لاہور کی دو اضلاع میں انتظامی تقسیم نا گزیر کیوں؟

تحریر : سلمان غنی


سیاست کی پارلیمنٹ میں واپسی،مذاکراتی عمل کی بحالی کے امکانات

پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈرز کی تقرری کے عمل کے بعد ایک مرتبہ پھر مذاکراتی عمل کی بحالی کے امکانات ظاہر ہو رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کے انتخاب کے بعد ان کے خطاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ڈیڈلاک کا خاتمہ چاہتے ہیں اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں ۔ اس کے امکانات روشن ہیں کہ آنے والے حالات میں سیاست پارلیمنٹ میں واپس جائے گی اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈائیلاگ کا ماحول بن سکتا ہے۔ خود وزیراعظم شہبازشریف نے مذاکرات کی پیشکش کی تھی اور بامقصد مذاکراتی عمل پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ مذاکراتی عمل ملک میں سیاسی استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ مذاکراتی عمل بارے پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی نامزدگی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ہوئی ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن لیڈرز کو پارلیمانی کردار تو مل گیا لیکن وہ پل صراط پر کھڑے نظر آ رہے ہیں اس لئے کہ پی ٹی آئی کی سیاست اور سرگرمیاں اپنے بانی کیلئے ریلیف اور رہائی سے مشروط ہیں۔ اگر وہ واقعتاً قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈرز پر اعتماد کرتے ہیں تو بات چیت کے عمل کی بحالی کے معاملات چل سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اہل سیاست مل بیٹھیں تومسائل کا حل نکلتا ہے، لیکن اس کیلئے سیاسی طرز عمل ضروری ہے۔ 

دوسری جانب پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک بڑا مسئلہ نظر آ رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے بلدیاتی ایکٹ 2025کی منظوری اور بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے باوجود عملاً ۰پیش رفت نظر نہیں آ تی۔ حکومت نے الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کرا رکھی تھی کہ وہ 10جنوری تک بلدیاتی انتخابات کیلئے حد بندی اور دیگر تکنیکی معاملات طے کرنے کے بعد الیکشن  کمیشن کو گرین سگنل دے گی تاکہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے آج جمعرات کو پنجاب کے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ کو طلب کر رکھا ہے تاکہ بلدیاتی انتخابات  کے حوالے سے مزید کارروائی کی جا سکے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب حکومت اس حوالے سے کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین پاکستان کہتا ہے کہ لوکل گورنمنٹ کے خاتمہ کے 120روز کے اندر انتخابات کرانا ہوں گے لیکن انتخابات میں پیش رفت کیسے ہوگی اس حوالے سے آئین میں واضح نہیں جس کا فائدہ حکومتیں اٹھاتی ہے ۔ اب بھی یہی صورتحال ہے۔ اب الیکشن کمیشن کے تیور بھی بدلے نظر آ رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کو قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو سفارش کی ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017کے سیکشن219میں ترمیم کی جائے۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مقامی حکومتوں کی مدت پوری ہونے یا ان کی تحلیل کی صورت میں اس وقت نافذ لوکل گورنمنٹ قوانین کے تحت ہی الیکشن کرائے جائیں تاکہ کسی قسم کی قانونی یا انتظامی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ تجاویز اس لئے بھیجی گئی ہیں کہ  حکومتیں بلدیاتی انتخابات سے جان چھڑاتی نظر آتی ہیں جس کے باعث مقامی سطح پر بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے اور عوام  کو بنیادی سہولتیں نہیں مل پاتیں۔

الیکشن کمیشن باور کراتا نظر آ رہا ہے کہ یہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بروقت الیکشن کرائیں۔ یہ ہمارا جمہوری المیہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کی مضبوطی کی دعویدار اور علمبردار جماعتیں اس عمل کو صرف  اسمبلیوں کے قیام تک محدود کئے ہوئے ہیں جبکہ دنیا بھر میں مضبوط جمہوریت کا تصور مؤثر لوکل گورنمنٹ سسٹم اور مقامی حکومتوں سے مشروط ہے ۔ کراچی میں رونما ہونے والے گل پلازہ کے سانحہ کے بعد قومی اسمبلی میں سامنے آنے والے ردعمل میں بھی مضبوط مقامی حکومتوں کی تشکیل پر زور دیا گیا لیکن مضبوط مقامی حکومتوں کی ضرورت کے اعتراف کے باوجود ان پر اس لئے پیش رفت نہیں ہوتی کہ صوبائی حکومتیں انہیں ہضم نہیں کر پاتیں ۔یہ عمل تبھی ممکن ہوگا کہ جب قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات کو بھی آئینی تحفظ حاصل ہو اور انہیں یقینی بنایا جائے۔ 

 دوسری جانب پنجاب حکومت نے لاہور میں سروس ڈیلیوری، ٹریفک، تجاوزات اور بلدیاتی مسائل کے مستقل حل کیلئے ری سٹرکچرنگ کرتے ہوئے لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں کہا گیا کہ لاہور میں آبادی بڑھ رہی ہے اور لاہور کی دو حصوں میں تقسیم ہونے سے شہری اور عوامی شکایات کے ازالہ میں مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے متعلقہ محکموں کو مذکورہ احکامات پر عمل درآمد کی ہدایات دے دی گئی ہیں ۔ اس حوالے سے اہم اقدامات کے ضمن میں 9فروری کو دوبارہ اجلاس بلایا گیا ہے۔ بلاشبہ لاہور آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ایک میگا سٹی بن چکا ہے اور اس کی بڑی وجہ لاہورکے بڑھتے کردار کے باعث صوبہ بھر سے لوگوں کا رخ اس طرف ہونا ہے۔   اب لاہور رائیونڈ، شیخوپورہ، مانگا منڈی اور ننکانہ صاحب تک وسیع ہوتا نظر آ رہا ہے، لہٰذا اس کی دو اضلاع میں تقسیم ناگزیر بن گئی تھی ۔ اسی بنا پر کراچی میں چار اضلاع بنائے گئے ہیں۔

یہ عمل واضح قانونی فریم ورک اور سیاسی اتفاق رائے کے ساتھ وجود میں آئے تو اس سے مضبوط بلدیاتی سسٹم کے ساتھ انتظامی کارکردگی اور شہری زندگی کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے۔ لاہور کی انتظامی تقسیم میں آبادی رقبے اور ضروریات کے تناسب سے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی بجٹ مختص کیا جائے تاکہ ایک حصہ محرومی کا شکار نہ ہو اور اس حوالے سے اقدامات محض نوٹیفکیشن تک محدود نہ ہوں بلکہ صوبائی قانون سازی کے ذریعہ اختیارات، ذمہ داریاں اور دائرہ کار واضح ہونا چاہئے۔ تاہم انتظامی امور کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ دو اضلاع میں تقسیم کے عمل میں ایک بات جو نظر آ رہی ہے یہ ہے کہ ایک ڈپٹی کمشنر کا ایریا محدود مگر اس کے ہاں آبادی اور مسائل زیادہ ہوں گے جبکہ دوسرا ڈپٹی کمشنر ایسے علاقوں کیلئے ہوگا جس کا علاقہ وسیع مگر وہاں مسائل محدود ہوں گے۔ لیکن یہ عمل تب کارگر ہوگا جب بلا امتیازہر طرح کی آبادی اور علاقوں پر مشتمل تقسیم یقینی بنے تاکہ ترقی کے عمل کے مواقع اور اقدامات میں کوئی امتیاز نہ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

شعبان المعظم:تیاری، برکت اور بخشش کا مہینہ

’’یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں، اس میں لوگوں کے اعمال رب کے حضور پیش کئے جاتے ہیں‘‘ (سنن النسائی) جب رجب المرجب کا چاند نظر آتا تو نبی کریمؐ دعا فرماتے ’’اِلٰہی رجب اور شعبان میں ہمیں برکت دے اور ہمیں خیریت کے ساتھ رمضان تک پہنچا‘‘ (مشکوۃ المصابیح)حضرت اْمِ سلمہ ؓ فرماتی ہیں ’’میں نے حضور اکرمﷺ کو شعبان اور رمضان کے سوا متواتر دو مہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا‘‘(جامع ترمذی)

احسان: اسلامی اخلاق کا بلند ترین معیار

’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے‘‘ (النحل:90) ’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘(صحیح بخاری)

نومولود بچے کو گھٹی دینا:مسنون اسلامی عمل

لوگ اپنے نومولود بچوں کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لاتے، آپﷺ اُن کیلئے خیرو برکت کی دعا فرماتے اور اُنہیں گھٹی دیا کرتے تھے(صحیح مسلم)

مسائل اور ان کا حل

قسم کا کفارہ سوال :میں نے قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں کھائوں گا، اب اگر وہ چیز کھائوں تو اس کا کیا کفارہ ہو گا؟(محمد طاہر، شیخوپورہ)

پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے مقاصد

پاکستان نے غزہ میں امن کے لیے بورڈآف پیس میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو امر یکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈآف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔

سانحہ گل پلازہ…آگ اور غفلت

کراچی کے سانحہ گل پلازہ میں 55 سے زائد جان سے گئے ‘ لاپتہ افراد کی تعداد بھی86 سے زائد ہے ۔مگر عمارت سے کچھ ہی دور کھڑی سیاست افسردہ ہے۔ یہ جملہ عجیب سا لگے گا لیکن عوام کی صحت اور جان و مال کا تعلق سیاست سے کس طرح الگ کیا جاسکتا ہے؟