مطیعِ اعظم (آخری قسط )

تحریر : اشفاق احمد خاں


ایک مرتبہ ایک آدمی نے انہیں اس انداز میں پکارا: ’’ اے سب سے اچھے یا سب سے اچھے انسان کے بیٹے‘‘۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’ نہ میں سب سے اچھا ہوں اور نہ سب سے اچھے انسان کا بیٹا ہوں، بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں اور اس ذات باری تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہوں۔

 اللہ کی قسم! تم لوگ، آدمی کی اس طرح مبالغہ آمیز تعریفیں کرکے اس کو ہلاک کر دیتے ہو‘‘۔

ایک مرتبہ انہوں نے فرمایا’’ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ آج تک اس میں کوئی تبدیلی آنے دی اور نہ کسی فتنہ باز کے ہاتھ پر بیعت کی اور نہ کسی مومن کو آرام سے محروم کیا‘‘۔ آپؓ ہی کا قول ہے ’’وعدہ خلافی منافقت کا ایک تہائی حصہ ہے، جبکہ وعدہ کی پاسداری ایمان کا ایک تہائی حصہ ہے، تم لوگوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بطور تعریف اور اپنے انبیاء علیہم السلام کیلئے بطور فخر ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ اس کتاب میں اسماعیل کا ذکر کر بے شک وہ وعدے کا بڑا پابند تھا‘‘۔ایک مقام پر عبداللہؓ نے فرمایا’’ جو مجھے نماز کی طرف بلائے، میں اس کی دعوت قبول کرتا ہوں اور جو مجھے میرے کسی مسلمان بھائی کے قتل اور اس کا مال چھیننے کیلئے بلائے، میں اس کی دعوت رد کرتا ہوں‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو دین کا وسیع علم اور شاندار فہم و فراست سے نوازا تھا۔ وہ اپنے وقت کے بہت بڑے فقیہ تھے۔ ان کو فقہ پر عبور حاصل تھا وہ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد60 سال تک زندہ رہے۔ حج کے دوران اور دیگر مواقع پر وہ اکثر فتوے دیا کرتے تھے۔ لوگوں کو حقیقی معنوں میں انہی کے فتوے سے اطمینان حاصل ہوتا تھا۔وہ فتوی ٰ دینے کیلئے سب سے پہلے مسئلے کا حل قرآن میں تلاش کرتے۔ اگر وہاں سے حل نہ ملتا تو احادیث رسول ﷺ کی طرف رجوع کرتے، اگر وہاں سے حل نہ ملتا تو صحابہ کرامؓ کے اجتہاد سے فائدہ اٹھاتے۔ 

عبداللہؓ کو اللہ تعالیٰ نے سخاوت سے بھی نوازا تھا۔ وہ اللہ کی راہ میں ہمیشہ اپنی بہترین چیز دیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ وہ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر کہیں جا رہے تھے۔چلتے چلتے اونٹنی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور حضرت نافع ؒسے کہا: ’’اس اونٹنی سے زین اتار دو اور قربانی کے جانوروں میں شامل کر دو‘‘۔

ایوب بن وائل ؒ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ابن عمرؓ  دس ہزار درہم لے کر آئے اور ان کو لوگوں میں بانٹ دیا۔ جب اپنی سواری کیلئے گھاس خریدنے کا موقع آیا تو جیب خالی تھی، چنانچہ ایک درہم ادھار لے کر گھاس وغیرہ لائی گئی۔ آپ ؓ اس وقت تک دستر خوان پر کھانے کیلئے نہیں بیٹھتے تھے جب تک کچھ غریب اور نادار لوگ بھی ان کے ساتھ کھانے پر نہ ہوتے۔ جب آپؓ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو وہ بے شمار غلاموں کو آزاد کر چکے تھے۔

عبداللہؓکے دل میں جہاد کا جذبہ بچپن ہی سے تھا۔ مجاہدین اور شہداء کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے، وہ اس سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ اسی بنا پر وہ جہاد میں حصہ لینے کے آرزو مند تھے۔ غزوہ بدر میں جب مسلمان کفار سے لڑنے کیلئے نکلے تو وہ بھی ان کے ساتھ ہو لئے۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً بارہ برس تھی۔ جب غزہ احد کا موقع آیا تب پھر جذبہ جہاد ان کو میدان جنگ میں کھینچ لایا لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو کمسنی کی وجہ سے واپس کر دیا۔ غزوہ خندق کا موقع آیا تو انہوں نے پھر اپنے آپ کو اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی۔ یہ خدشہ بھی سر اٹھا رہا تھا کہ کہیں اس بار بھی انہیں واپس نہ کردیا جائے لیکن اس مرتبہ آپ ﷺ نے ان کو جنگ میں شرکت کی اجازت دے دی۔ اس جنگ میں انہوں نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا اور یوں اپنے ذوق جہاد کی تسکین کی۔

عبداللہ بن عمر ؓکی جہاد کے ساتھ محبت رسول اللہﷺ کے وصال کے بعد بھی اسی طرح جاری رہی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں دین سے پھر جانے والوں (مرتدوں) سے جنگ میں انہوں نے ایک سپاہی کی طرح شرکت کی۔ اپنے والد سید نا عمرؓ کے دور میں بھی انہوں نے جنگوں میں حصہ لیا۔ سید نا عثمان غنی ؓ کے دور میں شمالی افریقہ کو فتح کرنے کے سلسلے میں ہونے والی جنگوں میں شریک ہوئے۔ یہ جذبہ آخر عمر تک برقرار رہا۔

 حجاج بن یوسف کی سازش سے جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے بیٹے سالم ؒ سے کہا ’’ اے میرے بیٹے اگر میں حرم کے اندر فوت ہو جائوں تو مجھے حرم کی حدود سے باہر دفن کر دینا، کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ ایک بار حرم سے ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ اس میں دفن ہو جائوں‘‘۔ وفات کے بعد آپ کو ذی طویٰ کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر چھیاسی برس تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔