بندر، خرگوش اور لومڑی

تحریر : ملک احسن اعوان،راولپنڈی


بندر، خرگوش اور لومڑی اکٹھے رہتے تھے اور ہمیشہ مل کر کام کرتے تھے۔لیکن لومڑی کو جب کچھ کھانے کو ملتا تو وہ اسے دوسروں سے بانٹنے سے انکار کر دیتی تھی۔

ایک دن بندر اور خرگوش جنگل میں کچھ کھانے کی تلاش میں گئے، انھیں ایک درخت کے نیچے سویا ہوا گھوڑا نظر آیا۔ خرگوش نے کہا: لومڑی کبھی ہمارے ساتھ کھانا نہیں بانٹتی، کیوں نہ ہم اسے گھوڑے کے بارے میں بتائیں؟ اسے گھوڑے کا گوشت پسند ہے۔ وہ ضرور ہم سے کہے گی کہ مجھے وہاں لے چلو جہاں گھوڑا سو رہا ہے۔

بندر اور خرگوش واپس گھر گئے اور لومڑی کو گھوڑے کے بارے میں بتایا۔ یہ سن کر لومڑی بہت خوش ہوئی اور بندر اور خرگوش سے کہا کہ اسے سوئے ہوئے گھوڑے تک لے جائیں۔جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں گھوڑا سو رہا تھا، تو خرگوش نے کہا:اپنی دم اور گھوڑے کی دم کو آپس میں باندھ دو۔ جب تم اسے کاٹو گی تو وہ بھاگنے کی کوشش کرے گا، لیکن جب تمھاری دمیں آپس میں بندھی ہوں گی، تو وہ بھاگ کر کہیں نہیں جا سکے گا۔

لومڑی نے اسے زبردست خیال سمجھا اور خرگوش نے ان کی دمیں آپس میں باندھ دیں۔بندر درخت پر چڑھ گیا جس کے نیچے گھوڑا سو رہا تھا اور خرگوش گھوڑے کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔

لومڑی نے گھوڑے کی ٹانگ پر کاٹا۔ گھوڑا اچھلا اور لومڑی کو بھی اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا لے گیا۔بندر اور خرگوش لومڑی کو گھسیٹتے ہوئے دیکھ کر زور، زور سے ہنسنے لگے۔

بندر اتنا ہنسا کہ درخت سے نیچے گر پڑا۔وہ الٹے بل گرا تھا اسی لیے آج کل بندروں کا پچھلاحصہ سرخ ہوتا ہے۔ 

خرگوش نے بندر کو گرتے ہوئے دیکھا اور اتنا ہنسا کہ اس کے ہونٹ میں زور سے کٹ پڑ گیا۔ اسی لیے خرگوشوں کے ہونٹ چپٹے ہوتے ہیں۔ 

گھوڑے نے لومڑی کو مٹی میں گھسیٹا اور اسی لیے آج کل لومڑیوں کے بال بے ترتیب ہوتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔