ٹینکر مافیا سے چھٹکارے کی امید

تحریر : طلحہ ہاشمی


پیپلز پارٹی کو تقریباً ہر سیاسی جماعت تنقید کا نشانہ بناتی ہے، انہیں یہ حق خود پیپلز پارٹی نے دیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جو تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتی ہے اور تنقید پر وضاحت بھی پیش کرتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

 تاریخ رہی ہے کہ اکثر اوقات پیپلز پارٹی کے رہنما تحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں مگرآج کل کچھ رہنما کبھی تلخ بھی ہوجاتے ہیں، لیکن زیادہ تر رہنما مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس بار پھر اپنی مہمان نوازی اور برداشت کا عملی مظاہرہ کیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے سندھ کے دورے کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے خیرمقدم کیا۔ نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ سعید غنی نے ایئرپورٹ پر جاکر سہیل آفریدی کا استقبال کیا اور انہیں سندھی ٹوپی اور اجرک کا تحفہ پیش کیا۔ وزیراعلیٰ کے لیے جو پروٹوکول ہوتا ہے وہ بھی فراہم کیا گیا۔

تحریک انصاف نے باغ جناح گراؤنڈ کراچی میں جلسہ کی اجازت مانگی جو بالآخر دے دی گئی۔ اجازت نامے میں کچھ تاخیر ضرور ہوئی لیکن اجازت مل گئی۔ پی ٹی آئی نے مزارِ قائد کے پبلک گیٹ پر جلسے کا اعلان کردیا جس کی سندھ حکومت نے اجازت نہیں دی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے سندھ حکومت پر کئی الزامات عائد کردئیے۔ کہا کہ ان کے دورۂ حیدرآباد میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی گئی، واپسی پر راستہ بند کیا گیا، جلسہ میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اجرک اورٹوپی کا مان نہیں رکھا، حکومت کا رویہ افسوسناک ہے۔ سندھ حکومت عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالے بیٹھی ہے۔ انہوں نے صدر زرداری اور بلاول بھٹو پر بھی تنقید کی۔

پی ٹی آئی کے رویے پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا۔ شرجیل میمن نے نیوز کانفرنس کی اور بولے کہ پی ٹی آئی چاہتی تھی کہ کراچی میں ایک بار پھر 9مئی جیسا واقعہ ہوجائے مگر ہم نے تحمل کا مظاہرہ کیا، ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ سہیل آفریدی نے دورۂ حیدرآباد میں مقررہ روٹ کی خلاف ورزی کی۔ تھریٹ الرٹ تھا لیکن ہم نے اسے خفیہ رکھا۔ سہیل آفریدی کو شہر کے حوالے سے بتادیا گیا تھا کہ کہاں جائیں اور کہاں نہیں، انہوں نے کسی ہدایت پر عمل نہیں کیا۔ حکومت نے جلسے کی اجازت دی،پانچ منٹ بعد ہی پی ٹی آئی رہنماؤں نے گراؤنڈ کے بجائے سڑک پر جلسے کا اعلان کردیا۔ بعد میں انہوں نے باغ جناح میں جلسے کا اعلان کیا۔ باغِ جناح میں میڈیا اور پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، خاتون صحافی سے بدتمیزی کی۔ شرجیل میمن نے پی ٹی آئی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے مزیدکہا کہ ان کا ذہن اپنے لیڈر کا عکاس ہے جس نے انتشار اور بغاوت پیدا کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت 8فروری کو صوبے میں پہیہ جام نہیں ہونے دے گی۔

اب کچھ بات صوبے کی ممکنہ ترقی کے بارے میں۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کے ایم سی، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور محکمہ لوکل گورنمنٹ کا اجلاس ہوا۔ وزیراعلیٰ نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کی منظوری دی جس کا مقصد فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ شراکت داری تھا تاکہ شہر میں عالمی معیار کی ترقی لائی جائے۔ شہر کی 500سے زائد ترقیاتی سکیموں کے لیے 84ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعلیٰ نے منصوبوں میں شفافیت پر بھی زور دیا۔ سندھ میں ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر ریلوے ٹریک کی بحالی کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ ساڑھے چھ ارب جاری کرنے کی ہدایات بھی دے دی گئی ہیں۔ اس میں ٹرینیں چلانے کے لیے بھی رقم مختص کی گئی۔ جناب عالی، کراچی کو عالمی معیار کا شہر ضرور بنائیں، دنیا کے جدید ترین شہروں کے ہم پلہ کھڑا کریں لیکن اس سے پہلے کراچی میں عام سی سڑکیں تو بنا دیں۔ گٹروں پر پرانے والے ہی صحیح ڈھکن رکھوا دیں۔ حادثات میں کمی کے لیے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرائیں۔ ڈمپروں، ٹینکروں اور رکشوں یا منی بسوں پر سرکار کی جاری کردہ نمبر پلیٹیں تو لگوا دیں۔ شہر کو 24گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنوائیں، یونیورسٹی روڈ کی تعمیر، کریم آباد کا انڈرپاس، تین ہٹی تا گرومندر کی ٹوٹی پھوٹی سڑک بھی بنوا دیں۔ سڑکوں سے تجاوزات کا خاتمہ نہ کروائیں اتنا کم توکرادیں کہ گاڑی چلائی جاسکے۔ شہر کی کوئی ایک سڑک ایسی نہیں جس پر درجنوں کی تعداد میں ٹھیلے نہ لگے ہوں، ان ٹھیلوں کو ہٹوا دیں۔ عوام کو پینے کا صاف پانی تو فراہم کردیں، عوام کی بڑی تعداد ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہے، پینے کے لیے الگ پانی خریدنا پڑتا ہے۔ کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنائیں، کس نے روکا ہے، پہلے اسے عام سا شہر تو بنادیں۔

پانی کی بات پر یاد آیا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا ہے۔ انہوں نے ہائیڈرنٹس اور واٹر ٹینکروں کے خاتمے اور لائنوں کے ذریعے گھر گھر پانی پہنچانے کا اعلان کردیا۔ کئی دہائیاں ہوچکی ہیں لیکن اس شہر پر ٹینکر مافیا کا راج ہے، پانی کے لیے پیسے دینا پڑتے ہیں اور اسی کے ساتھ ٹینکر ڈرائیوروں کی منت سماجت الگ ہے۔ ویسے اگر یہ فیصلہ میئر نے شہریوں کی مشکلات کم کرنے کے لیے کیا ہے تو کیا ہی بات ہے اور اگر کسی کے مطالبے پر بھی کیا ہے تو اسے سلام! ورنہ کہاں ٹینکر مافیا اور کہاں ہم غریب۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔