اونٹ اور گھوڑا
پرانے زمانے کی بات ہے، اونٹ اور گھوڑا آپس میں دوست تھے۔ جب وہ کسی تقریب میں جاتے تو لوگ ہمیشہ اونٹ کی دم کی خوبصورتی پر تبصرہ کرتے ۔کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ گھوڑے کی دم خوبصورت ہے۔
یہ بات گھوڑے کو اداس کردیتی اور وہ اونٹ کی خوبصورت دم سے حسد کرنے لگا۔
ایک دن جب اونٹ پانی پینے کیلئے دریا پر گیا تو گھوڑا دوڑتا ہوا اس کے پاس آیا اور کہنے لگا:پیارے اونٹ! میرے دوست کی کل شادی ہے،میں اکیلے جانا نہیں چاہتا، اگر تم میرے ساتھ چلو تو بہت اچھا ہوگا ،کیوں کہ تم بہت خوبصورت ہو۔مجھے یقین ہے کہ میرے دوست تمھیں بہت پسند کریں گے۔
یہ سن کر اونٹ خوش ہوا، لیکن اس نے گھوڑے کو کہا کہ وہ تقریب میں شریک نہیں ہو سکتا۔
گھوڑے نے خوشی سے کہا، اچھا، چوں کہ تم نہیں جاسکتے میرے عزیز دوست، تو کیا میں شادی کیلئے تمھاری دم ادھار لے سکتا ہوں؟ میں اسے جیسے ہی تقریب ختم ہوگی، تمھیں واپس لوٹا دوں گا۔ اونٹ مان گیا اور گھوڑے کو اپنی دم ادھار دے دی۔
اونٹ اگلے دن دریا کے کنارے گھوڑے کے واپس آنے کا انتظار کرتا رہا، لیکن یہ انتظار بے کار ثابت ہوا کیوں کہ گھوڑا واپس نہیں آیا۔
اسی لیے آج بھی جب اونٹ پانی پیتا ہے تو ہر گھونٹ کے بعد اوپر دیکھتا ہے۔ وہ اپنی دم کو واپس لینے کیلئے گھوڑے کو تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اونٹ کی دم بدصورت ہے اور گھوڑے کی دم خوبصورت ہے۔