صدیق اکبر ؓکی لازوال تصدیق

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’نبی ﷺ نے فرمایا ہے تو اس کے حق ہونے میں کوئی شک نہیں‘‘

جب حضورﷺ نے قریش مکہ کے سامنے واقعہ معراج بیان فرمایا تو انہوں نے (معاذ اللہ) تمسخر کیا اور ابو جہل نے قریش مکہ کو جمع کر کے مذاق اڑایا۔ ہر طرف آدمی دوڑائے اور زیادہ سے زیادہ آدمی جمع کر کے تکذیب و تمسخر کیلئے واقعہ معراج سنایا۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو بلانے کیلئے آدمی بھیجے اور ان سے کہا کہ تمہارے رسول (ﷺ) فرماتے ہیں کہ میں راتوں رات مکہ سے بیت المقدس اور وہاں سے آسمانوں پر پہنچا اور تمام آسمانوں کی سیر کر کے واپس آ گیا، کیا ان کی ایسی بات کی بھی آپؓ تصدیق کریں گے۔ صدیق اکبر ؓ نے کہا میں تو اس سے بھی زیادہ بعید چیزوں میں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔ اگرآپﷺ نے فرمایا ہے تو اس کے حق ہونے میں کوئی شک نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓنے حضور سید عالم ﷺسے عرض کیا کہ میں نے بیت المقدس دیکھا ہوا ہے آپ ﷺ میرے سامنے اس کی صفت بیان فرمائیں۔ بیت المقدس منکشف ہو گیا اور حضور ﷺ نے مسجد اقصیٰ کے در و دیوار، اس کی ہیئت اور کیفیت وغیرہ امور بیان فرمائے۔ (مواہب اللدنیہ جلد ثانی)

کفارِ قریش جو تکذیب و تمسخر کے در پے تھے، کہنے لگے کہ ہم نے آسمان تو دیکھے نہیں لیکن مسجد اقصیٰ دیکھی ہے، آپﷺ ہمارے سامنے اس کی پوری ہیئت، نوعیت و کیفت بیان فرمائیں۔ حضور اکرمﷺ بیان فرمانے لگے تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ کو حضور اکرم ﷺکے سامنے  رکھ دیا۔ حضورﷺ اسے دیکھتے جاتے اور بیان فرماتے جاتے۔ علاوہ ازیں صدیق اکبرؓ کے سامنے سب کچھ بیان فرما چکے تھے۔ 

جب حضور اکرم ﷺمسجد اقصیٰ کے متعلق ہر سوال کا جواب دے چکے تو کفارِ قریش حیران ہوئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حضورﷺ نے کبھی مسجد اقصیٰ نہیں دیکھی۔ مجبوراً انہیں کہنا پڑا کہ مسجد اقصیٰ کے متعلق جو کچھ حضورﷺنے فرمایا سب درست ہے لیکن اس خیال سے کہ شاید کسی سے سن کر بیان کر دیا ہو کفارِ قریش کہنے لگے کہ مسجد اقصیٰ کا نقشہ تو آپﷺ نے ٹھیک ٹھیک بیان فرما دیا لیکن یہ بتائیے کہ مسجد اقصیٰ جاتے یا آتے ہوئے ہمارا قافلہ بھی آپﷺ کو ملا یا نہیں؟ 

حضورﷺ نے فرمایا’’ ہاں (ایک شخص کا نام لے کر ارشاد فرمایا کہ) بنی فلاں کے قافلہ پر مقام روحاء پر میں گزرا۔ ان کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا وہ اسے تلاش کر رہے تھے اور ان کے پالان میں پانی کا بھرا ہوا ایک پیالہ رکھا تھا۔ مجھے پیاس لگی تو میں نے پیالہ اٹھا کر ان کا پانی پی لیا۔ پھر اس کی جگہ اس کو ویسے ہی رکھ دیا جیسے وہ پہلے رکھا ہوا تھا۔ جب وہ لوگ آئیں تو ان سے دریافت کرنا کہ جب وہ اپنا گمشدہ اونٹ تلاش کر کے اپنے پالان کی طرف آئے تھے تو کیا انہوں نے اس پیالے میں پانی ڈالا تھا یا نہیں؟‘‘

 انہوں نے کہا، ہاں ٹھیک ہے یہ ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ پھر نبی کریم ﷺنے ایک شخص کا نام لے کر فرمایا کہ’’ میں بنی فلاں کے قافلہ پر بھی گزرا اور فلاں اور فلاں (جن کا نام حضورﷺ نے ذکر فرمایا لیکن راوی کو یاد نہیں رہا) دو آدمی مقام ذی طویٰ میں ایک اونٹ پر سوار تھے، ان کا اونٹ میری وجہ سے بدک کر بھاگااور وہ دونوں سوار گر پڑے، ان میں فلاں شخص کا ہاتھ ٹوٹ گیا۔ جب وہ آئیں تو دونوں سے یہ بات دریافت کر لینا۔ انہوں نے کہا، اچھا یہ دوسری نشانی ہوئی۔ 

پھر انہوں نے حضورﷺسے ایک قافلہ کی بابت معلوم کیا۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا ’’ میں اس قافلہ پر مقام تنعیم میں گزرا ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا اس کی گنتی بتایئے اور وہ قافلہ کیا چیز لاد کر لا رہا ہے۔ اس کی ہیئت کیا ہے اور اس میں کون کون لوگ ہیں؟ نبی کریم ﷺنے فرمایا ’’ہا ں اس کی ہیئت ایسی اور ایسی ہے اور اس قافلے کے آگے بھورے رنگ کا اونٹ ہے۔ اس پر دھاری دار دو بوریاں لدی ہوئی ہیں اور سورج نکلتے ہی مکہ میں پہنچ جائے گا‘‘۔ انہوں نے کہا، یہ تیسری نشانی ہوئی۔ 

پھر وہ پہاڑ کی گھاٹی کی طرف دوڑے، وہ کدیٰ پہاڑی پر آ بیٹھے اور انتظار کرنے لگے کہ سورج کب نکلے تاکہ ہم حضورﷺکی تکذیب کریں (معاذ اللہ)، ناگہاں ان میں سے ایک آدمی بولا خدا کی قسم! یہ سورج نکل آیا۔ دوسری طرف انہی کے ایک آدمی نے اسی وقت کہا۔ خدا کی قسم! یہ قافلہ بھی آگیا۔ اس کے آگے بھورے رنگ کا اونٹ ہے، اس قافلہ میں فلاں فلاں آدمی ہیں بالکل اسی طرح جیسا کہ حضور اکرمﷺ نے بیان فرمایا تھا لیکن اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے اور یہ کہا کہ (معاذ اللہ) یہ کھلا جادو ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔