قصور میرا نہیں اس بار

تحریر : روزنامہ دنیا


زندگی کے دن ہیں چارمانگ نہ تو کبھی اُدھار

پڑے جوتے ایک سو ایک

نہانے سے کیا جو انکار

چھیڑا جو تو نے مجھے

پڑے گی پھر تجھے مار

آج پھر سکول جائوں کیوں

ہوں میں دیکھو بڑا بیمار

سائیکل مجھے چلانا نہیں آتا

چلائوں گا میں تو کار

ہوا فیل دھرنوں کے سبب

قصور میرا نہیں اس بار

ہوں میں اک پٹاخہ بم

کہتے ہیں یہ میرے یار

باتوں سے جیت نہیں سکا

گیا میں تجھ سے ہار

(نعیم  انصر ہاشمی، جھنگ )

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مطیعِ اعظم (آخری قسط )

ایک مرتبہ ایک آدمی نے انہیں اس انداز میں پکارا: ’’ اے سب سے اچھے یا سب سے اچھے انسان کے بیٹے‘‘۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’ نہ میں سب سے اچھا ہوں اور نہ سب سے اچھے انسان کا بیٹا ہوں، بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں اور اس ذات باری تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہوں۔

بندر، خرگوش اور لومڑی

بندر، خرگوش اور لومڑی اکٹھے رہتے تھے اور ہمیشہ مل کر کام کرتے تھے۔لیکن لومڑی کو جب کچھ کھانے کو ملتا تو وہ اسے دوسروں سے بانٹنے سے انکار کر دیتی تھی۔

ایلیئنز کی واپسی

آج حاشر نے سکول سے گھر آکر خاموشی سے بیگ ایک طرف رکھا اور سیدھا نماز ِ ظہر کی ادائیگی کیلئے کپڑے بدل کر وضو کرنے لگا۔ اس کو یوں اچانک خاموش اور پھر نماز پڑھتا دیکھ کر دادی اور امی بہت حیران ہوئیں کہ حاشر تو بہت شرارتی ہے، اسے آج کیا ہو گیا ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

سمندر کا فرش کس طرح کا ہے؟

ذرا مسکرایئے

ماں (بیٹے سے) : وسیم! میری خاطر دو ا پی لو‘ دیکھو میں تمھاری خاطر ہر کام کرتی ہوں۔ وسیم : امی جان! اچھا تو پھر آپ میری خاطر یہ دوا بھی پی لیجئے۔٭٭٭

پہیلیاں

اک ادا سے جب وہ تھرکےچھم چھم ناچ دکھائے