آئی سی سی مینزٹی 20 ورلڈکپ 2026ء:کھیل میں سیاست،بھارت بدترین میزبان

تحریر : زاہداعوان


بھارت کی پاکستان سے نفرت اب دوسرے ملکوں کی ٹیموں میں نمائندگی کرنے والے پاکستانی کھلاڑیوں تک پہنچ گئی:ٹی 20 ورلڈکپ میں صرف19روزباقی، آئی سی سی اور بی سی بی کے درمیان ڈیڈلاک برقرار، پاکستان کرکٹ بورڈ نے بنگالی ٹیم کے میچز کی میزبانی میں دلچسپی ظاہر کردی،پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیموں کے بعد امریکہ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک کی نمائندگی کرنے والے پاکستانی نژاد کرکٹرز کیلئے بھی بھارت میں کھیلنا مشکل ہوگیا

 کھیلوں میں سیاست کو گھسیٹنا بھارتی سورمائوں کا پرانا وطیرہ اور اخلاقی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہمارے روایتی حریف نے میزبانی کے اصولوں کو بھی کبھی مدنظر نہیں رکھا۔ بھارت کی پاکستان کے ساتھ تو روایتی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،ہمسایہ ملک ہمیشہ پاک سرزمین پر انٹرنیشنل سپورٹس رکوانے اور ٹیموں کو مختلف گھٹیا حربوں سے ڈرانے دھمکانے کی کوشش تو کرتا ہی رہتا ہے لیکن اپنے ملک میں بھی ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں آدابِ میزبانی بھول جاتا ہے اور مہمانوں کو اچھے طریقے سے خوش آمدید کہنے کی بجائے ہمیشہ مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں، بھارت کو بدترین میزبان قرار دیا جا سکتا ہے۔

 آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026ء شروع ہونے میں صرف 19روز باقی ہیں لیکن ابھی تک میزبان بھارت کی جانب سے مہمان ٹیموں اور کھلاڑیوں کے ویزوں، سکیورٹی اور دیگر معاملات ومسائل حل نہیں کیے گئے۔ ورلڈکپ کی اہم ٹیم پاکستان نے تو بہت پہلے ہی اپنے کھلاڑیوں کے تحفظ اور وقار کے پیش نظر بھارت میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا اور گرین شرٹس کے تمام میچز سری لنکا منتقل کر دئیے گئے تھے۔  آئی پی ایل سے بنگالی فاسٹ بائولر مستفیض الرحمان کو نکالنے کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کیلئے بھی بھارت میں کھیلنا خطرناک ہوگیا اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو واضح بتا دیا کہ ان کی ٹیم سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت میں نہیں کھیل سکتی لہٰذا ان کے تمام میچز بھی پاکستان کی طرح سری لنکا منتقل کر دئیے جائیں، لیکن ابھی تک نہ تو بنگالی ٹیم کو فول پروف سکیورٹی کی تسلی بخش یقین دہانی کرائی گئی ہے اور نہ ہی ان کے میچز ری شیدول کیے گئے ہیں۔ 

پاکستان اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیموں کا معاملہ اپنی جگہ، ہمارا ہمسایہ ملک تو دنیا کی دیگر ٹیموں میں بھی پاکستانی پس منظر والے سٹار کرکٹرز کے ساتھ بھی ہمیشہ انتہائی متعصبانہ سلوک کرتا ہے۔ پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کو اوّل تو ویزے جاری ہی نہیں کیے جاتے یا پھر تذلیل کے ساتھ تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2026ء میں بھی ماضی کی طرح دنیائے کرکٹ کی کئی ٹیموں کے سکواڈ میں پاکستانی نژاد کرکٹرز شامل ہیں جنہیں میزبان انڈیا کی جانب سے ویزوں کے حصول کا سامنا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے امریکہ کی نمائندگی کرنے والے کرکٹرز بھی بھارت کی نفرت انگیزی کا شکار ہوگئے ہیں۔ بھارت نے پاکستانی پس منظر رکھنے والے 4 کرکٹرز کا ویزا مسترد کردیا ہے۔چاروں کرکٹرز کا ویزا ان کے پاکستانی بیک گرانڈ کی وجہ سے مسترد کیا گیا ہے۔ فاسٹ بائولر علی خان نے سوشل میڈیا پر ویزا مسترد ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ احسان عادل اور محمد محسن کے ویزے بھی مسترد کر دیئے گیے ہیں۔امریکہ کے گروپ میں پاکستان، بھارت، نمیبیا اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔

 امریکہ کا پہلا میچ بھارت کے خلاف 7 فروری کو ہے۔ گروپ سٹیج میں امریکہ کے4 میں سے 3 میچز بھارت میں ہیں۔ امریکہ کا بھارت کے خلاف ممبئی، نیدرلینڈز اور نمیبیا کے خلاف چنئی میں گروپ میچز شیڈول ہیں۔

اسی طرح آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کیلئے انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے عادل رشید اور ریحان احمد بھی تاحال بھارتی ویزوں کے منتظر ہیں۔ دونوں کرکٹرزسکواڈ کے دیگر اراکین کے ہمراہ سری لنکا روانہ نہیں ہوں گے۔انگلینڈ نے پہلے مرحلے میں سری لنکا میں وائٹ بال سیریز کھیلنا ہے۔ وائٹ بال سیریز کا آغاز 22 جنوری سے ہو گا جس کے بعد انگلینڈ نے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز کھیلنے ہیں۔ انگلینڈ کا پہلا میچ 8 فروری کو نیپال کے خلاف ممبئی میں شیڈول ہے۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ویزوں کے لیے تمام کارروائی آئی سی سی کی جانب سے آنے والے باضابطہ دعوت نامے کے فوری بعد مکمل کی۔عادل رشید اور ریحان احمد فرنچائز کرکٹ میں مصروف تھے، کرکٹرز نے ویزوں کیلئے بیرون ملک رہتے ہوئے درخواستیں دیں۔ عادل رشید آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کے لیے دبئی اور ریحان احمد بی بی ایل کے لیے آسٹریلیا میں موجود تھے۔ ریحان احمد کے ابھی آسٹریلیا میں رہنے کی توقع ہے جبکہ عادل رشید ویزے کی تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں۔ ای سی بی حکام آئی سی سی بھارتی بورڈ سمیت برطانوی اور بھارتی اتھارٹیز کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ای سی بی معاملے کو جلد حل کرانے کے لیے کوشاں ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی پاکستانی بیک گرانڈ کی وجہ سے برطانوی کرکٹرز کو بھارتی ویزوں کے حصول میں مشکلات رہی ہے، شعیب بشیر کو 2024 ء میں ویزا تاخیر سے جاری ہوا، ثاقب محمود کو بھی ماضی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دسمبر 2024 ء میں بی سی سی آئی اور پی سی بی کے درمیان ایک معاہدے کے بعد آئی سی سی نے اس بات کی تصدیق کی کہ 2024-2027ء کے آئی سی سی ایونٹس سائیکل میں بھارت یا پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے آئی سی سی ایونٹس میں دونوں ممالک کے میچز غیر جانبدار مقام پر کھیلے جائیں گے۔اسی معاہدے کے تحت 2026ء کے مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں رکھے گئے ہیں۔

رواں ماہ بنگلہ دیشی کرکٹر مستفیض الرحمان کو انڈین پریمیئر لیگ2026ء سے باہر کرنے کے بی سی سی آئی کے فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈنے کھلاڑیوں کی حفاظت اور خیریت کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے میچز بھارت سے باہر منتقل کرنے کے لیے آئی سی سی سے درخواست کی۔بنگلہ دیشی ٹیم کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کا معاملہ ابھی حل ہوا نہیں کہ ایک بنگالی کرکٹ آفیشل نظم الاسلام کے بیان نے جلتی پر تیل کاکام کردیا اور بنگلہ دیشی کرکٹرز نے تمام فارمیٹ کے کرکٹ کے بائیکاٹ کی دھمکی دے دی۔بنگلہ دیشی کھلاڑیوں نے نظم الاسلام کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا۔ نظم الاسلام نے بنگلہ دیش کے ورلڈکپ سے بائیکاٹ کی صورت میں کھلاڑیوں کو مالی ازالہ نہ کرنے سمیت سخت الفاظ استعمال کئے تھے جس کے بعد بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے میچز بھی متاثر ہوئے۔تاہم بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے نظم الاسلام کے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ توہین آمیز یا دل آزاری کا باعث سمجھے جانے والے بیان پر دکھ کا اظہار کرتا ہے۔بی سی بی نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ بورڈ کے ترجمان کے علاوہ کسی ڈائریکٹر کے اس طرح کے بیان کی ذمے داری نہیں لیتے، کرکٹرز کی توہین کرنے والے افراد کے خلاف بورڈ ڈسپلنری ایکشن لے گا۔بی سی بی نے بورڈ ڈائریکٹر نظم السلام کو عہدے سے ہٹانے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ حالیہ معاملات کا جائزہ لینے کے بعد کھیل کے بہترین مفاد میں بی سی بی کے صدر نے نظم السلام کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیاہے۔بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور کرکٹرز کے درمیان معاملات طے پا گئے جس کے بعد میچز کو ری شیڈول کردیا گیا ہے، جس کے مطابق15جنوری والے میچز 16 اور 16 جنوری کو ہونے والے میچز 17کو کھیلے گئے۔17 جنوری کو ہونے والے میچز آج 18 جنوری کو ہوں گے۔19 جنوری کا ایلیمینیٹر اور کوالیفائر ون میچ اب 20 جنوری کو ہوگا۔بی سی بی نے ملتوی ہونے والے میچز کے ٹکٹس شائقین کو ری فنڈ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

بنگالیوں نے لیگ کے معاملات تو حل کرلیے لیکن ابھی آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش ٹیم کے تحفظات دور نہیں کیے جا سکے۔بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت پر ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے۔آئی سی سی اوربی سی بی کے درمیان ویڈیو کانفرنس بھی بے نتیجہ رہی۔بی سی بی نے ویڈیو کانفرنس میں ایک بار پھر اپنے میچز بھارت سے منتقل کرنے کا موقف دہرایا، تاہم آئی سی سی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کا شیڈول پہلے ہی طے ہوچکا ہے۔آئی سی سی نے بی سی بی سے اپنے موقف پر نظرثانی کرنے کی درخواست کی لیکن بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے موقف اور فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔بی سی بی کے مطابق دونوں فریقین نے ممکنہ حل کی تلاش کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی زبردست انٹری ڈال دی ہے ، پی سی بی نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے بنگلہ دیش کی ٹیم کے بھارت نہ جانے کے معاملے پر بنگلہ دیش کے میچز کی میزبانی میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے وینیوز دستیاب نہیں تو پاکستان کے وینیوز حاضر ہیں، چیمپئنز ٹرافی اور آئی سی سی ویمن کوالیفائر پاکستان میں ہوچکے تو یہ میچز بھی آسانی سے کرا سکتے ہیں۔پاکستان کے تمام وینیوز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کرانے کے لیے تیار ہیں۔اس سلسلے میں آئی سی سی کو بنگلہ دیش کے میچز بھارت سے منتقل کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنا ہے۔

بھارت اور سری لنکا مشترکہ میزبان

دسویں آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ2026ء کی میزبانی بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا(بی سی سی آئی) اور سری لنکا کرکٹ 7 فروری سے 8 مارچ 2026 ء تک کریں گے۔ سری لنکا اس سے قبل 2012 ء میں اور بھارت 2016 ء میں اس مقابلے کی میزبانی کرچکا ہے۔ بھارت میں 5اور سری لنکا میں3مقامات پر20 ٹیموں کے مابین 55میچز کھیلے جائیں گے۔20شریک ٹیموں میں 2 میزبانوں کی ٹیمیں، 2024 ء کے ایڈیشن کی7 ٹاپ ٹیمیں،آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل ٹیم رینکنگ کی3ٹاپ ٹیمیں جبکہ 8 دیگر ٹیمیں علاقائی کوالیفائر کے ذریعے طے کی گئیں۔ اٹلی نے پہلی بار مردوں کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔بھارت دفاعی چیمپئن ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

مطیعِ اعظم (آخری قسط )

ایک مرتبہ ایک آدمی نے انہیں اس انداز میں پکارا: ’’ اے سب سے اچھے یا سب سے اچھے انسان کے بیٹے‘‘۔عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’ نہ میں سب سے اچھا ہوں اور نہ سب سے اچھے انسان کا بیٹا ہوں، بلکہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں اور اس ذات باری تعالیٰ سے ڈرتا رہتا ہوں۔

بندر، خرگوش اور لومڑی

بندر، خرگوش اور لومڑی اکٹھے رہتے تھے اور ہمیشہ مل کر کام کرتے تھے۔لیکن لومڑی کو جب کچھ کھانے کو ملتا تو وہ اسے دوسروں سے بانٹنے سے انکار کر دیتی تھی۔

ایلیئنز کی واپسی

آج حاشر نے سکول سے گھر آکر خاموشی سے بیگ ایک طرف رکھا اور سیدھا نماز ِ ظہر کی ادائیگی کیلئے کپڑے بدل کر وضو کرنے لگا۔ اس کو یوں اچانک خاموش اور پھر نماز پڑھتا دیکھ کر دادی اور امی بہت حیران ہوئیں کہ حاشر تو بہت شرارتی ہے، اسے آج کیا ہو گیا ہے۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

سمندر کا فرش کس طرح کا ہے؟

قصور میرا نہیں اس بار

زندگی کے دن ہیں چارمانگ نہ تو کبھی اُدھار

ذرا مسکرایئے

ماں (بیٹے سے) : وسیم! میری خاطر دو ا پی لو‘ دیکھو میں تمھاری خاطر ہر کام کرتی ہوں۔ وسیم : امی جان! اچھا تو پھر آپ میری خاطر یہ دوا بھی پی لیجئے۔٭٭٭