ذرا مسکرایئے

تحریر : روزنامہ دنیا


استاد (شاگرد سے) جاپانی پھل کسے کہتے ہیں؟ شاگرد: وہ پھل جو جاپان میں اگتے ہیں۔٭٭٭

ایک لڑکے نے امتحان کے کمرے سے نکلتے ہوئے اپنے ایک ساتھی سے کہا:یار! میں تو خالی پیپر دے آیا ہوں۔

 دوسرا ساتھی بولا:یار! میں بھی خالی پیپر ہی دے کر آ رہا ہوں۔

 اس پر پہلے لڑکے نے کہا ’’اوہ غضب ہو گیا، ماسٹر صاحب سمجھیں گے ہم دونوں نے نقل کی ہے‘‘۔

٭٭٭

ایک مریض گھبرایا ہوا ڈاکٹر کے پاس آیا اور بولا: ڈاکٹر صاحب! رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے ایک بہت بڑا تربوز کھایا ہے۔

ڈاکٹر نے اسے تسلی دیتے ہوئے پوچھا: تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟۔

مریض نے فوراً کہا: جناب! پریشانی کی بات یہ ہے کہ جب میں صبح سو کر اٹھا تو بستر پر میرا تکیہ غائب تھا۔

٭٭٭

ایک چھوٹی لڑکی نے جس کا باپ جج تھا‘ بڑے پیار سے پوچھا ’’ابا جان! آپ میری سالگرہ پر مجھے کیا تحفہ دیں گے؟‘‘ باپ جو کسی مقدے میں منہمک تھا‘ بولا ’’چودہ سال قید با مشقت۔‘‘

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔