رشید احمد صدیقی طنز و مزاح کے بڑے نمائندے
انہوں نے اردو ادب کو علمی وقار، تہذیبی رچائواور شگفتگی وشادابی سے روشناس کرایا: رشید احمد صدیقی کے ہاں تیز سیاسی شعور بھی تھا اور بصیرت بھی لیکن اُن کا سیاسی سے زیادہ سماجی شعور تیز اور شدید تھا، رشید احمد صدیقی نے معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا اس طرح جائزہ لیا کہ ہماری معاشرت کے عینی شاہد معلوم ہوتے ہیں
حالات زندگی
رشید احمد صدیقی ضلع جونپور(اتر پردیش) کے ایک گاؤں مڑیاؤ میں 1894ء میں پیدا ہوئے۔ فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ 1906ء میں پرائمری پاس کیا پھر میرٹھ کے نارمل سکول میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد علی گڑھ چلے گئے۔ وہاں مشن ہائی سکول سے اگر چہ آپ مطمئن نہ تھے لیکن والد کی ضد کی وجہ سے آپ کو وہاں تعلیم حاصل کرنی پڑی۔1915ء میں آپ نے علی گڑھ سے انٹری کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی اے میں داخلہ لیا۔ یہاں آپ ایک سر گرم طالب علم کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ سوشل سوسائٹی کے سکرٹری بھی رہے۔بی اے میں تعلیم کے دوران آپ کو مسلم یونیورسٹی یونین کی صدارت کے فرائض سونپے گئے۔ بی اے کی تکمیل کے بعد آپ ایل ایل بی میں داخل ہو گئے لیکن کسی وجہ سے آپ نے یہ کورس مکمل نہ کیا۔ آپ نے 1921ء میں ایم اے (فلسفہ) کیا۔
ملازمت:رشید احمد صدیقی نے 1921ء میں شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں لیکچرار کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔ اس کے بعد پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کے عہدے پر فائز ہوئے۔1935ء میں آپ انجمن ترقی اردو کے صدر منتخب ہوئے اور 1957ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ 1958ء میں غالب اکیڈمی سے منسلک ہوئے۔
ادبی کام:مضامینِ رشید، خندا نآشفتہ بیانی میری، غالب کی شخصیت اور شاعری،گنج ہائے گراں مایہ،ہم نفساںِ رفتہ، اقبال کی شخصیت اور شاعری،جدید غزل، طنزیات و مضحکات۔
وفات: رشید احمد صدیقی 15 جنوری 1977ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئے۔ ان کی تدفین علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قبرستان میں ہوئی۔
اردو نثر کا ایک معتبر نام، رشید احمد صدیقی عام طور پر طنز و مزاح نگار کی حیثیت سے معروف ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ بڑی متنوع شخصیت کے مالک تھے۔ اردو تنقید اور مرقع نگاری میں بھی اُن کو امتیازی حیثیت حاصل ہے ۔حقیقیتیہ کہ وہ ایک ایسے صاحب طرز انشا پرداز تھے جن کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ انہوں نے اردو طنز و مزاح کو علمی وقار اور تہذیبی رچائو سے نکھارا اورتنقید کو شگفتگی اور شادابی سے روشناس کیا۔ مرقعوں کے ذریعے متعلقہ شخصیات کو مجسم کرتے ہوئے اعلیٰ انسانی اقدار کو سراہا اور ان کو عام کرنے اور مقبول بنانے میں حصہ ادا کیا۔ اردو ادب کی اعلیٰ اقدار سے آگہی، الفاظ کی مزاج شناسی،معاشرتی صالح اقدار سے ذہنی و جذباتی وابستگی نے صدیقی صاحب کے اسلوب کو طرح داری دی۔ علی گڑھ کی علمی ، ادبی تعلیمی اور تہذیبی روایات سے ان کی بے پناہ وابستگی لا جواب ہے۔
رشید احمدصدیقی یوپی کے ضلع جونپور کے ایک گاؤں مڑیا میں 1894ء میں پیدا ہوئے۔اوائل عمر سے والدین کے چہیتے رہے اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ وہ پچپن میں بہت زیادہ بیمار رہا کرتے تھے ،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بچپن میں ان کی تعلیم پر توجہ کم دی گئی۔ ابتدائی تعلیم پرانے طریقے پر ہوئی۔ اُن دنوں دینیات، بغدادی قاعدہ اور عربی و فارسی کی تعلیم عام تھی اور روزگار کے متلاشی اہل علم بچوں کو گھر پر تعلیم دی جاتی تھی۔ صدیقی صاحب نے بھی ایسے ہی ایک اہل علم مولوی قدرت اللہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ابتدائی تعلیم تو گھر پر ہو جاتی تھی لیکن اردو اور حساب کے لئے بچوں کو قصبہ کے پرائمری سکول میں داخل کیا جاتا تھا۔رشید احمد صدیقی کو طالب علمی کے زمانے میں مالی دشواریوں کا بہت زیادہ سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہنسی خوشی یہ سب برداشت کیا۔ موسم گرما کی تعطیلات میں انہوں نے بنارس میں سب جج کی عدالت میں کلرکی بھی کی۔ یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہا اس کلرکی کی وجہ سے اور جو کچھ بھی ہوا ہو لکھنے اور لکھتے رہنے کے باعث رشید احمد صدیقی کو لکھنے کی اچھی خاصی مشق ہو گئی جو بعد میں ان کی تصنیفی زندگی میں بہت کام آئی۔1935ء میں وہ ریڈر ہوئے،بعد میں انہیں یونیورسٹی میں عارضی طور پر لیکچرار بننے کا موقع ملا۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے تک اپنے شعبے کے صدر رہے۔انہی دنوں اپنی کتاب ’’ طنزیات و مضحکات‘‘ ترتیب دی۔
رشید احمد صدیقی کے طنز و مزاح کے دو مجموعے ہیں ’’ مضامین رشید‘‘ اور ’’ خنداں‘‘ ۔ ویسے ان کے مضامین کے دیگر مجموعوں میں بھی طنز و مزاح کی جھلکیاں ملتی ہیں اور بے شمار طنز یہ و مزاحیہ مضامین مختلف رسائل اور اخبارات میں منتشر ہیں ۔’’ مضامین رشید‘‘ کی اشاعت پہلے عمل میں آئی اور ’’ خنداں‘‘ کی بعد میں لیکن نقشِ ثانی نقشِ اول سے کم نہیں ۔ بعض ناقدین کا یہ بھی خیال ہے کہ طنز و مزاح کی شگفتگی اور اسلوب کی دل نشینی ’’مضامین رشید‘‘ میں زیادہ ہے اور آج بھی جبکہ اردو ادب میں طنزو مزاح کا معیار خاصا بلند دکھائی دیتا ہے ’’ مضامینِ رشید‘‘ نہ صرف یہ کہ رشید احمد صدیقی کا ایک اہم کارنامہ ہے بلکہ آج کے طنز و مزاح کے ادب میں بھی اس کی حیثیت مسلم ہے۔’’ خنداں‘‘ رشید احمد صدیقی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے جو ریڈیو سے نشر ہو چکے ہیں۔ان مضامین سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رشید احمد صدیقی کا ذہن کتنا وسیع، نظر کتنی گہری اور زبان و بیان پر اُن کو کسی حد تک قابو حاصل تھا۔
رشید احمد صدیقی نے زندگی کے ہر پہلو کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا لیکن ہر جگہ اُن کا اندازہ عالمانہ اور مہذب ہے۔ شعر و ادب کی دنیا تو ان کی اپنی دنیا ہے سیاست تاریخ اور دیگر علوم و فنون پر بھی ان کی نظر ہے۔ ان سب کی یکجائی کے باعث ان کے طنز و مزاح سے لطف اندوز ہونا آسان نہیں۔ پڑھنے والوں کا بھی وسیع پس منظر ہونا لازم ہے اسی صورت رشید احمد صدیقی کے طنز و مزاح اور ان کے فن کی باریکیوں سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے جیسا کہ مولانا عبدالماجد دریا بادی نے لکھا ہے : ’’رشید یات سے لطف اٹھانے کیلئے خود بھی اچھا خاصا پڑھا لکھا ہونا چاہئے ادبی اور شخصی تلمیحات بکثرت استعمال ہوتی ہیں‘‘۔ اس کے علاوہ انہوں نے زمانے کی روایات سے ہٹ کر اپنے لئے ایک رنگ منتخب کر لیا۔ اپنے طنز و مزاح کے تعلق سے رشید احمد صدیقی علی گڑھ کے معترف ہیں، لکھتے ہیں: ’’ طنز و مزاح کی میری ابتدائی مشق کچی بارک اور ڈائننگ ہال سے شروع ہوئی۔ یہی کچی بارک اور ڈائننگ ہال علی گڑھ سے باہر کہیں نصیب ہوئے ہوتے تو کچھ تعجب نہیں، طبیعت یا طنز و ظرافت کی طرف ہی مائل نہ ہوتی یا پھر ان کا وہ انداز میسر نہ آتا جو یہاں آیا‘‘۔
رشید احمد صدیقی اردو کے نامور طنز و مزاح نگار اکبر الہ آبادی سے متاثر تھے۔ اکبر کی طرح صدیقی بھی اونچے عہدے پر فائز رہے اور اس وقت بھی جبکہ تحریر و تقریر پر بہت زیادہ پابندیاں تھیں۔رشید احمد صدیقی نے سامراج، پارلیمان اور آئی سی ایس عہدیداروں پر کاری چوٹیں کیں۔ طنز و مزاح کے لئے تیز سیاسی شعور اور بصیرت درکار ہے۔ رشید احمد صدیقی کے ہاں تیز سیاسی شعور بھی تھا اور بصیرت بھی لیکن ان کا سیاسی سے زیادہ سماجی شعور تیز اور شدید تھا۔ اُس دور میں لکھنا شروع کیا جب انگریز سامراج اپنے عروج پر تھا اور بہت کم ادیب ایسے تھے جو کھل کر حکومت پر تنقید کرتے تھے۔ جس طرح کسی طنز نگار پر لازم ہے کہ وہ اپنی خامیوں پر نظر رکھے اسی طرح کوئی طنز نگار جب تک حکومت اور قوم کے اقوال و اعمال کا جائزہ نہ لے حقیقی معنوں میں فنکار نہیں کہا جا سکتا۔ اس زاویے سے ایک سچے فنکار تھے کہ انہوں نے حکومت پر براہ راست تنقید نہ کی ہو، کڑی تنقید ضروری کی۔رشید احمد صدیقی عام طور پر گوشہ نشین سمجھے جاتے تھے اس کے باوجود انہوں نے معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوئوں کا اس طرح جائزہ لیا کہ ہماری معاشرت کے عینی شاہد معلوم ہوتے ہیں جو اُن کے کامیاب طنز و مزاح نگار اور تمدنی نقاد ہونے کا بڑا ثبوت ہے۔
تمدن اور مزاح کا تعلق یوں بھی قریب ہے؛ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ رشید احمد صدیقی کے مزاح کا بڑا انحصار بذلہ سنجی پر ہے۔ وہ الفاظ کے استعمال اور اپنے اسلوب سے ظرافت پیدا کرتے ہیں۔وہ فقروں اور جملوں میں سوچنے کے عادی ہیں، اردو اور فارسی کے رچے ہوئے ذوق کی وجہ سے ان کے طنز و مزاح میں ایک قسم کی گہرائی اور ادبی صدائے بازگشت کا مسلسل احساس ہوتا ہے۔ ان کے ذہن میں مجرد تصورات کو گرفت لانے کی غیر معمولی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غالب ان کا محبوب شاعر ہے ۔وہ اپنے اور غالب کے ذہن میں بہت زیادہ مماثلت پاتے ہیں اور اپنے ذہن کو غالب کے اسالیب اظہار کا پابند کر دیتے ہیں۔ رشید احمد صدیقی کے طنز و مزاح کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ کہیں بھی ابتذال کا شکار نہیں۔ ان کے قدم طنز و مزاح کی دو دھاری تلوار پر کبھی نہیں ڈگمگاتے۔ ان کے طنز و مزاح کی تہہ میں ایک سنجیدہ اقدارپرست شخصیت کی کار فرمائی ہے۔ اس لئے ’ معقول‘ اور ’نامعقول‘ ان کے ہاں ایک اہم تقسیم ہے اور وہ خود ’ معقول‘ طنز و مزاح کے سب سے بڑے نمائندے ہیں۔
رشید احمد صدیقی کے جن ادبی شخصیات سے دوستانہ تعلقات رہے ان میں سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالماجد دریا بادی اور سید سجاد حیدر یلدرم شامل ہیں۔ اصغر گونڈوی، جگر مراد آبادی، فانی بدایونی ، فراق گورکھپوری، ڈاکٹر محی الدین قادری اور حسرت موہانی سے بھی ان کے ذاتی تعلقات تھے۔
رشید احمد صدیقی کے طنز و مزاح
چارپائی
چارپائی اورمذہب ہم ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہم اسی پر پیدا ہوتے ہیں اور یہیں سے مدرسہ، آفس، جیل خانے، کونسل یاآخرت کا راستہ لیتے ہیں۔ چارپائی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ ہم اس پردوا کھاتے ہیں۔ دعا اور بھیک بھی مانگتے ہیں۔ کبھی فکرِ سخن کرتے ہیں۔
دھوبی
علی گڑھ میں نوکرکوآقا ہی نہیں ’’آقائے نامدار‘‘ بھی کہتے ہیں اور وہ لوگ کہتے ہیں جوآج کل خود آقا کہلاتے ہیں بمعنی طلبہ! اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ نوکرکا کیا درجہ ہے۔ پھرایسے آقا کا کیا کہنا ’’جو سپید پوش‘‘ واقع ہو۔
ایک واقعہ
میری زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس پر یہ اصرار ہو کہ میں اسے ضرور یاد رکھوں۔ مجھے اپنے بارے میں یہ خوش فہمی بھی ہے کہ کسی اور کی زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا ہوگا جس کا تعلق مجھ سے رہا ہو اور وہ اسے بھول نہ گیا ہو۔
گواہ
گواہ قرب قیامت کی دلیل ہے۔ عدالت سے قیامت تک جس سے مفر نہیں وہ گواہ ہے۔ عدالت مختصر نمونہ قیامت ہے اور قیامت وسیع پیمانے پر نمونہ عدالت۔ فرق صرف یہ ہے کہ عدالت کے گواہ انسان ہوتے ہیں اور قیامت کے گواہ انسانی کمزوریاں یا فرشتے۔
گھاگ
گھاگ (یا گھاگھ) کی ہیئت صوتی و تحریری اس کو کسی تعریف کا محتاج نہیں رکھتیں۔ الفاظ کے شکل اور آواز سے کتنے اور کیسے کیسے معنی اخذ کیے گئے ہیں۔ لسانیات کی پوری تاریخ اس پر گواہ ہے۔ کبھی کبھی تلفظ سے بولنے والے کی نسل اور قبیلہ کا پتہ لگا لیتے ہیں۔