اصل ’ ونڈر بوائے‘ کون؟

تحریر : سلمان غنی


محمود اچکزئی بطور اپوزیشن لیڈر رنگ دکھا پائیں گے؟

سیاسی افق پر انتشار اور خلفشار کے باوجود اگر حکومت کے معاملات اور کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں بہتری کی گنجائش تو ہے مگر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ حکومت خطرناک دور میں ہے۔ ملکی معاملات بھر پور طریقے سے چل رہے ہیں، بیرونی محاذ پر پاکستان کی پذیرائی میں اضافہ ہوا ہے اور معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں ۔ وزیراعظم شہبازشریف سمیت حکومتی ذمہ داران متحرک و فعال نظر آ تے ہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس صورتحال میں کسی ’ونڈر بوائے‘ کی تلاش ہے اور مقتدرہ اور حکومت کے درمیان سب اچھا نہیں تو یہ کسی کی خواہش ہو سکتی ہے لیکن عملاً حالات اس نہج پر نہیں ہیں۔

 اگر یہ کہا جائے کہ ملک کے اندر اور باہر پیدا شدہ حالات نے حکومت اور ریاست کو آپس میں جوڑ رکھا ہے تو یہ بے جانہ ہو گا۔ سیاسی حوالے سے جائزہ لیا جائے تو حکومت اور ریاست کے درمیان تعلقاتِ کار میں مضبوطی کا کریڈٹ کسی کو جاتا ہے تو وہ پی ٹی آئی اور اس کی لیڈر شپ ہے۔مقتدرہ نے بھی اصولی فیصلہ کر لیا ہے کہ جسے مذاکرات کرنے ہیں حکومت سے کرے۔ حکومت نے ذمہ داری کا ثبوت دیا اور وزیراعظم شہبازشریف نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی لیکن اپوزیشن نے مذاکرات کی میز پر آنے میں سنجیدگی دکھانے کی بجائے مفاہمت اور مزاحمت جاری رکھی۔ حکومت کی جانب سے اس پیشکش  کا اپوزیشن فائدہ نہ اُٹھا سکی اور عملاً مذاکرات کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ جہاں تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کا سوال ہے تو عمومی رائے یہی ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف ہی ’ونڈر بوائے‘ تھے اور ہیں، اور انہوں نے اپنے طرزِ عمل اور طریقہ کار سے مقتدرہ کو ایسا کوئی موقع نہیں دیا کہ تحفظات پیدا ہوں اور مقتدرہ بارے بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ 10مئی کو پاکستان کو ملنے والی بڑی فتح کے نتیجہ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ملنے والے بڑے کردار کا حکومت کو عالمی محاذ پر فائدہ پہنچا اور وزیراعظم کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کا ذریعہ بھی فیلڈ مارشل ہی تھے۔ اس عمل نے ثابت کیا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کو اپنی انڈرسٹینڈنگ کی وجہ سے اہمیت و حیثیت ملی ۔

 وزیراعظم شہبازشریف نے سیاسی محاذ پر ثابت کیا کہ وہ نہ صرف اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی ساتھ لیکر چلنے کا ادراک رکھتے ہیں۔ ملک میں سیاسی درجہ حرارت تیز ہے لیکن زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو عوام پر اہلِ سیاست کے بیانات کا اثر نظر نہیں آتا۔ اس کی بڑی وجہ حکومت، اہل ِسیاست اور عوام کے درمیان خلیج ہے۔ مسائل زدہ عوام اپنے مسائل میں الجھے ہیں اور کوئی ان کی آواز بننے کو تیار نہیں۔اپوزیشن، جس کے بارے کہا جاتا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف عوام کی آواز بنتی ہے، وہ اپنے ہی معاملات میں مگن ہے ۔ تحریک انصاف نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم پر اپنی قیادت کی ذمہ داری پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور مجلس ِوحدت المسلمین کے سربراہ راجہ ناصر عباس کو سونپ رکھی ہے۔اپنی تحریک کی تیاریوں کے سلسلے میں رواں ہفتہ وہ لاہور آئے مگر ان کی سرگرمیاں مختلف رہنمائوں، میڈیا کے نمائندوں اور بار ایسوسی ایشن سے خطاب تک محدود رہیں۔

اس دورہ کو سیاسی سرگرمی تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے نتیجہ میں نہ تو پی ٹی آئی کے حلقے فعال نظر آئے اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسے دوروں کے نتیجہ میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے کوئی بڑی تحریک اُٹھ سکتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پی ٹی آئی کے حلقے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی لیڈر شپ کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں ۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ پی ٹی آئی کے ذمہ داران کو انہیں لاہور میں اپنی رہائش گاہوں پر مدعو کرنے اور مختلف طبقات کے رہنمائوں سے ملاقاتوں کیلئے کہا گیا لیکن بوجوہ بعض رہنمائوں نے اس سے احتراز برتا۔ اس صورتحال میں کیسے کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی یا اپوزیشن 8فروری کو ملک بھر میں یوم احتجاج کے موقع پر ہڑتال یا پہیہ جام کرا سکے گی ؟ جوں جوں 8فروری قریب آ رہا ہے اپوزیشن کے ذمہ داران اس دعویٰ اور اپیل سے صرفِ نظر کرتے نظر آ  رہے ہیں ۔

 اسی ہفتہ سیاسی محاذ پر ایک پیش رفت قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے چنائو کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دیکھنے میں آئی۔ خبریں یہ ہیں کہ میٹنگ میں محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا اصولی فیصلہ ہو گیا کیونکہ اس منصب پر کسی اور نے کاغذات جمع نہیں کرائے اور اب سپیکر ایاز صادق اس کا اعلان کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر کے چنائو میں اصل رکاوٹ سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی ایک عدالتی رٹ تھی جو انہوں نے واپس لے لی۔ بانی پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ ناصر عباس کا انتخاب کس بنا پر کیا یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔محمود خان اچکزئی کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ جمہوری حوالے سے ان کی اہمیت ضروری ہے مگر ریاست، ریاستی اداروں خصوصاً افغانستان کے حوالے سے پالیسی پر ان کے بیانات ڈھکے چھپے نہیں ۔ اب تک کی صورتحال میں انہوں نے افغان پالیسی پر اس لیے کھل کر اظہار نہیں کیا کہ ان کو اپنی نامزدگی بارے نوٹیفکیشن کا انتظار تھا ۔حکومت کوبھی محمود خان اچکزئی کے خیالات پرتحفظات تھے لہٰذا اب جب تکنیکی طور پر ان کے بطور اپوزیشن لیڈر انتخاب کا فیصلہ ہوا ہے تو ان کا کردار ان کا اصل رنگ ظاہر کرے گا ۔

افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی پر ان کے اور تحریک انصاف کے خیالات میں بڑا اختلاف نہیں۔ نئے اپوزیشن لیڈر پاکستان میں احتجاج یا احتجاجی تحریک کے حوالے سے کوئی بڑا کردار ادا کر سکیں گے یا نہیں اس حوالے سے دو آرا ہو سکتی ہیں لیکن افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی اور سازشوں پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کریں گے اور اس سے تحریک انصاف کیلئے ریلیف کے امکانات تو کجا مشکلات بڑھیں گی ۔اس لئے کہ پاکستان کی ریاست اور حکومت اس حوالے سے یکسو ہیں کہ دہشت گردی میں افغان سرزمین کا استعمال ڈھکا چھپا نہیں، افغان طالبان ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد  تنظیموں کی پشت پر کھڑے ہیں اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اس بیانیہ کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو روکنا ہو گا۔ کیا پی ٹی آئی عوام کو اس حوالے سے مطمئن کر پائے گی ؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا پلان ؟

معاشی میدان میں پاکستان کا اعتماد بتدریج بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس بار یہ معاملہ محض دعوؤں تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں بھی سامنے آنے لگا ہے۔

ٹینکر مافیا سے چھٹکارے کی امید

پیپلز پارٹی کو تقریباً ہر سیاسی جماعت تنقید کا نشانہ بناتی ہے، انہیں یہ حق خود پیپلز پارٹی نے دیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جو تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتی ہے اور تنقید پر وضاحت بھی پیش کرتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

خیبرپختونخوا نظرانداز ہورہا ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پنجاب کے بعد سندھ سے بھی ہوآئے۔ یہ دورہ کامیاب رہا یا ناکام، پی ٹی آئی سٹریٹ پاور دکھانے میں کامیاب رہی یانہیں، جس مقصد کیلئے وزیراعلیٰ وہاں گئے تھے وہ حاصل ہوسکا یانہیں اورپارٹی کو اس دورے سے کتنا فائدہ ہواان سوالات سے قطع نظر دیکھا جائے تو اُن کا اپنا سیاسی قد ضرور بلند ہوا ہے۔

میرٹ، شفافیت اوراعلانات

ایران میں بگڑتی صورتحال سے پاک ایران سرحد پر سیکورٹی دباؤ کا سامنا ہے۔ گوادر سے متصل پاک ایران سرحد پر بارڈر پلر نمبر 250 گبد ریمدان سے گزشتہ دونوں تقریباً 200 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچے جن میں 125 طلبہ شامل تھے۔

جولائی میں عام انتخابات کی تیاریاں

وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی کوششیں رنگ لائیں اوروفاقی حکومت نے گزشتہ روز صحت سہولت پروگرام کے تحت آزاد جموں وکشمیر کے شہریوں کے لیے صحت کارڈ کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا۔

سکل بیسڈ لرننگ خواتین کیلئے نئے مواقع

ہمارا معاشرہ اس وقت ایک اہم تبدیلی کے دور سے گزر رہا ہے جہاں روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ سکل بیسڈ لرننگ تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین کے لیے یہ رجحان نہ صرف معاشی خودمختاری کا ذریعہ بن رہا ہے بلکہ سماجی ڈھانچے میں مثبت تبدیلی کا سبب بھی بن رہا ہے۔