نومولود بچے کو گھٹی دینا:مسنون اسلامی عمل

تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع


لوگ اپنے نومولود بچوں کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لاتے، آپﷺ اُن کیلئے خیرو برکت کی دعا فرماتے اور اُنہیں گھٹی دیا کرتے تھے(صحیح مسلم)

اللہ تعالیٰ جب کسی مسلمان کو اولاد کی نعمت سے نوازدیں تو اُس وقت منجملہ اسلامی تعلیمات کے ایک مسنون عمل گھٹی دینا بھی ہوتا ہے۔جس کو عربی میں’’تحنیک‘‘ کہتے ہیں۔ ’’تحنیک‘‘ کا لغوی معنی’’کسی چیز کو چبا کر بچہ کے منہ میں ڈالنا‘‘کے ہیں۔یہ لفظ ’’حنک‘‘ سے لیاگیا ہے، اور ’’حنک‘‘ عربی میں ’’تالو‘‘ کو کہا جاتا ہے۔ اس تناظر میں اس کا مطلب ’’کوئی میٹھی چیز  چبا کر بچے کے تالو پر مَلنا‘‘ ہوتاہے۔

گھٹی دینے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی نیک،صالح،متبع سنت بزرگ کے منہ میں چبائی ہوئی کھجوریا اس کے لعاب میں ملی ہوئی کوئی بھی میٹھی چیز مثلاً شہد یا کم از کم کوئی ایسی چیز جو آگ پر پکی ہوئی نہ ہو بچے کے منہ میں ڈال کے اس کے تالو پر مل دی جائے، تاکہ اُس کالعاب بچے کے پیٹ میں چلا جائے اور اس طرح اس نیک بزرگ کی عمدہ صفات اور نیکی کے اثرات اس بچے کے اندرمنتقل ہوجائیں۔

صحابہ کرامؓ کے یہاں جب بچہ پیدا ہوتا تو وہ اسے رسول اللہﷺ کی خدمت میں لاتے اور آپ ﷺسے گھٹی دلواتے، تاکہ آئندہ اس نومولود بچے میں آنحضرتﷺکی سیرت کی جھلک نظر آسکے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ اپنے نومولود بچوں کو رسول اللہ ﷺکی خدمت میں لایا کرتے تھے، آپﷺ اُن کیلئے خیرو برکت کی دعا فرماتے اور اُنہیں گھٹی دیا کرتے تھے (صحیح مسلم:5619)۔

حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسن ؓ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام’’حرب‘‘ رکھا اور میں یہ پسند کرتا تھا کہ مجھے ’’ابوحرب‘‘ کنیت سے پکارا جائے۔ حضورِ اقدس ﷺتشریف لائے، حضرت حسن ﷺکو گھٹی دی اور مجھ سے فرمایا کہ تم نے میرے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا حرب۔ آپﷺ نے فرمایا وہ حسن ہے۔ پھر جب حضرت حسین ؓ پیدا ہوئے تو میں نے اُن کا نام بھی حرب رکھا۔ حضورِ اقدس ﷺ تشریف لائے، حضرت حسین ؓ کو گھٹی دی اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ تم نے میرے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟  میں نے عرض کیاحرب۔آپﷺ نے فرمایا وہ حسین ہے۔(مسند بزار:743)۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (جب میں پیدا ہوا تو) مجھے حضورِ اقدسﷺکی خدمت میں ایک کپڑے میں لپیٹ کر لایا گیا، آپﷺ نے اپنے لعاب مبارک سے مجھے گھٹی دی۔(المعجم الکبیر: 10566)۔

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کررہی تھی، جب میں قُباء کے مقام پر پہنچی تو میرے یہاں بچے کی ولادت ہوگئی، میں بچے کو لے کر حضورِ اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے آپﷺ کی گود میں اُس بچے کو رکھ دیا، آپﷺ نے کھجور منگوائی،اسے چبایا، آپﷺ نے اپنا لعابِ بچے کے منہ میں ڈال دیا، پھر آپﷺ نے اسے کھجور سے گھٹی دی اور اُس کیلئے خیر و برکت کی دعا فرمائی۔(صحیح بخاری:5469)

حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ میرے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تو میں اسے حضورِ اقدس ﷺ کی خدمت میں لے گیا،آپﷺ نے اُس کا نام ابراہیم رکھا، اُسے کھجور سے گھٹی دی اور اُس کیلئے برکت کی دعا فرمائی(صحیح بخاری:5467)۔ 

حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ کا بیٹا عبد اللہ پیدا ہوئے تو میں اسے لے کر حضورِ اقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس کھجوریں ہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر میں نے کچھ کھجوریں نکال کر آپﷺ کی خدمت میں پیش کیں، آپﷺ نے وہ کھجوریں اپنے منہ میں ڈال کر چبائیں،اور پھر آپﷺ نے بچے کا منہ کھولا اور اپنا لعاب بچے کے منہ میں ڈالا جسے بچہ چوسنے لگا۔ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایاکہ انصار کو کھجوروں کے ساتھ محبت ہے اور آپﷺ نے اس بچے کا نام عبداللہ رکھا(صحیح مسلم:5612)۔

حضرت عبد الرحمن بن زید ؓ جب پیدا ہوئے تو ان کے نانا جان حضرت ابولبابہ ؓانہیں ایک کپڑے میں لپیٹ کر حضورِ اقدسﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہﷺ! میں نے آج تک اتنے چھوٹے جسم والا بچہ نہیں دیکھا۔ آپ ﷺنے بچے کو گھٹی دی، سر پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا دی۔اِس دعا کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ حضرت عبدالرحمٰن بن زید ؓ جب کسی قوم میں ہوتے تو قد میں سب سے اونچے دکھائی دیتے۔(الاصابۃ فی تمییز الصحابہ:ج5ص29)

امام نووی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کا اتفاق ہے کہ نومولود کی ولادت کے وقت اُس کو کھجور کے ساتھ گھٹی دینا مستحب ہے۔ اگر کھجور میسر نہ ہو تو اُس سے ملتی جلتی کسی میٹھی چیز کے ذریعے بھی گھٹی دی جاسکتی ہے۔ گھٹی ڈالنے کا طریقہ یہ ہے کہ گھٹی ڈالنے والا شخص کھجور اِس قدر چبائے کہ وہ پتلا شیرہ نما بن جائے جسے نومولود بچہ نگل سکے، پھر اُس کا منہ کھولے اورمعمولی سا بچے کے منہ میں ڈالے تا کہ اُس کا کچھ حصہ بچے کے پیٹ میں داخل ہوجائے۔ یہ بھی مستحب ہے کہ گھٹی ڈالنے والا شخص نیک ہو۔اگر مذکورہ صفات کا حامل کوئی شخص وہاں موجود نہ ہو تو بچے کو کسی ایسے برزگ کے پاس لے جایا بھی جا سکتا ہے۔ (شرح نووی: ج14ص122)

نومولودبچے کو گھٹی ڈالنے میں حکمت یہ ہے کہ اِس سے ایمان کا فال لیا جاتا ہے کیوں کہ کھجور اُس درخت کا پھل ہے جسے رسول اللہ ﷺنے مومن کے ساتھ اور اُس کی مٹھاس کے ساتھ بھی تشبیہ دی ہے۔ بالخصوص جب کہ گھٹی ڈالنے والا شخص اہل فضل اور نیک علماء میں سے ہو، کیوں کہ اُس کا لعاب نومولود بچے کے پیٹ میں داخل ہوگا۔ دیکھتے نہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓکو گھٹی رسول اللہ ﷺ نے ڈالی تھی تو وہ اس قدر فضائل وکمالات سے مالا مال ہوئے جنہیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ قرآنِ مجید کے قاری تھے۔ عفیف فی الاسلام تھے۔ یعنی اُن کا دامن بے داغ تھا۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن ابی طلحہ ؓنے بھی آنحضرتﷺ کے لعاب مبارک کی بدولت اہل علم و فضل اور مسابقت الیٰ الخیر میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: ج12ص38)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔