ایلیئنز کی واپسی

تحریر : طُوبیٰ سعید


آج حاشر نے سکول سے گھر آکر خاموشی سے بیگ ایک طرف رکھا اور سیدھا نماز ِ ظہر کی ادائیگی کیلئے کپڑے بدل کر وضو کرنے لگا۔ اس کو یوں اچانک خاموش اور پھر نماز پڑھتا دیکھ کر دادی اور امی بہت حیران ہوئیں کہ حاشر تو بہت شرارتی ہے، اسے آج کیا ہو گیا ہے۔

جب حاشر نماز سے فارغ ہوا تو انھوں نے اسے حیرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ ان کے اس طرح دیکھنے پر حاشرنے پوچھا:آپ دونوں مجھے ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟'

 امی نے کہا:تم سکول سے بہت خاموش آئے، خیریت تھی؟ اور تو اور، تم نے نماز بھی پڑھی! ہمیں اسی لیے حیرت ہو رہی ہے۔حاشر بولا:اچھا تو یہ بات ہے۔ بھلا اس میں حیرانگی والی کونسی بات ہے؟ ۔

حاشر تھوڑی دیر سوچنے کے بعد پھر بولا ’’کل رات میں چھت پر تھا، بہت ٹھنڈ تھی لیکن آسمان صاف تھا، چاند بھی واضح دکھائی دے رہا تھا۔میں نے آپ دونوں سے سنا تھا کہ ایک بڑھیا چاند پر چرخہ کات رہی ہے۔ میں نے اپنی دوربین سے چاند کی طرف دیکھا تو جہاں مجھے چاند بہت قریب نظر آیا، وہیں مجھے چاند پر کچھ عجیب سی مخلوق نظر آئی۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ کون  لوگ ہیں؟ جبکہ میں نے تو بڑھیا دیکھنی تھی۔ میں نے اور زیادہ دھیان دے کر دوربین کی مدد سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ مدد کو پکار رہے تھے۔ جیسے ہی انھوں نے دیکھا کہ ایک لڑکا دوربین سے دیکھ رہا ہے، انھوں نے اشاروں کی مدد سے ایک لائن کھینچ کر میری طرف بھیجی۔ میں یکدم ڈر گیا کہ چاند اتنا دور ہے اور انھیں میں زمین پر کیسے دکھائی دے گیا؟

 میں نے دوربین سے پھر زیادہ غور سے دیکھا تو یہ کچھ ایلیئنز تھے۔حاشر بڑے انہماک سے یہ سب بتا رہا تھا۔ دادی جان اور امی حیرانی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں اور بولیں: پھر،کیا ہوا پھر؟

حاشر نے بات جاری رکھی اور بولا: جو لائن کھینچی گئی تھی، اُس میں کچھ لکھا تھا، جو یہ تھا کہ ہم یہاں اس دنیا میں اپنی دنیا سے آئے تھے، اور اب واپس جارہے تھے کہ ہماری گاڑی چاند پر پہنچتے ہی خراب ہوگئی۔ ہم یہاں پھنس چکے ہیں، ٹھنڈ بھی بہت زیادہ ہے۔ ہم سے کوئی سائنسدان رابطے میں نہیں ہے۔ امریکی سپیس شپ میں پیغام بھیجواؤ کہ ہماری مدد کی جائے۔

میں بہت حیران ہوا۔ میں نیچے آیا اور فوری طور پر کمپیوٹر کی مدد سے امریکی سپیس شپ والوں کا نمبر تلاش کرنا چاہا۔ بالآخر مجھے ایک ویب سائٹ سے NASA (ناسا) کا رابطہ نمبر مل گیا۔ میں نے فوری طور پرانہیں ایک ای میل کی کہ میں حاشر کامران، لاہور، پاکستان سے ہوں۔ میں دوربین سے چاند کا مشاہدہ کر رہا تھا کہ اچانک مجھے وہاں کچھ ایلیئنزملے، جنہوں نے مجھے مدد کیلئے پکارا۔ انھوں نے مجھے کہا کہ ہم اپنی دنیا میں جاتے ہوئے یہاں پھنس گئے ہیں۔ ہماری گاڑی خراب ہو گئی ہے اور ٹھنڈ بھی بہت ہے۔ خدارا! ہمیں اپنی دنیا پہنچایا جائے۔

جب میں نے یہ میل کی تو مجھے فوری طور پر وہاں کے ایک ملازم ایلکس فارمٹ کا جواب موصول ہوا ’’جی، جی! ضرور ہم مدد کرتے ہیں، آپ کا ہمیں بروقت اطلاع پہنچانے کا شکریہ۔ ہم آپ کو باخبر کرتے رہیں گے‘‘۔ 

جب یہ پیغام ملا تو مجھے بہت اچھا لگا کہ میں نے خلائی مخلوق کی مدد کی۔کچھ دیر بعد میں دوبارہ اوپر گیا اور دوربین سے مشاہدہ کرنے ہی والا تھا کہ ایک اور روشنی میری جانب آئی۔ میں یکدم پھر گھبرایا اور دوربین سے اس روشنی کی طرف دیکھنے لگا تاکہ میں ایلیئنز کو بتا سکوں کہ ان کا پیغام میں پہنچا چکا ہوں۔ جب دیکھا تو وہ مجھے مسکراتے ہوئے خدا حافظ کر رہے تھے اور پیغام لکھ رکھا تھاکہ ہم اب خیریت سے اپنی دنیا کی طرف روانہ ہو رہے ہیں، حاشر بھائی جان! آپ کی مدد کا بہت بہت شکریہ۔ 

 ان کے ساتھ امریکی خلاباز بھی کھڑے تھے جو  مجھے تحسین بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ایلیئنز فرطِ جذبات سے رو رہے تھے، اور مجھ سمیت تمام انسانوں کو پیار و محبت اور امن کا گہوارہ تصور کر رہے تھے۔میری بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ پھر میں نے انھیں خدا حافظ کہا اور وہ اپنی گاڑی پر بیٹھ کر چلے گئے۔ یہ سب میرے لیے باعثِ فخر تھا۔ سوچا کہ جب اتنا دماغ اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کو دیا ہے تو کیوں نہ پانچ وقت کی نماز ادا کی جائے تاکہ یہ ذہن کو اور جلا بخشیں۔یہ سن کر دادی اور امی جان مسکرا دیں اور اسے بہت سا پیار دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مطیعِ اعظم (آخری قسط )

ایک مرتبہ ایک آدمی نے انہیں اس انداز میں پکارا: ’’ اے سب سے اچھے یا سب سے اچھے انسان کے بیٹے‘‘۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’ نہ میں سب سے اچھا ہوں اور نہ سب سے اچھے انسان کا بیٹا ہوں، بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں اور اس ذات باری تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہوں۔

بندر، خرگوش اور لومڑی

بندر، خرگوش اور لومڑی اکٹھے رہتے تھے اور ہمیشہ مل کر کام کرتے تھے۔لیکن لومڑی کو جب کچھ کھانے کو ملتا تو وہ اسے دوسروں سے بانٹنے سے انکار کر دیتی تھی۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

سمندر کا فرش کس طرح کا ہے؟

قصور میرا نہیں اس بار

زندگی کے دن ہیں چارمانگ نہ تو کبھی اُدھار

ذرا مسکرایئے

ماں (بیٹے سے) : وسیم! میری خاطر دو ا پی لو‘ دیکھو میں تمھاری خاطر ہر کام کرتی ہوں۔ وسیم : امی جان! اچھا تو پھر آپ میری خاطر یہ دوا بھی پی لیجئے۔٭٭٭

پہیلیاں

اک ادا سے جب وہ تھرکےچھم چھم ناچ دکھائے