آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کا پلان ؟
معاشی میدان میں پاکستان کا اعتماد بتدریج بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس بار یہ معاملہ محض دعوؤں تک محدود نہیں رہا بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں بھی سامنے آنے لگا ہے۔
ماضی میں تقریباً ہر حکومت یہی دعویٰ کرتی رہی کہ پاکستان آئی ایم ایف سے نجات حاصل کر لے گا مگر اس کے باوجود ملک کو 24 مرتبہ آئی ایم ایف کے پروگراموں میں جانا پڑا۔اس وقت پاکستان میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت 24 واں پروگرام جاری ہے جو 2024ء میں شروع ہوا اور 2027ء میں مکمل ہو گا۔ اس پروگرام کو حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے پاکستانی معاشی ٹیم کو سخت فیصلے کرنا پڑے جن کی قیمت براہِ راست عوام نے ادا کی۔ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا، کئی ٹیکس استثنیٰ ختم کیے گئے، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور شرح سود کو تاریخ کی بلند ترین سطح تک لے جانا پڑا۔ بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، پٹرول پر سبسڈی ختم ہوئی، گیس مہنگی ہو گئی جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ دباؤ تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے پر پڑا۔پاکستان کی معاشی خود مختاری محدود ہو کر رہ گئی۔ بجٹ سازی سے قبل آئی ایم ایف کی منظوری ناگزیر ہو گئی جس کے باعث حکومت کے پاس عوامی فلاح سے متعلق فیصلوں کی گنجائش کم ہوتی چلی گئی۔ مہنگی بجلی نے ملکی صنعت کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔ خطے میں سب سے مہنگی توانائی کے باعث پاکستان کی برآمدات متاثر ہوئیں اور کئی ٹیکسٹائل ملیں بند ہونے پر مجبور ہو گئیں۔
حکومت کو 2027ء تک موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مزید چار ارب ڈالرز ملنے ہیں۔ تین برسوں میں مجموعی طور پر سات ارب ڈالرز ملنے تھے۔پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام میں جانا اس لیے ناگزیر ہو چکا تھا کہ دوست ممالک سے مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کا سرٹیفکیٹ عملی طور پر شرط بن چکا تھا۔تاہم اس کے بعدآئی ایم ایف پروگرام سے بچنے کی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے آئی ایم ایف کے بغیر معاشی ترقی کے لیے تین اہم کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو وزیر اعظم شہباز شریف کو اپنی سفارشات پیش کریں گی۔ معاشی گروتھ کمیٹی کی سربراہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کر رہے ہیں جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ایف بی آر اصلاحات اور برآمدات میں اضافے سے متعلق کمیٹی کی قیادت کر رہے ہیں۔ قانونی اصلاحات سے متعلق کمیٹی کی سربراہی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے سپرد ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی نے اپنی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی ہے جس میں برآمدات بڑھانے میں درپیش سنگین چیلنجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہنگی بجلی، پیچیدہ ٹیکس نظام، پالیسیوں کا عدم تسلسل اور سخت ریگولیٹری پابندیاں برآمدات میں اضافے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ توانائی کی بلند اور غیر مستحکم قیمتیں انڈسٹری کے لیے ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہیں جبکہ بجلی اور گیس کے نرخ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، زرعی پراسیسنگ، معدنیات، مینوفیکچرنگ متاثر ہو رہی ہے اور برآمدی آرڈرز دیگر ممالک کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت غیر معمولی حد تک زیادہ ہے جس کی بڑی وجوہات پیچیدہ ٹیکس نظام، ٹیرف سٹرکچر، ایڈوانس انکم ٹیکس کی کٹوتیاں اور ریفنڈز میں تاخیر ہے۔ ان مسائل پر قابو پا کر حکومت نے 2035ء تک برآمدات کو 120 ارب ڈالرز تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے جبکہ اس وقت پاکستان کی سالانہ برآمدات تقریباً 35 ارب ڈالرز ہیں۔
وزیر قانون کی سربراہی میں قائم کمیٹی حوالہ ہنڈی کے خاتمے اور کرپٹو کرنسی سمیت مختلف ریگولیٹری معاملات کو بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔اسی دوران پاکستان کی دفاعی برآمدات میں بھی نمایاں اضافے کی توقع ہے۔ پاکستان کی دفاعی صنعت نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے اور معرکۂ حق کے بعد دنیا کے کئی ممالک کی پاکستانی دفاعی پیداوار میں دلچسپی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں کئی ممالک نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں سمیت دفاعی سازوسامان کی خریداری کے لیے پاکستان سے معاہدوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔پاکستان ممکنہ طور پراربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدے کرنے جا رہا ہے۔ آذربائیجان، لیبیا، سعودی عرب، بنگلہ دیش، عراق، سوڈان اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک پاکستان سے لڑاکا طیارے اور دفاعی سازوسامان خریدنے میں سنجیدہ دلچسپی لے رہے ہیں اور ان میں سے کئی ممالک کے ساتھ جلد معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
پاکستان اربوں ڈالرز کے کرپٹو اثاثوں کو باضابطہ مالی نظام میں شامل کرنے کے لیے قانون سازی کر چکا ہے اور اس مقصد کے لیے لائسنسوں کے اجرا کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔ عالمی جریدوں کے مطابق پاکستان معدنی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے اور مائننگ پالیسیوں میں اصلاحات کر کے انہیں عالمی معیار سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے۔ اپریل 2026ء میں پاکستان میں منرلز انویسٹمنٹ سمٹ منعقد ہو رہی ہے جس میں عالمی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی جائے گی۔ اگر پاکستان اپنے معدنی پوٹینشل کو درست طریقے سے استعمال کر پایا تو ملک کے معاشی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق معدنیات اور قیمتی پتھروں کے شعبے میں متوقع ترقی سے آئندہ دس برسوں میں جی ڈی پی میں سالانہ سات ارب ڈالرز تک اضافہ ممکن ہے۔
یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ پاکستان جہاں معدنی وسائل اور دفاعی صنعت میں پیش رفت کر رہا ہے وہیں بنیادی معاشی ڈھانچے میں اصلاحات کی سنجیدہ کوششیں بھی نظر آ رہی ہیں۔ اگر آئندہ ایک برس کے بعد پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد ہو جاتا ہے تو حکومت کے پاس عوام کو براہ راست ریلیف فراہم کرنے کے اختیارات بڑھ جائیں گے۔ اشیائے ضروریہ پر سبسڈی، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر فیصلوں کے ذریعے عام آدمی کو فوری ریلیف مل سکتا ہے۔تاہم آئی ایم ایف سے حقیقی آزادی کے لیے حکومت کو طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت اصلاحاتی ایجنڈے پر مستقل مزاجی سے عمل کرنا ہو گا، ورنہ یہ آزادی وقتی ثابت ہو سکتی ہے۔