احسان: اسلامی اخلاق کا بلند ترین معیار

تحریر : ڈاکٹر مفتی سّید اطہر علی


’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے‘‘ (النحل:90) ’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘(صحیح بخاری)

 احسان عربی زبان کا نہایت جامع لفظ ہے جو حسن، خوب صورتی اور کمالِ عمل کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے۔ لغوی اعتبار سے احسان کا مطلب یہ ہے کہ کوئی کام اچھے طریقے، عمدہ انداز اور بہتر نیت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ شریعتِ اسلامیہ میں احسان کا دائرہ بہت وسیع ہے، یہ صرف مالی امداد یا صدقہ و خیرات تک محدود نہیں بلکہ ہر وہ عمل جو خلوص، نرمی، خیر خواہی اور حسن نیت کے ساتھ کیا جائے، احسان کہلاتا ہے۔ عبادات ہوں یا معاملات، گفتار ہو یا کردار، ہر شعبہ زندگی میں احسان مطلوب ہے۔ شرعی نقطہ نظر سے احسان ایمان کی تکمیل اور روحانی بلندی کا ذریعہ ہے۔ بندہ جب کسی انسان کے ساتھ بھلائی کرتا ہے اور اس بھلائی میں اپنی ذات، اپنی بڑائی یا کسی قسم کے فخر کو شامل نہیں کرتا تو وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا مقصد بناتا ہے۔ یہی وہ اخلاص ہے جو عمل کو اللہ کے نزدیک مقبول بناتا ہے۔ احسان کا یہ پہلو انسان کو ریا، دکھاوے اور خود پسندی سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کے دل میں تواضع، انکساری اور اللہ پر اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں احسان کو محض ایک اضافی اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک مطلوب اور پسندیدہ صفت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ قرآن مجید نے بار بار احسان کا حکم دے کر یہ واضح کر دیا کہ ایک مسلمان کا کردار صرف عبادات کی ادائیگی سے مکمل نہیں ہوتا، بلکہ اس وقت تک ادھورا رہتا ہے جب تک وہ مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنی مستقل عادت نہ بنا لے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے ‘‘(سورۃ النحل: 90)۔احسان دراصل وہ اخلاقی معیار ہے جو فرد کی اصلاح کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کو اعتدال، محبت اور باہمی احترام کی بنیاد پر استوار کرتا ہے۔

قرآن کی روشنی میں بے لوث احسان

قرآن مجید میں جن اعمال کو سب سے زیادہ پسند کیا گیا ہے، ان میں بے لوث احسان نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف فرمائی ہے جو کسی صلے، شکریے یا اعتراف کے بغیر نیکی کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل ایمان کی پختگی کی علامت ہے۔ بے لوث احسان کا مطلب یہ ہے کہ دینے والا یہ شعور رکھے کہ اصل عطا کرنے والا اللہ ہے، وہ صرف ایک وسیلہ ہے۔ جب یہ سوچ پیدا ہو جاتی ہے تو احسان جتانے کی خواہش خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ قرآن یہ بھی سکھاتا ہے کہ نیکی میں چھپاؤ اکثر اوقات اخلاص کی حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے۔ اسی لیے خفیہ صدقہ کو کھلے صدقے سے افضل قرار دیا گیا ہے۔’’اگر تم خیرات ظاہر کر کے دو تو بھی اچھا ہے، اور اگر اسے چھپا کر فقراء کو دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے‘‘ (سورۃ البقرہ: 271)۔

احادیث نبویﷺ میں احسان کا معیار

نبی کریم ﷺ نے احسان کو دین کے اعلیٰ ترین درجے کے طور پر بیان فرمایا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں محض ظاہری اعمال کافی نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود نیت اور کیفیت بھی نہایت اہم ہے۔ آپﷺ کی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ احسان کا اصل معیار یہ ہے کہ دوسرے کو فائدہ پہنچے اور اس کے دل کو کوئی ٹھیس نہ لگے۔ اسی لیے آپﷺ نے ایسے ہر عمل سے منع فرمایا جو اذیت یا شرمندگی کا سبب بنے۔ احادیث میں بار بار یہ پیغام ملتا ہے کہ انسان کو نیکی کے بدلے اللہ سے اجر کی امید رکھنی چاہیے، نہ کہ لوگوں سے تعریف یا شکر کی۔’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘ (صحیح بخاری، جلد 1، حدیث: 50)۔

قول و فعل کے ذریعے احسان

اسلام نے احسان کو صرف مال تک محدود نہیں رکھا بلکہ قول و فعل بھی اس میں شامل  ہے۔ نرم گفتگو، معاف کر دینا اور سہولت پیدا کرنا سب احسان کی صورتیں ہیں۔ اکثر حالات میں ایک اچھا رویہ یا احترام بھرا جملہ انسان کے دل پر وہ اثر چھوڑتا ہے جو بڑی مالی مدد بھی نہیں چھوڑ پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام اخلاقی احسان پر خصوصی زور دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ انسان ہر حال میں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرے۔حدیث مبارکہ ہے کہ ’’اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے‘‘(صحیح بخاری: 2989)

احسان جتانا: ایک سنگین اخلاقی نقص

احسان جتانا بظاہر ایک معمولی بات محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ اخلاقی طور پر نہایت نقصان دہ رویہ ہے۔ جب انسان کسی پر بھلائی کر کے اسے بار بار یاد دلاتا ہے تو وہ اس بھلائی کو احسان کے بجائے دباؤ میں بدل دیتا ہے۔ اس سے مدد پانے والے کے دل میں شکر کے بجائے اذیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ رویہ دراصل نفس کی برتری اور انا کی تسکین کا نتیجہ ہوتا ہے۔ انسان اپنے عمل کو سامنے رکھ کر خود کو بلند اور دوسرے کو کمتر محسوس کرتا ہے، جبکہ اسلام انسان کو تواضع اور انکساری سکھاتا ہے۔ احسان جتانا اسی تعلیم کے  خلاف ہے۔ احسان جتانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ معاشرے میں اعتماد مجروح ہو جاتا ہے۔ لوگ مدد قبول کرنے سے کترانے لگتے ہیں کیونکہ انہیں ذلت کا خوف لاحق ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بھی اسے سخت ناپسند فرمایا ہے،’’اے ایمان والو! اپنے صدقات احسان جتا کر اور تکلیف دے کر ضائع نہ کرو‘‘( البقرہ: 264)۔

اسلام میں اعمال کی قبولیت کا دار و مدار نیت پر ہے۔ اگر نیت میں خلوص کے بجائے دکھاوا یا برتری شامل ہو جائے تو عمل اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ احسان جتانا اسی خرابی کی نمایاں شکل ہے۔قرآن مجید نے واضح انداز میں بتایا ہے کہ ایسے اعمال جن کے ساتھ اذیت شامل ہو، آخرت میں کسی کام کے نہیں رہتے۔ یہ انسان کیلئے سخت تنبیہ ہے کہ وہ اپنی نیکیوں کی حفاظت کرے۔ اخروی نقصان کا تصور انسان کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور احسان کو خالص رکھے، تاکہ قیامت کے دن شرمندگی سے بچ سکے۔’’ان کے اعمال اس راکھ کی مانند ہیں جسے تیز آندھی اڑا لے‘‘(سورہ ابراہیم: 18)۔

خلاصہ و عملی رہنمائی

احسان اسلام کی ان بنیادی اخلاقی قدروں میں سے ہے جن پر فرد کی دینداری اور کردار کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ قرآن مجید اور سنتِ نبویﷺ دونوں اس بات پر واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں کہ نیکی کا اصل حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ خلوص کے ساتھ، کسی پر فوقیت جتائے بغیر اور محض اللہ کی رضا کیلئے کی جائے۔ احسان اگر جتلانے کے ساتھ ہو تو وہ بظاہر نیکی رہتی ہے، مگر اپنی روح اور اجر دونوں کھو دیتی ہے، کیونکہ اس میں بندے کی توجہ اللہ سے ہٹ کر اپنی ذات اور برتری کی طرف چلی جاتی ہے۔ عملی زندگی میں اس تعلیم کا تقاضا یہ ہے کہ انسان مدد کرتے وقت صرف عمل پر اکتفا نہ کرے بلکہ اپنی نیت، زبان اور طرزِ عمل پر بھی نظر رکھے۔ نیت میں اخلاص ہو، زبان میں نرمی ہو اور انداز میں احترام ہو، تاکہ سامنے والا خود کو بوجھ یا کمتر محسوس نہ کرے۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ مدد لینے والا شرمندگی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو، بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس کے دل کو سکون اور حوصلہ ملے۔ اسی لیے بعض اوقات خاموشی سے کی گئی چھوٹی سی مدد، جتائے گئے بڑے احسان سے کہیں زیادہ مؤثر اور بابرکت ہوتی ہے۔ اگر احسان کے اس اصول کو فرد کی سطح پر سنجیدگی سے اپنایا جائے تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کرنے لگتے ہیں، تعاون کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے اور طبقاتی احساسِ برتری کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں نیکی فخر کا ذریعہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، اور جہاں رحمت، ہمدردی اور باہمی احترام ایک زندہ حقیقت بن جاتے ہیں۔ یہی وہ معاشرتی فضا ہے جس کی تشکیل اسلام کا بنیادی مقصد ہے۔

ڈاکٹر مفتی سید اطہر علی اسلامک سکالر اور

 استاد ہیں، ان کے مذہبی معلوماتی مضامین مختلف جرائد کی زینت بنتے رہتے ہیں

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔