قصور میرا نہیں اس بار
زندگی کے دن ہیں چارمانگ نہ تو کبھی اُدھار
پڑے جوتے ایک سو ایک
نہانے سے کیا جو انکار
چھیڑا جو تو نے مجھے
پڑے گی پھر تجھے مار
آج پھر سکول جائوں کیوں
ہوں میں دیکھو بڑا بیمار
سائیکل مجھے چلانا نہیں آتا
چلائوں گا میں تو کار
ہوا فیل دھرنوں کے سبب
قصور میرا نہیں اس بار
ہوں میں اک پٹاخہ بم
کہتے ہیں یہ میرے یار
باتوں سے جیت نہیں سکا
گیا میں تجھ سے ہار
(نعیم انصر ہاشمی، جھنگ )