مہنگائی کے دور میں خواتین کا مالی کردار کیا کچھ ممکن ہے؟

تحریر : اُم رباب


اس دور میں مہنگائی کوئی عارضی مسئلہ نہیں بلکہ مستقل معاشی حقیقت بن چکی ہے۔ بجلی، گیس، خوراک، تعلیم اور علاج یعنی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو مہنگائی کی زد میں نہ ہو۔ اس بدلتی صورتحال میں اگر کسی طبقے کا کردار خاموش مگر فیصلہ کن ثابت ہوا ہے تو وہ خواتین ہیں۔

 گھریلو سطح سے لے کر پیشہ ورانہ میدان تک پاکستانی خواتین نے مالی نظم و نسق، آمدن بڑھانے اور اخراجات کم رکھنے میں غیر معمولی ذمہ داری نبھائی ہے۔روایتی طور پر گھر کے بجٹ کی منصوبہ بندی خواتین کے ہاتھ میں رہی ہے مگر مہنگائی کے اس دور میں یہ ذمہ داری کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ محدود آمدن میں پورے خاندان کی ضروریات پوری کرنا، اشیائے خورونوش کی قیمتوں کا موازنہ کرنا، متبادل اشیا کا انتخاب اور فضول خرچی سے گریزیہ سب فیصلے عموماً خواتین ہی کرتی ہیں۔ آج کی خاتون صرف کھانا پکانے والی نہیں بلکہ عملی طور پر گھریلو’’ فنانس منیجر‘‘ ہے جو ہر روپے کا حساب رکھتی ہے۔

آمدن میں اضافے کے راستے

مہنگائی نے خواتین کو صرف اخراجات کم کرنے تک محدود نہیں رکھا بلکہ آمدن بڑھانے پر بھی مجبور کیا ہے۔ گھروں سے کام کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن فری لانسنگ، ہوم بیسڈ بیکنگ اور کوکنگ، سلائی کڑھائی، بیوٹیشن سروسز، آن لائن سٹورز اور سوشل میڈیا کے ذریعے کاروبار‘یہ سب پاکستانی خواتین کے لیے باعزت اور مؤثر آمدن کے ذرائع بن چکے ہیں۔ خاص طور پر وہ خواتین جو گھروں سے باہر کام نہیں کر سکتیں انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنی معاشی خودمختاری کا ذریعہ بنایا ہے۔

پیشہ ورانہ کردار

شہری علاقوں میں تعلیم یافتہ خواتین مہنگائی کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پیشہ ورانہ میدان میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ تدریس، بینکنگ، میڈیا، صحت، آئی ٹی اور کارپوریٹ سیکٹر میں خواتین کی شمولیت نہ صرف گھریلو آمدن میں اضافہ کر  رہی ہے بلکہ مجموعی قومی معیشت میں بھی حصہ ڈال رہی ہے۔ دہری آمدن والے گھرانوں میں مہنگائی کے دباؤ کو نسبتاً بہتر طریقے سے سنبھالا جا رہا ہے اور اس میں خواتین کا کردار مرکزی ہے۔

دیہی خواتین کی جدوجہد

دیہی خواتین کا مالی کردار اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے حالانکہ وہ زراعت، مویشی پالنے، دودھ، دہی اور مکھن کی پیداوار جیسے کاموں میں اہم حصہ ڈالتی ہیں۔ مہنگائی کے باعث جب کھاد، بیج اور چارے کی قیمتیں بڑھیں تو دیہی خواتین نے وسائل کا بہتر استعمال، ضیاع میں کمی اور مقامی سطح پر خود کفالت کو فروغ دیا۔ یہ خواتین نہ صرف اپنے گھروں بلکہ مقامی معیشت کو بھی سہارا دے رہی ہیں۔

بچت اور مالی شعور

مہنگائی کے دور میں بچت کرنا سب سے مشکل مگر سب سے ضروری کام ہے مگر ہماری خواتین اب پہلے سے زیادہ مالی شعور حاصل کر رہی ہیں۔ گھریلو بچت کمیٹیاں، بچت اکاؤنٹس، سونا خریدنے کا رجحان اور چھوٹے پیمانے پر سرمایہ کاری یہ سب خواتین کے بڑھتے ہوئے مالی فہم کی مثالیں ہیں۔ خواتین اب مستقبل کے غیر یقینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ایک مثبت تبدیلی یہ بھی دیکھنے میں آ رہی ہے کہ خواتین اب خاندانی مالی فیصلوں میں زیادہ فعال ہیں۔ گھر کی خریداری، بچوں کی تعلیم، علاج اور حتیٰ کہ جائیداد سے متعلق فیصلوں میں خواتین کی رائے کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ مہنگائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صرف ایک فرد پر مالی بوجھ ڈالنا عملی نہیں بلکہ اجتماعی دانش ہی مسائل کا حل ہے۔

سماجی اور نفسیاتی دباؤ

یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی کے ساتھ خواتین پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ محدود وسائل میں گھر چلانے کی ذمہ داری، کام اور گھر کے درمیان توازن، اور سماجی توقعات یہ سب خواتین کی ذہنی صحت پر اثر ڈالتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ خاندان اور ریاست دونوں سطحوں پر خواتین کے کردار کو تسلیم کیا جائے اور انہیں سہولتیں فراہم کی جائیں۔

حکومتی اور سماجی اقدامات

اگر خواتین کے مالی کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے تو حکومتی سطح پر ہوم بیسڈ ورکرز کے لیے آسان قرضے، تربیتی پروگرامز اور ڈیجیٹل سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ سماجی سطح پر خواتین کے کام کو عزت دینا اور ان کی معاشی شراکت کو تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مہنگائی کے اس مشکل دور میں پاکستانی خواتین نے ثابت کیا ہے کہ وہ صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود  نہیں بلکہ معاشی استحکام کی بنیاد بھی ہیں۔ چاہے وہ گھر کے بجٹ کی منصوبہ بندی ہو، اضافی آمدن کے ذرائع تلاش کرنا ہو یا مستقبل کے لیے بچت ،خواتین ہر محاذ پر متحرک ہیں۔ اگر اس کردار کو درست پالیسیوں، سماجی حمایت اور مساوی مواقع کے ذریعے تقویت دی جائے تو نہ صرف خاندان بلکہ پوری قوم مہنگائی کے چیلنج کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شعبان المعظم:تیاری، برکت اور بخشش کا مہینہ

’’یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں، اس میں لوگوں کے اعمال رب کے حضور پیش کئے جاتے ہیں‘‘ (سنن النسائی) جب رجب المرجب کا چاند نظر آتا تو نبی کریمؐ دعا فرماتے ’’اِلٰہی رجب اور شعبان میں ہمیں برکت دے اور ہمیں خیریت کے ساتھ رمضان تک پہنچا‘‘ (مشکوۃ المصابیح)حضرت اْمِ سلمہ ؓ فرماتی ہیں ’’میں نے حضور اکرمﷺ کو شعبان اور رمضان کے سوا متواتر دو مہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا‘‘(جامع ترمذی)

احسان: اسلامی اخلاق کا بلند ترین معیار

’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے‘‘ (النحل:90) ’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘(صحیح بخاری)

نومولود بچے کو گھٹی دینا:مسنون اسلامی عمل

لوگ اپنے نومولود بچوں کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لاتے، آپﷺ اُن کیلئے خیرو برکت کی دعا فرماتے اور اُنہیں گھٹی دیا کرتے تھے(صحیح مسلم)

مسائل اور ان کا حل

قسم کا کفارہ سوال :میں نے قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں کھائوں گا، اب اگر وہ چیز کھائوں تو اس کا کیا کفارہ ہو گا؟(محمد طاہر، شیخوپورہ)

پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے مقاصد

پاکستان نے غزہ میں امن کے لیے بورڈآف پیس میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو امر یکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈآف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔

لاہور کی دو اضلاع میں انتظامی تقسیم نا گزیر کیوں؟

سیاست کی پارلیمنٹ میں واپسی،مذاکراتی عمل کی بحالی کے امکانات