سانحہ گل پلازہ…آگ اور غفلت
کراچی کے سانحہ گل پلازہ میں 55 سے زائد جان سے گئے ‘ لاپتہ افراد کی تعداد بھی86 سے زائد ہے ۔مگر عمارت سے کچھ ہی دور کھڑی سیاست افسردہ ہے۔ یہ جملہ عجیب سا لگے گا لیکن عوام کی صحت اور جان و مال کا تعلق سیاست سے کس طرح الگ کیا جاسکتا ہے؟
کسی جمہوری معاشرے میں سیاستدان ہی کا کام ہے نظام حکومت چلانا، ادارے تشکیل دینا اور انہیں فعال رکھنا ۔ اگر ادارے فعال نہیں، عوام کو سہولت فراہم کرنے میں ناکام ہیں، عوام کے جان و مال کی حفاظت ان کی ذمہ داری نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ادارہ یا نظام ناکام ہے بلکہ وہ سیاستدان ناکام ہیں جن کا کام ان اداروں کی دیکھ بھال ہے۔ سانحہ گل پلازہ میں سیاستدان ناکام نظر آتے ہیں۔ عمارت میں ممکنہ طور پر اس طرح کی آگ سے نمٹنے کا فائر سسٹم موجود نہیں تھا۔ 1021دکانوں کی اجازت تھی لیکن 1200 یا شاید اس سے بھی زیادہ دکانیں موجود تھیں۔اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت عمارت کے دو کے سوا تمام دروازے بند تھے۔ آگ لگنے کے کچھ دیر بعد ہی گل پلازہ کی انتظامیہ میں سے کسی نے کے الیکٹرک کو فون کردیا جس نے اگلے چند منٹ میں بجلی بند کردی۔ ان تمام چیزوں نے مل کر حادثے کو سانحے میں بدل دیا۔
اب یہاں سے نااہلی، ناکامی اور غیر ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ آگ لگنے کے بعد فائر بریگیڈ پہنچی اور اس نے کام شروع کردیا۔ ڈھائی سے تین کروڑ کی آبادی والے شہر میں صرف 29 فائر سٹیشنز، 40 سے زائد ٹینڈرز اور 6 سنارکلز ہیں۔ آگ بجھانے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ فائر مینوں کے پاس مکمل آلات نہیں ہیں اور وہ عمارت میں داخل ہونا بھی چاہیں تو یہ ان کے لیے ممکن نہیں۔ دورانِ مدد فائر ٹینڈرز میں پانی ختم ہوا تو اس دوران واٹر ٹینکر پانی لارہے تھے کہ ٹریفک جام میں پھنس گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ جگہ جگہ سڑکیں یا تو ٹوٹی ہیں یا انہیں تعمیراتی کام کے نام پر برسوں سے کھودا گیا ہے اور تعمیراتی کام مکمل نہیں ہورہا۔ حادثے کے بعد ان راستوں پر جہاں سے واٹر ٹینکرز کو آنا تھا ٹریفک کا عملہ بڑی تعداد میں موجود نہیں تھا۔ آگ دیکھنے کے لیے ہزاروں افراد کھڑے تھے جو اپنے موبائلوں میں واقعہ کو ریکارڈ کر رہے تھے۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کہ راستہ بند ہورہا ہے، امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکومت کی جانب سے عوام کو آگ سے بچاؤ کی تربیت کا بھی کوئی انتظام نہیں کیا گیا ۔ کیا کوئی ایسی مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ سکولوں یا کالجوں میں کوئی مشق کرائی گئی ہو یا کوئی نصاب ہو جس کی بنیاد پر ہر ماہ نہ سہی سال میں ایک بار ہی کوئی ڈرل کرائی گئی کہ اگر آگ لگ جائے تو کیسے بچا جائے۔ جو لوگ اس تحریر کو پڑھ رہے ہیں وہ بھی سوچیں کہ کیا انہیں آگ سے بچاؤ کی ڈرل کرائی گئی ہے یا انہیں خود کو بچانے کا کوئی طریقہ معلوم ہے؟ حادثے کے بعد کون کون سا ذمہ دار نگرانی کے لیے متاثرہ عمارت تک پہنچا اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میڈیا رپورٹ سب کچھ بیان کرچکی ہیں۔ بات کرتے ہیں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی نیوز کانفرنس کی۔ انہوں نے سانحہ گل پلازہ کی تفصیلات بتائیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہم سب سے غلطیاں ہوئیں۔ کتنی دکانیں جائز اور کتنی ناجائز تھیں۔ واٹر ٹینکر ٹریفک میں پھنس گئے۔ وہ انتظامی اہلکاروں سے مسلسل رابطے میں تھے۔ تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے فی کس امداد کا بھی اعلان کیا۔ حکومت کی غلطیوں کو تسلیم کیا اور کہا کہ جس کی غلطی ہوئی اسے سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیراعلیٰ نے فائر سیفٹی آڈٹ 2024ء کے فوری نفاذ کا اعلان بھی کیا جس کے تحت 145عمارتوں کا جائزہ لیا گیا تھا۔
کچھ بات قومی اسمبلی کی بھی جہاں اس سانحے پر بحث کے دوران ایم کیو ایم اور پی پی ارکان نے ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ 100کے قریب افراد کی زندگی بے وقعت ہے۔ ایم کیو ایم نے تنقید کی تو پی پی والوں نے کہا کہ گل پلازہ کی ناجائز تعمیرات کے ذمہ دار تم ہو۔ بات تو یہ ہونی چاہیے تھی کہ فائر بریگیڈ کو جدید بنایا جائے گا، عوام کی آگہی اور تربیت کا انتظام کیا جائے گا لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی حسرت ہی رہی۔ سوال یہ ہے کہ غیرقانونی دکانیں کیسے تعمیر ہوئیں، فائر بریگیڈ کے پاس آلات کی کمی کیوں ہے، واٹر ٹینکر آنے والا راستہ کلیئر کیوں نہ رکھا گیا۔ عمارت کے درجنوں دروازے بند تھے تو فوری طور پر کیوں نہیں کھولے گئے۔ عمارت کی سیڑھیوں کی بندش کا ذمہ دار کون تھا، عوام جائے حادثہ پر کیوں کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے اور انہیں کیوں نہیں ہٹایا گیا۔ فائر آڈٹ رپورٹ پر کام کیوں نہیں ہوا۔ وغیرہ وغیرہ۔ بات یہ ہے کہ سسٹم کی ناکامی سیاستدانوں کی ناکامی ہی ہے ۔ اب بھی صرف فائر آڈٹ رپورٹ پر عمل کی بات کی گئی۔ کوئی پورا نظام تخلیق نہیں کیاگیا، نظام بنانا بھی سیاستدانوں کا ہی کام ہے۔ اگر حکومت کے مزے لوٹنے ہیں تو لوٹیں کچھ کام بھی تو کریں۔ انتہائی معذرت کے ساتھ سب سے افسوسناک بات یہ رہی کہ شہر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں جوتم پیزار ہوئی اور نیوز کانفرنس کے شرکاہنستے رہے۔ کیا دل میں کوئی ٹیس نہیں اُٹھی؟ کیا کسی کا آنسو آپ کے دل پر نہیں گرا؟ ایک بار سوچئے گا ضرور!