حقیقی خوشی!

تحریر : محمد صابرعطا، لیہ


مقدس اور ببلو 6بہن بھائی تھے۔دونوں سب سے چھوٹے ہونے کے باعث والدین کے ساتھ ساتھ بہن بھائیوں کے بھی لاڈلے تھے۔ سب کے سب ان کے ناز اٹھانے میں دیر نہیں لگاتے تھے۔

 نئے کپڑے، چمکتے جوتے، کھلونے اور مہنگی چاکلیٹ، سب کچھ انہیں آسانی سے مل جاتا تھا۔ اسی وجہ سے وہ اکثر بلا سوچے سمجھے خرچ بھی کر جاتے تھے۔

دسمبر کا مہینہ اور سردیوں کا موسم تھا۔ابھی موسم سرما کی چھٹیاں نہیں ہوئی تھیں۔مقدس سکول جانے کی تیاری کررہی تھی۔ اس کے کمرے کی گلی والی کھڑکی کے پردے ہٹے ہوئے تھے۔ اچانک اس کی نظر کھڑکی سے باہر گئی۔ اس نے دیکھا محلے کا ایک غریب بچہ اکبر بغیر جرسی کے، کھلے ہوئے جوتے پہن کر سکول جا رہا تھا۔ 

مقدس نے ببلوکو آواز دے کر بلایا اور کہا:وہ  دیکھو تمہارا کلاس فیلو اکبر سردی میں کس طرح ٹھٹھرتے ہوئے جا رہا ہے۔

ببلو نے افسوس کرتے ہوئے کہا: آپی! ہمارے پاس تو سردی سے بچنے کیلئے جوتے بھی ہیں اور گرم کوٹ بھی۔ ہمیں پھر بھی سردی محسوس ہوتی ہے مگر اکبر کیسے سردی برداشت کرکے سکول جا رہا ہے؟

مقدس اور ببلو نے اپنی اپنی تیاری کی اور سکول چلے گئے۔ اسی دِن سکول میں اسمبلی کے دوران دو بچوں نے علامہ اقبالؒ کی نظم ’’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘‘ پڑھی۔ جب یہ شعر آیا تو ببلو کے دل کی کیفیت بدلنا شروع ہوگئی۔ ادھر یہ شعر ’’ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا‘‘ پڑھا جا رہا تھا ادھر ببلو کے ذہن میں اکبر کی مدد کرنے کی ترغیب آ رہی تھی۔

گھرآکر دونوں بہن بھائیوں نے ایک منصوبہ بنایا۔ انہوں نے طے کیا کہ وہ اپنے کچھ نئے کپڑے،جوتے اور کھلونے اکبر کے ساتھ ایسے بچوں کو دیں گے جن کے پاس یہ نہیں ہیں۔

مقدس نے کہا:ہم اپنے جیب خرچ میں سے  پیسے بچا کر جمع کریں گے تاکہ کسی کی مدد کی جا سکے۔ انہوں نے روزانہ اپنے جیب خرچ سے کچھ پیسے جمع کرنا شروع کر دیے۔ چند دنوں میں ہی ایک بڑا سا ڈبہ پیسوں سے بھرگیا۔

ایک دن وہ اپنے ڈبے سے پیسے نکال کر گن رہے تھے کہ ان کے ابو آ گئے۔ ان کو جب ببلو نے بتایا کہ یہ سب پیسے ان دونوں نے اپنے جیب خرچ سے بچا کر جمع کیے ہیں تو انہیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ بے یقینی کی کیفیت سے سوچ رہے تھے کہ ان کے دونوں یہ بچے تو بہت شاہ خرچ تھے ان میں یہ تبدیلی کیسے آ گئی؟

انہیں جب اس منصوبے کا پتا چلا تو وہ بہت خوش ہوئے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں مزید  پیسے دیے۔

اتوار کے دن مقدس اور ببلو نے اکبر کو اپنے ساتھ لیا اور اپنے ابا کے ساتھ بازارجا کر اکبر کو گرم کپڑے ،جرسی اور بند جوتے لے کر دیے۔اکبر یہ سب کچھ لے کر بہت خوش ہوا۔اکبر کی مدد کرکے ببلو اور مقدس بھی بہت خوش ہوئے۔

ان کے ابا نے کہا :بیٹا اپنے دوست کی ایسے مدد کرو کہ کسی دوسرے کو معلوم نہ ہو۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ کا فرمان بھی یہی ہے کہ ایک ہاتھ سے مدد کرو دوسرے ہاتھ کو معلوم بھی نہ ہو۔اس کے بعد ببلو اور مقدس نے مزید پیسے اکٹھے کیے۔ اپنے ابا اور بھائیوں سے بھی پیسے لیے اور محلے کے غریب بچوں میں کپڑے، جوتے اور کچھ کھانے کی چیزیں خاموشی سے تقسیم کیں۔

 بچوں کی آنکھوں میں خوشی دیکھ کر دونوں بہن بھائیوں کے دل خوشی سے بھر گئے۔ ببلو نے مسکراتے ہوئے کہا: آپی! آج مجھے اصل خوشی ملی ہے۔ مقدس نے جواب دیا: ہاں ببلو ضرورت مندوں کا خیال رکھنا ہی اصل انسانیت ہے۔

اس دن مقدس اور ببلو نے عہد کیا کہ وہ ہمیشہ اپنے ارد گرد رہنے والے ضرورت مند لوگوں کا خیال رکھیں گے،کیونکہ انسانیت کی خدمت ہی سب سے بڑی نیکی ہے۔

پیارے بچو !ہمیں صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ اپنے اَڑوس پَڑوس میں رہنے والے ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ دوسروں کی مدد کرنے سے ہی دل کو حقیقی خوشی ملتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

بچوں کی تعلیم اور کامیابیوں میں والدین کا کردار

بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت اس معاشرے کی سمت کا تعین کرتی ہے۔ سکول، اساتذہ اور تعلیمی ادارے بچوں کو علم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

موسم بہار کے صحت پر اثرات

رہنمائی، احتیاط اور مفید مشورے

آج کا پکوان:چکن وائٹ کڑاہی

اجزا:چکن :آدھا کلو،پیاز :تین عدد، لہسن کا پیسٹ : آدھا چائے کا چمچ،ادرک :ایک انچ کا ٹکڑا باریک کٹا ہوا،ہری مرچ: باریک کتری ہوئی 3 عدد،پسی کالی مرچ؛

فیض احمد فیض روایت اور انفرادیت سے کہیں آ گے

انہیں بجا طور پر انہیں نئے شعری معیار کا امام سمجھا جا سکتا ہے:دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہےلمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

فیض کا منفرد اسلوب

کسی شاعر کے فنِ شاعری اور شعری محاسن کا اندازہ اس کے اسلوب سے لگایا جاسکتا ہے۔ نمائندہ اور عہد ساز شعرا کی شاعری میں ان کے عہد کا تہذیبی شعور جھلکتا ہے۔

ٹی 20ورلڈ کپ2026ء:پاکستان کا فاتحانہ آغاز

عالمی کپ کے پہلے میچ میں شاہینوں کے ہاتھوں نیدر لینڈز کو 3 وکٹوں سے شکست