شعبان المعظم:تیاری، برکت اور بخشش کا مہینہ

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں، اس میں لوگوں کے اعمال رب کے حضور پیش کئے جاتے ہیں‘‘ (سنن النسائی) جب رجب المرجب کا چاند نظر آتا تو نبی کریمؐ دعا فرماتے ’’اِلٰہی رجب اور شعبان میں ہمیں برکت دے اور ہمیں خیریت کے ساتھ رمضان تک پہنچا‘‘ (مشکوۃ المصابیح)حضرت اْمِ سلمہ ؓ فرماتی ہیں ’’میں نے حضور اکرمﷺ کو شعبان اور رمضان کے سوا متواتر دو مہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا‘‘(جامع ترمذی)

 شعبان آٹھواں اسلامی مہینہ ہے جو رمضان المقدس سے پہلے آتا ہے۔ اس مہینے کو اللہ تعالیٰ نے بہت فضیلت عطا فرمائی ہے، جس کی عظیم وجہ تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس مہینہ میں ماہ ِرمضان کے روزوں، تراویح اور دیگر عبادات کی تیاری کا موقع ملتا ہے۔ رمضان جو اپنی برکتوں، رحمتوں اور عنایات ربانی کا موسم بہار ہے اس کی تیاری کا ماہِ شعبان سے شروع ہونا اس کی عظمت کو چار چاند لگا دیتاہے۔ گویا شعبان کو رمضان کا ’’مقدمہ‘‘ کہنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے سال کے مہینوں میں سے چار مہینے رجب، شعبان، رمضان اور محرم برگزیدہ فرمائے۔ ان میں سے شعبان کو چن لیا اور اسے رحمتِ عالم ﷺ کا مہینہ قرار دیا۔ لہٰذا شعبان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں تمام بھلائیوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ آسمان سے برکتیں اُتاری جاتی ہیں، گناہ گار بخشش پاتے ہیں اور برائیاں مٹادی جاتی ہیں۔ اسی لیے شعبان کو ’’اَلمْکَفِّر‘‘ یعنی گناہوں کی بخشش کا ذریعہ بننے والا مہینہ کہا جاتا ہے۔

شعبان المعظم کا مہینہ بڑی برکتوں اور رحمتوں والا ہے۔ یہ وہی قابلِ احترام مہینہ ہے کہ جب رجب المرجب کا چاند نظر آتا تو نبی کریم ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ’’اِلٰہی رجب اور شعبان میں ہمیں برکت دے اور ہم کو خیریت کے ساتھ رمضان تک پہنچا دے‘‘ (مشکوۃ المصابیح: 1396)

یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس میں آپ ﷺ کی دیرینہ تمنا پوری ہوئی اور تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا۔ تیمم سے متعلق احکام کا نزول اسی مہینے میں ہوا۔ تاریخ اسلام کا عظیم غزوہ ’’غزوہ بنو المصطلق‘‘ اسی ماہ میں پیش آیا۔ اسی مہینے میں آپ ﷺ نے حضرت حفصہؓ اور جویریہ ؓ سے نکاح فرمایا۔ اسلامی سال کا یہ آٹھواں مہینہ اپنی رحمتوں، برکتوں اور سعادتوں کے اعتبار سے مہتم بالشان اور ماہ رمضان کیلئے پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس مہینہ میں رمضان المبارک کے استقبال، اس کے سایہ فگن ہونے سے قبل ہی اس کی مکمل تیاری اور مختلف ضروری امور سے یکسوئی کا بھرپور موقع ملتا ہے۔

اس مہینے کی عظمت و اہمیت اتنی ہے کہ خود رسول اکرم ﷺ نے اس مہینہ میں رمضان کی تیاری کی ترغیب دی ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے فرماتے ہیں ’’یہ مہینہ وہ مہینہ جس میں حضور اکرم ﷺ اِس کثرت سے روزے رکھتے تھے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کوگمان ہوتا کہ آپ کبھی ترک نہیں کریں گے۔(صحیح ابن خزیمہ)

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں: حضور اکرم ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان سے ملا دیں (کنزالعمال: 26586)۔ حضرت اْمِ سلمہ ؓ فرماتی ہیں: ’’میں نے حضور اکرمﷺ کو شعبان اور رمضان کے سوا متواتر دو مہینے روزے رکھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا‘‘ (ترمذی شریف:155/1)

شعبان اسلامی سال کا آٹھواں ماہ مبارک ہے اس کی بہت فضلیت و برکات ہیں۔ ’’شعبان‘‘ عربی میں پھیلانے اور شاخ در شاخ ہونے کو کہتے ہیں۔ چوں کہ اِس مہینہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نفلی روزے رکھنے اور نیک عمل کرنے والے کو شاخ در شاخ برابر بڑھنے والی نیکی اور خیر و بھلائی کا موقع میسر آتا ہے اِس لئے اِس مہینہ کو بھی ’’شعبان‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ماہِ رجب کے احترام میں عرب لوگ لڑائی جھگڑوں وغیرہ سے بچ کر گھروں میں رہتے تھے اور شعبان کے مہینے میں شاخوں کی طرح منتشر و متفرق ہو جاتے تھے اِس لئے اِس مہینہ کو ’’شعبان‘‘ کہا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: ج 8 ص 184)

اِس ماہ میں رسول اللہ ﷺ  بڑی کثرت سے نفلی روزے رکھتے اور اِس کے چاند اور تاریخوں کے یاد رکھنے کا بہت زیادہ اہتمام فرماتے تھے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضہ اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بنی پاک ﷺ کو تمام مہینوں میں سے شعبان کے روزے رکھنا زیادہ محبوب تھا، اس لئے آپﷺ اس ماہ کثرت سے روزے رکھتے اور میں نے شعبان کے علاوہ اور کسی ماہ میں حضور کو اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ (احمد بن حنبل، المسند، 188/6، رقم:25589)

شعبان کو اس لئے شعبان کہا گیا ہے کہ اس سے خیر کثیر نکلتی ہے۔ شعبان دراصل شعب سے مشتق ہے، اس کا معنی پہاڑ کو جانے والا دشورا گزار راستہ ہے یا گھاٹی بھی ہے۔ اس ماہ کا نام شعبان رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم خیر و برکت کے زیادہ سے زیادہ اعمال سے اللہ کا قرب حاصل کر سکیں۔ اس ماہ کو یہ اعزاز کیا کم ہے کہ اللہ کے محبوب پاک ﷺ نے اس کو خود سے منسوب فرمایا اور دوسرے مہینوں کی نسبت آپﷺ کی نفلی عبادات میں اس ماہ اضافہ ہو جاتا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنی اُمت کو بھی اس ماہ عبادات کرنے کی تلقین فرمائی۔

حضرت اسامہ ؓ کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ میں نے آپﷺ کو اس قدر روزے رکھتے نہیں دیکھا جس قدر آپﷺ شعبان میں رکھتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا یہ وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں، یہ رجب اور رمضان کے درمیان ہے، یہ وہ ماہ ہے جس میں لوگوں کے اعمال رب کے حضور پیش کئے جاتے ہیں اور میں نے یہ پسند کیا کہ جب میرا عمل پیش ہو تو میں روزے میں ہوں (نسائی السنن، کتاب الصیم، رقم:2357)۔

شعبان میں پانچ حروف ہیں بزرگان دین فرماتے ہیں کہ ’’ ش‘‘ سے مراد شرافت،یعنی بزرگی، ’’ع‘‘ سے مراد علو یعنی بلندی، ’’ب‘‘ سے مراد بر یعنی بھلائی اور احسان،’’ الف‘‘ سے مراد الفت اور ’’ن‘‘ سے مراد نور ہے۔ گویا ماہ شعبان کی جلوہ گری تو کیا ہوتی ہے شرافت بلندی بھلائی الفت اور نور کا سماں بندھ جاتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں نیکیوں میں کثرت، خطائوں کی مغفرت اور نزول برکت کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان پاک ہے کہ شعبان کا مہینہ مقدس اور برکت والا ہے، اس ماہ عبادت کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہے۔ حضرت سیدنا انس ؓ فرماتے ہیں کہ ماہ شعبان کا چاند نظر آتے ہی صحابہ کرام تلاوت کلام میں مشغول ہو جاتے اور اپنے احوا ل کی زکوٰۃ نکالتے، حکام قیدیوں کو طلب کرتے جس پر حد قائم کرنا ہوتی قائم کرتے، باقی مجرموں کو رہا کر دیتے۔ تاجر اپنے قرضے ادا کر دیتے اور دوسروں سے اپنے قرضے وصول بھی کرتے۔ 

بنی پاک ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی مسلمان ماہ شعبان میں تین روزے رکھے گا اور افطار کے وقت مجھ پر تین تین بار درود پاک پڑھے گا، اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور اس کی روزی میں برکت کی جائے گی اور قیامت کے روز اللہ اسے جنتی اونٹنی پر سوار کرے گا، یہ اسی پر سوار ہو کر جنت جائے گا اور جو کوئی شعبان کی پہلی اور آخری جمعرات کو روزہ رکھے گا تو اللہ کے ذمہ کرم پر ہے کہ اس کو داخل جنت فرمائے۔اس ماہ مبارک کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اسی ماہ تحویل قبلہ کا حکم عین نماز کے دوران نازل ہوا۔

حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جو شخص شعبان میں ایک روزہ رکھتا ہے، اللہ اس کے جسم پر جہنم حرام کر دیتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ شعبان میرا مہینہ ہے اس ماہ میں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے دس روزے رکھے گا اس کیلئے میری یعنی حضور پاکﷺ کی شفاعت حلال ہو گی۔ ہمیں چاہیے کہ جتنا بھی ہو سکے اس مقدس ماہ منور میں عبادات کی کثرت کریں، درود پاک زیادہ سے زیادہ پڑھیں کیونکہ یہ سرکاردوعالم کا مہینہ ہے اور اس کے وسیلے سے اپنے گناہوں سے توبہ کریں۔

 اللہ ہم سب پر اپنا خاص فضل فرمائے اور ہماری انفرادی و اجتماعی پریشانیاں اپنے محبوب پاکﷺ اور ان کی آل و اصحاب کے صدقے دور فرما کر ان مقدس دنوں میں زیادہ سے زیادہ فکر آخرت کی توفیق نصیب فرمائے، میرے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے، آمین۔ 

صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی عالم ِ دین ہیں ، 29 سال سے مختلف جرائد کے لیے اسلامی موضوعات پر لکھ رہے ہیں 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

احسان: اسلامی اخلاق کا بلند ترین معیار

’’بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے‘‘ (النحل:90) ’احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو‘‘(صحیح بخاری)

نومولود بچے کو گھٹی دینا:مسنون اسلامی عمل

لوگ اپنے نومولود بچوں کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لاتے، آپﷺ اُن کیلئے خیرو برکت کی دعا فرماتے اور اُنہیں گھٹی دیا کرتے تھے(صحیح مسلم)

مسائل اور ان کا حل

قسم کا کفارہ سوال :میں نے قسم کھائی کہ فلاں چیز نہیں کھائوں گا، اب اگر وہ چیز کھائوں تو اس کا کیا کفارہ ہو گا؟(محمد طاہر، شیخوپورہ)

پاکستان کے غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے مقاصد

پاکستان نے غزہ میں امن کے لیے بورڈآف پیس میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کو امر یکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈآف پیس میں شمولیت کی دعوت دی گئی تھی۔

لاہور کی دو اضلاع میں انتظامی تقسیم نا گزیر کیوں؟

سیاست کی پارلیمنٹ میں واپسی،مذاکراتی عمل کی بحالی کے امکانات

سانحہ گل پلازہ…آگ اور غفلت

کراچی کے سانحہ گل پلازہ میں 55 سے زائد جان سے گئے ‘ لاپتہ افراد کی تعداد بھی86 سے زائد ہے ۔مگر عمارت سے کچھ ہی دور کھڑی سیاست افسردہ ہے۔ یہ جملہ عجیب سا لگے گا لیکن عوام کی صحت اور جان و مال کا تعلق سیاست سے کس طرح الگ کیا جاسکتا ہے؟