رشید جہاں کی ڈرامہ نگاری عام گھروں کی عام کہانیاں
ڈراما عورت کا موضوع متوسط طبقے کے مسلم گھرانوں کی ایک عام عورت ہے جو زندگی کی محرومی اور کربنا کی کا شکار ہے۔
اس ڈرامے میں رشید جہاں کے برجستہ اور زندہ مکالموں نے جان اور واقعیت بھر دی ہے اس ڈرامے میں شوہر عتیق اللہ جو اپنی حیوانیت اور ہوس پرستی پر پردہ ڈالتا ہے اور اپنے جرائم اپنی معصوم بیوی پر تھوپ دیتا ہے۔عقیق بچے نہ ہونے کا ذمہ دار بھی اپنی بیوی کو ٹھہراتا ہے۔ اس کی بیوی قصور وار نہ ہوتے ہوئے بھی گناہ گار ٹھہرتی ہے۔ عقیق دوسری شادی کرنا چاہتا ہے اور بیوی پر تشدد کرنے سے بھی باز نہیں آتا۔ جب وہ دوسری بار اپنی بیوی کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کی نسائی غیرت جاگ اٹھتی ہے وہ اپنا غصہ اپنے لہجے میں سموتے ہوئے کہتی ہے:ذرا سنبھل کے میں کہتی ہوں بیٹھ جایئے۔ اگر اپنی عزت کی خیر چاہتے ہو۔ اگر اس بار تم نے ہاتھ اٹھایا تو میں ذمے دار نہیں ہوں۔ اور پہلی بار اس اس پیکر جمال کا جلال دیکھ کر مولوی صاحب کا اٹھا یا ہوا ہاتھ ہوا میں گر جاتا ہے ۔اس معاشرے میں جہاں عورت محکوم سمجھ کر ہمیشہ مرد کے حاکمانہ رویے اور ظلم کا نشانہ بنتی رہی ہے وہاں رشید جہاں اس عورت کے لب و لہجے میں اس کی ذات کی آگہی اور شعور پیدا کرتی رہی ہیں۔ رشید جہاں کے ڈراموں کی ہیروئن باشعور ہے۔ وہ غیر منصفانہ طبقاتی نظام کو بدلنے کی خواہش رکھتی ہے اور فرسودہ تصورات کو نہیں مانتی۔
رشید جہاں عام، متوسط اور غریب طبقے کی مخصوص زبان کے سہارے حقیقت پسندانہ ماحول کو ڈراموں میں جگہ دیتی ہیں۔ یہ تیکھے، چست فقرے، کڑوے کسیلے طعنے، پھبتیاں، چٹکیاں مخصوص موقعوں پر استعمال ہونے والے مخصوص محاورات اور معنی خیز کہاوتیں ، گھر یلو بول چال کی زبان اور مکالموں نے گھریلو زندگی کو سب کے سامنے لاکھڑا کیا۔ وہ چھوٹے چھوٹے مکالموں کی صورت میں صورتحال بیان کرنے میں بڑی محنت کرتی ہیں۔ وہ یہ حقیقت جانتی ہیں کہ ڈراموں میں مکالموں کے ذریعے صرف واقعاتی صورت حال بیان کر دینا کافی نہیں بلکہ اس کے ذریعے ناظرین کے جذبات اور ان کی فکر کو ابھارنا بھی ضروری ہے۔ وہ شمالی ہند کے مسلمانوں میں تعلیم نسواں کی تحریک کی علمبردار رہی ہیں۔ یہی بات ان کے ڈراموں میں ایک جرأت آمیز لہجہ پیدا کرتا ہے۔ عام گھروں کی عام کہانیوں کو وہ اپنے طرزِ بیان سے دلچسپ اور معنی خیز بنادیتی ہیں۔ ان کی کردار نگاری کے بارے میں ڈاکٹر قمر رئیس نے لکھا ہے کہ کہانیاں ہوں یا ڈرامے رشید جہاں کے کردار دو مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں ایک طرف بوڑھے لوگ ہیں فرسودہ، بوسیدہ رسم و رواج اور نیم جاں اخلاقی قدروں کی آغوش میں پلے ہوئے جنہیں سماجی نظام ،اس کے اداروں اور انسانی رشتوں میں کوئی تبدیلی گوارا نہیں۔ آزادی ، انصاف اور انسانیت کا ایک نیا تصور انہیں اس کے خلاف بغاوت پر اکساتا ہے۔ گھر اور باہر کی زندگی کے ہر گوشے میں پرانی اور نئی نسل اور فرد اور سماج کا یہ ٹکراؤ رشید جہاں کی تخلیقات میں نکھر کر سامنے آتا ہے ۔ ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ اپنی کتاب اُردو ادب کی ترقی میں خواتین کا حصہ میں نئی تصویریں مرتبہ سجاد ظہیر، سبط حسن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتی ہیں کہ نئی تصویریں میں رشید جہاں کے دوڈرامے بچوں کا خون اور نفرت شامل ہیں۔
نفرت کی ہیروئین ایک عورت ہے جو جاپانی جنرل کے پنجہ آزمائی سے بیچ کر خود کشی کر لیتی ہے، گوڈ راما مختصر ہے پھر بھی جنگ کی ہیبت ناکیاں پوری طرح سے عیاں ہو جاتی ہیں ۔ ایک بات جو ہمیں کھٹکتی ہے یہ ہے کہ رشید جہاں نے صرف روسی عورت کو اس ہمت کا حامل بنایا ہے، یہ ممکن ہے لیکن روس یا جاپان کی تخصیص نہیں ہر جگہ اور ہر ملک کی عورت یہ کام کر سکتی ہے۔ دوسرا ڈراما بچوں کا خون جاپانیوں کے انسانیت سوز مظالم کا ہلکا سا خاکہ ہے۔ یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جاپانی پچکاری کے ذریعے بچوں کے جسم کا ایک ایک قطرہ کھینچ لینا چاہتے تھے۔ اس کا مقصد بھی پروپیگنڈا معلوم ہوتا ہے۔ اس میں شک نہیں جس مقصد کے لیے انہوں نے لکھا وہ اس میں کامیاب رہیں ۔ڈاکٹر رشید احمد گوریجہ نے اپنی کتاب اردو ڈرامے کی تاریخ میں تصویریں کے دیباچے کا حوالہ دیا ہے جوسجاد ظہیر کا لکھا ہوا ہے ۔وہ لکھتے ہیں کہ آزادی اور ترقی کا نام و نشان تک مٹا دینے کیلئے نسل و قوم کے بے جا امتیاز کو قائم رکھنے کے لیے مزدوروں ، کسانوں اور دیہاتی طبقہ اور اقوام کا خون چوسنے کیلئے آج بھی چہار طرف سے خطرات و آفات کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔ صرف قومی اتحاد ہمیں خطرات سے بچا سکتا ہے۔ اور نہتے عوام بھی چینیوں کی طرح فاشسٹوں کے قدم اس سرزمین میں سے گزرنے نہ دیں گے اور رشید جہاں کے کردار کی طرح کہیں گے ’’اری ڈرونہیں۔ ہمت نہ ہار۔ ابھی تیرا بڑا لڑکا کھیت میں زندہ ہے۔ تمہارا ہی نہیں بلکہ چین کے ہزاروں کا لڑ کا کھیتوں میں چھپا بیٹھا ہے۔ وہ بھی کھیتوں کی طرح ایک دن اگیں گے۔ وہ سب مل کر اپنے بہن بھائیوں کا بدلہ لیں گے۔