہ کاروبار کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ بہت سی خواتین سوشل میڈیا پر اپنے برانڈز متعارف کروا کر مالی طور پر خود کفیل بن رہی ہیں۔

سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر بھی سکل بیسڈ لرننگ کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مختلف ادارے خواتین کے لیے فری یا کم لاگت تربیتی پروگرامز متعارف کروا رہے ہیں، جن کا مقصد انہیں جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا ہے۔ ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس ویمن ایمپاورمنٹ پروگرامز اور ڈیجیٹل پاکستان جیسے منصوبے اس سمت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اب بھی ان پروگرامز کی رسائی کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔سکل بیسڈ لرننگ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ خواتین کو صرف ملازمت کے قابل ہی نہیں بناتی بلکہ کاروباری سوچ بھی پیدا کرتی ہے۔ ایک ہنر مند خاتون نہ صرف اپنی آمدن بڑھا سکتی ہے بلکہ دیگر خواتین کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ اس طرح ایک فرد کی ترقی پورے خاندان اور بالآخر معاشرے کی ترقی کا باعث بنتی ہے۔

تاہم اس راستے میں چیلنجز بھی موجود ہیں۔ بہت سی خواتین کو ڈیجیٹل سہولیات، انٹرنیٹ تک رسائی، رہنمائی اور اعتماد کی کمی کا سامنا ہے۔ بعض علاقوں میں سماجی رویے اب بھی خواتین کے کام کرنے یا آن لائن سرگرمیوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ نہ صرف تربیتی مواقع بڑھائے جائیں بلکہ آگاہی مہمات کے ذریعے سکل بیسڈ لرننگ کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی مہارتوں کو شامل کریں، تاکہ لڑکیاں کم عمری سے ہی اپنے شوق اور صلاحیتوں کو پہچان سکیں۔ والدین اور خاندان کا تعاون اس عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ حوصلہ افزائی اور اعتماد ہی خواتین کو آگے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔

مختصراً، سکل بیسڈ لرننگ پاکستانی خواتین کے لیے محض ایک تعلیمی رجحان نہیں بلکہ ایک انقلابی موقع ہے۔ یہ خواتین کو خودمختار، پْراعتماد اور معاشی طور پر مستحکم بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے اور معاشرہ مل کر اس سمت میں سنجیدہ کوششیں کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستانی خواتین اپنی مہارتوں کے بل بوتے پر ملکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خواتین کیلئے رہنمائی :سردی اور دھوپ کی کمی کے سکن پر اثرات

سردیوں کا موسم اپنے ساتھ ٹھنڈی ہوا، خشک ماحول اور دھوپ کی کمی لے آتا ہے۔ یہ عوامل جہاں مجموعی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہیں سکن خاص طور پر متاثر ہوتی ہے۔

آج کا پکوان:چکن اچاری

اجزا:مرغی: آدھا کلو، کوکنگ آئل:دو کپ،پیاز: ایک عدد، کیچپ: ایک چمچ،دہی: دو کپ،ادرک ، لہسن کا پیسٹ: دو دو چائے کے چمچ،ہلدی: حسب ضرورت،سرسوں کے

سعادت حسن منٹو ۔۔۔اُردو کا سب سے بڑا افسانہ نگار

اس کے سینہ میں افسانہ نگاری کے سارے اسرارورموزدفن تھے: اردو افسانے میں بس منٹو ایک ایسا آدمی ہے جو کسی جذبے یا احساس سے نہ ڈرتا تھا اور جس کے لیے کوئی احساس حقیر یا غیر دلچسپ نہ تھا،منٹو کی شخصیت اردو کے افسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ آزاد تھی‘ اس معنی میں کہ اس نے احساسات پر کسی قسم کی بندشیں نہیں لگائی تھیں

رشید جہاں ، اُردو کی پہلی ڈرامہ نگار خاتون

اردو ادب میں جس طرح خواتین افسانہ نگاروں، ناول نگاروں اور شاعرات نے اپنی مخصوص فکر، جذبات اور احساسات کا اظہار منفر د زبان اور اسلوب میں کیا اسی طرح ڈراما نگاری کے ضمن میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔

حیدر آباد اور سیالکوٹ کی لیگ میں انٹری: پی ایس ایل میں 2 نئی ٹیمیں شامل

پاکستان سپر لیگ کے سیزن 11 میں 8ٹیمیں مد مقابل ہوں گی: پہلے دو سیزن میں پانچ ٹیمیں اسلام آباد یونائیٹڈ، لاہورقلندرز، پشاور زلمی، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرزشامل تھیں،تیسرے سیزن سے چھٹی ٹیم ملتان سلطانز لیگ کا حصہ بنی

مطیعِ اعظم(چوتھی قسط )

سید نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کی درخواست رد کر دی۔ تب عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے سفارش کروائی لیکن سید نا علیؓ نے پھر انکار کر دیا۔ تب عبداللہ ؓ رات کی تاریکی میں مکہ چلے گئے۔