غذائی قلت اور سٹنٹنگ کے مسائل

تحریر : فضہ جاوید


پاکستان میں بچوں میں سٹنٹنگ (Stunting) ایک خاموش مگر خطرناک مسئلہ بن چکا ہے جو نہ صرف بچوں کی جسمانی نشوونما کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان کی ذہنی صلاحیت، تعلیمی کارکردگی اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

 سٹنٹنگ سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں بچہ اپنی عمر کے مطابق قد میں چھوٹا رہ جاتا ہے اور اس کی بنیادی وجہ طویل عرصے تک غذائی کمی ہوتی ہے۔اقوامِ متحدہ اور پاکستان کے قومی غذائی سرویز کے مطابق ملک میں پانچ سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد سے زائد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے خاندانوں میں یہ شرح مزید زیادہ ہے۔ غربت، غذائی عدم تحفظ، ماں کی کمزور صحت، بار بار ہونے والی بیماریاں، اور صفائی و پینے کے صاف پانی کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔

سٹنٹنگ کے بنیادی اسباب

سٹنٹنگ کی وجوہات صرف خوراک کی کمی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے۔ غیر متوازن اور ناکافی غذا، بار بار اسہال، نمونیا اور دیگر انفیکشنز، صاف پانی اور صفائی کی سہولیات کی کمی، ماں کی غذائی و تعلیمی آگاہی کا فقدان جیسے عوامل بچے کی نشوونما کو مستقل طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔

ماؤں کا کردار: سٹنٹنگ سے بچاؤ کی بنیاد

بچوں میں سٹنٹنگ سے بچاؤ میں ماں کا کردار سب سے کلیدی ہوتا ہے۔ ماں کی صحت، خوراک، علم اور رویے براہِ راست بچے کی نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں۔چھ ماہ کے بعد بچے کو ماں کے دودھ کے ساتھ صحت مند غذا دینا ضروری ہے۔ یہ غذا نرم، صاف، تازہ اور غذائیت سے بھرپور ہونی چاہیے۔ دالیں، چاول، سبزیاں، انڈا، گوشت کا شوربہ، دہی اور پھل بچے کی غذا میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔ صرف بسکٹ، چائے یا پتلی غذا بچے کی غذائی ضروریات پوری نہیں کرتی۔ماؤں کو چاہیے کہ بچے کو روزانہ مختلف غذائی اجزافراہم کریں۔ صرف پیٹ بھرنا کافی نہیں بلکہ خوراک میں پروٹین، چکنائی، وٹامنز اور منرلز کا توازن ہونا چاہیے۔ ایک ہی قسم کی غذا مسلسل دینے سے غذائی کمی پیدا ہو سکتی ہے۔بار بار ہونے والا اسہال اور انفیکشنز بچے کے جسم سے غذائیت جذب ہونے نہیں دیتے، جس سے سٹنٹنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ صاف پانی کا استعمال، ہاتھ دھونا، برتنوں اور خوراک کی صفائی، اور بچے کی ویکسینیشن اس حوالے سے نہایت اہم ہیں۔ اکثر مائیں بیماری کے دوران بچے کو کم خوراک دیتی ہیں حالانکہ اس وقت بچے کو زیادہ توجہ اور غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماری کے بعد اضافی خوراک دینا بھی ضروری ہے تاکہ جسمانی کمی پوری ہو سکے۔

ماؤں کی آگاہی اور تعلیم

ماں جتنی زیادہ باشعور اور تعلیم یافتہ ہوگی، اتنی ہی بہتر غذائی فیصلے کر سکے گی۔ بنیادی غذائی آگاہی، صحت کے مراکز سے رابطہ اور رہنمائی سٹنٹنگ کے خلاف مؤثر ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔سٹنٹنگ صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ غذائی کمی کا شکار بچے آگے چل کر کمزور صحت، کم تعلیمی کارکردگی اور محدود معاشی صلاحیت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومتی اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ماں کی سطح پر بروقت اور درست احتیاطی تدابیر سب سے مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔اگر مائیں اپنی اور بچوں کی غذا، صفائی اور صحت پر خصوصی توجہ دیں تو پاکستان میں سٹنٹنگ کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے، اور ایک صحت مند، توانا اور باصلاحیت نسل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شعبان المعظم:تیاری، برکت اور بخشش کا مہینہ

’’یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں، اس میں لوگوں کے اعمال رب کے حضور پیش کئے جاتے ہیں‘‘ (سنن النسائی) جب رجب المرجب کا چاند نظر آتا تو نبی کریمؐ دعا فرماتے ’’اِلٰہی رجب اور شعبان میں ہمیں برکت دے اور ہمیں خیریت کے ساتھ رمضان تک پہنچا‘‘ (مشکوۃ المصابیح)حضرت اْمِ سلمہ ؓ فرماتی ہیں ’’میں نے حضور اکرمﷺ کو شعبان اور رمضان کے سوا متواتر دو مہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا‘‘(جامع ترمذی)

احسان: اسلامی اخلاق کا بلند ترین معیار

’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے‘‘ (النحل:90) ’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘(صحیح بخاری)

نومولود بچے کو گھٹی دینا:مسنون اسلامی عمل

لوگ اپنے نومولود بچوں کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لاتے، آپﷺ اُن کیلئے خیرو برکت کی دعا فرماتے اور اُنہیں گھٹی دیا کرتے تھے(صحیح مسلم)

مسائل اور ان کا حل

قسم کا کفارہ سوال :میں نے قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں کھائوں گا، اب اگر وہ چیز کھائوں تو اس کا کیا کفارہ ہو گا؟(محمد طاہر، شیخوپورہ)

پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے مقاصد

پاکستان نے غزہ میں امن کے لیے بورڈآف پیس میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو امر یکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈآف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔

لاہور کی دو اضلاع میں انتظامی تقسیم نا گزیر کیوں؟

سیاست کی پارلیمنٹ میں واپسی،مذاکراتی عمل کی بحالی کے امکانات