آج کا پکوان:چکن جنجر

تحریر : منیرا کرن


اجزا:چکن بون لیس: آدھا کلو، دہی :آدھا کپ، نمک: حسبِ ذائقہ، گھی: تین چمچ، پیاز: ایک چھوٹی، ثابت زیرہ :ایک چمچ، ادرک چوپ کی ہوئی: دو چمچ، سونٹھ پاؤڈر:

 ایک چائے کا چمچ، ہری مرچ چوپ کی ہوئی: ایک چمچ، جلوتری پاؤڈر: ایک چائے کا چمچ، الائچی پاؤڈر: ایک چائے کا چمچ، سفید مرچ پاؤڈر: ایک چمچ، زیرہ پاؤڈر: ایک چائے کا چمچ، گرم مسالہ پاؤڈر: ایک چائے کا چمچ ،لیمن جوس: ایک چمچ۔

ترکیب :   پین میںکوکنگ آئل لیں اور اس میں پیاز، ثابت زیرہ اور ادرک ڈا ل کر دو سے تین منٹ تک فرائی کرلیں براؤن نہ کریں۔ اس میں ایک چوتھائی کپ دہی، نمک، سونٹھ پاؤڈر، ہری مرچ، جلوتری پاؤڈر، الائچی پاؤڈر، سفید مرچ پاؤڈر، زیرہ پاؤڈر، گرم مسالہ پاؤڈراورلیمن جوس ڈال کر تین سے چار منٹ پکائیں۔ اس میں چکن ڈال کر دو سے تین منٹ دم دیں۔ اب اس میں ایک چوتھائی کپ دہی ڈال کر دو سے تین منٹ پکائیں۔ ادرک، ہرا دھنیا کو بطور گارنش استعمال کر لیں۔ 

مصالحہ چائے

اجزا:پانی: دو کپ،دودھ: ایک کپ،چائے کی پتی: دو چائے کے چمچ،لونگ: دو عدد،سبز الائچی: دو عدد،ادرک: ایک انچ کا ٹکڑا ، تیز پات: ایک عدد،چینی: حسبِ ذائقہ۔

ترکیب:ایک پین میں پانی ابالیں۔اس میں لونگ، الائچی، ادرک اور تیز پات شامل کریں۔مصالحے دو سے تین منٹ تک ہلکی آنچ پر پکنے دیں تاکہ خوشبو اور ذائقہ آئے۔پھر چائے کی پتی شامل کریں اور 1،2 منٹ تک دم دیں ۔اب دودھ ڈالیں اور آنچ تیز کرکے ابال آنے دیں۔چینی شامل کریں اور مزید 2،3 منٹ تک پکائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔