بندر، خرگوش اور لومڑی
بندر، خرگوش اور لومڑی اکٹھے رہتے تھے اور ہمیشہ مل کر کام کرتے تھے۔لیکن لومڑی کو جب کچھ کھانے کو ملتا تو وہ اسے دوسروں سے بانٹنے سے انکار کر دیتی تھی۔
ایک دن بندر اور خرگوش جنگل میں کچھ کھانے کی تلاش میں گئے، انھیں ایک درخت کے نیچے سویا ہوا گھوڑا نظر آیا۔ خرگوش نے کہا: لومڑی کبھی ہمارے ساتھ کھانا نہیں بانٹتی، کیوں نہ ہم اسے گھوڑے کے بارے میں بتائیں؟ اسے گھوڑے کا گوشت پسند ہے۔ وہ ضرور ہم سے کہے گی کہ مجھے وہاں لے چلو جہاں گھوڑا سو رہا ہے۔
بندر اور خرگوش واپس گھر گئے اور لومڑی کو گھوڑے کے بارے میں بتایا۔ یہ سن کر لومڑی بہت خوش ہوئی اور بندر اور خرگوش سے کہا کہ اسے سوئے ہوئے گھوڑے تک لے جائیں۔جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں گھوڑا سو رہا تھا، تو خرگوش نے کہا:اپنی دم اور گھوڑے کی دم کو آپس میں باندھ دو۔ جب تم اسے کاٹو گی تو وہ بھاگنے کی کوشش کرے گا، لیکن جب تمھاری دمیں آپس میں بندھی ہوں گی، تو وہ بھاگ کر کہیں نہیں جا سکے گا۔
لومڑی نے اسے زبردست خیال سمجھا اور خرگوش نے ان کی دمیں آپس میں باندھ دیں۔بندر درخت پر چڑھ گیا جس کے نیچے گھوڑا سو رہا تھا اور خرگوش گھوڑے کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔
لومڑی نے گھوڑے کی ٹانگ پر کاٹا۔ گھوڑا اچھلا اور لومڑی کو بھی اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا لے گیا۔بندر اور خرگوش لومڑی کو گھسیٹتے ہوئے دیکھ کر زور، زور سے ہنسنے لگے۔
بندر اتنا ہنسا کہ درخت سے نیچے گر پڑا۔وہ الٹے بل گرا تھا اسی لیے آج کل بندروں کا پچھلاحصہ سرخ ہوتا ہے۔
خرگوش نے بندر کو گرتے ہوئے دیکھا اور اتنا ہنسا کہ اس کے ہونٹ میں زور سے کٹ پڑ گیا۔ اسی لیے خرگوشوں کے ہونٹ چپٹے ہوتے ہیں۔
گھوڑے نے لومڑی کو مٹی میں گھسیٹا اور اسی لیے آج کل لومڑیوں کے بال بے ترتیب ہوتے ہیں۔