اونٹ اور گھوڑا

تحریر : ملک احسن اعوان(راولپنڈی )


پرانے زمانے کی بات ہے، اونٹ اور گھوڑا آپس میں دوست تھے۔ جب وہ کسی تقریب میں جاتے تو لوگ ہمیشہ اونٹ کی دم کی خوبصورتی پر تبصرہ کرتے ۔کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ گھوڑے کی دم خوبصورت ہے۔

 یہ بات گھوڑے کو اداس کردیتی اور وہ اونٹ کی خوبصورت دم سے حسد کرنے لگا۔

ایک دن جب اونٹ پانی پینے کیلئے دریا پر گیا تو گھوڑا دوڑتا ہوا اس کے پاس آیا اور کہنے لگا:پیارے اونٹ! میرے دوست کی کل شادی ہے،میں اکیلے جانا نہیں چاہتا، اگر تم میرے ساتھ چلو تو بہت اچھا ہوگا ،کیوں کہ تم بہت خوبصورت ہو۔مجھے یقین ہے کہ میرے دوست تمھیں بہت پسند کریں گے۔ 

یہ سن کر اونٹ خوش ہوا، لیکن اس نے گھوڑے کو کہا کہ وہ تقریب میں شریک نہیں ہو سکتا۔ 

گھوڑے نے خوشی سے کہا، اچھا، چوں کہ تم نہیں جاسکتے میرے عزیز دوست، تو کیا میں شادی کیلئے تمھاری دم ادھار لے سکتا ہوں؟ میں اسے جیسے ہی تقریب ختم ہوگی، تمھیں واپس لوٹا دوں گا۔ اونٹ مان گیا اور گھوڑے کو اپنی دم ادھار دے دی۔ 

اونٹ اگلے دن دریا کے کنارے گھوڑے کے واپس آنے کا انتظار کرتا رہا، لیکن یہ انتظار بے کار ثابت ہوا کیوں کہ گھوڑا واپس نہیں آیا۔

اسی لیے آج بھی جب اونٹ پانی پیتا ہے تو ہر گھونٹ کے بعد اوپر دیکھتا ہے۔ وہ اپنی دم کو واپس لینے کیلئے گھوڑے کو تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اونٹ کی دم بدصورت ہے اور گھوڑے کی دم خوبصورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

برأت یوسف ؑ:گزشتہ پارے میں تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے شہرت کے سبب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں طلب کیا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 13)

خوشحالی کے سال:تیرہویں پارے کا آغاز سورۂ یوسف سے ہوتا ہے۔ جنابِ یوسف علیہ السلام جب جیل سے آزاد ہو گئے تو بادشاہ نے ان کو اپنے قریبی مصاحبین میں شامل کر لیا۔ آپ علیہ السلام ابتدائی طور پر وزیر خزانہ اور بعد میں عزیزِ مصر کے منصب پر فائز ہو گئے۔