جنت کا متلاشی (پہلی قسط )
پتھریلی زمین سورج کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔آسمان پرندوں کے وجود سے خالی تھا۔ چاروں طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ گرمی نے سب لوگوں کو اپنے گھروں میں دبک جانے پر مجبور کر دیا تھا لیکن حیرت کی بات تھی۔
ایک بچہ جس کی عمر چند سال ہی ہو گی، گرمی سے بے پروا، ایڑیوں کے بل کھڑا ایک کھڑکی سے اندر جھانک رہا تھا۔ اندر کا منظر اس کیلئے بہت وحشت ناک تھا۔ اس کے ذہن میں چنگاریاں سی اڑ رہی تھیں وہ سوچ رہا تھا، یہ ماجرا کیا ہے؟ یہ قیامت کیوں ڈھائی جا رہی ہے۔ اچانک اندر سے ایک درد ناک اذیت سے بھرپور چیخ ابھری ، وہ بچہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا۔
جس گھر کی کھڑکی سے وہ اندر جھانک رہا تھا، وہ کسی اور کا نہیں اس کا اپنا گھر تھا، اس کا نام عبداللہ تھا۔ گھر کے اندر اس کا باپ عمرو اپنے ایک غلام کو تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا۔ اچانک اندر سے اس کے باپ کی غضب آلود آواز ابھری،وہ کہہ رہا تھا: ’’تم میرے غلام ہو، تمہارا جسم میرا ہے، تمہاری ایک ایک سانس میری ملکیت ہے۔ تمہاری نیت تمہارے ارادے، سب میرے حکم کے تابع ہونے چاہئیں‘‘ ۔
’’ میرے آقا!میں اب بھی آپ کا غلام ہوں، دل و جان سے آپ کا غلام ہوں۔ آپ کی ہر خدمت بجالانے کیلئے تیار ہوں‘‘۔ ظلم کا ہر وار سہہ کر بھی وہ اطاعت کی انتہا کئے جا رہا تھا۔ غلام کی اگلی بات اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز تھی۔ وہ کہہ رہا تھا: ’’ لیکن میرے آقا، ایمان میرا ذاتی معاملہ ہے‘‘۔عبداللہ کے باپ عمرو نے اسے کوڑا مارتے ہوئے کہا: ’’ تمہاری یہی ہٹ دھرمی میرے غضب کی آگ کو بھڑکا رہی ہے۔ تم میرے غلام ہو، تمہارا دین بھی وہی ہونا چاہئے جو میرا ہے‘‘۔ ’’نہیں میرے آقا، دین جسموں کا نہیں، روحوں کا سودا ہوتا ہے۔ میرے جسم کا ایک ایک ذرہ، آپ کی غلامی کا طوق پہنے ہوئے ہے لیکن میری روح دین ابراہیمی پر ایمان لا چکی ہے‘‘۔
’’غلام! تم برباد ہو جائو گے‘‘۔ عمرو طیش سے پکارا۔ ’’ نہیں میرے آقا! میری آخرت سنور جائے گی‘‘۔ غلام نے ایمان کے جذبوں سے سرشار ہو کر کہا۔ ’’جس کی دنیا برباد ہو جائے، اس کی آخرت کہاں باقی رہتی ہے‘‘ عمرو نے اسے طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا۔ ’’ آقا! یہی تو فرق ہے میرے اور آپ کے دین میں‘‘ غلام نے زخمی چہرے پر مسکراہٹ سجا کر کہا۔’’ تم بھیانک موت مرو گے‘‘ عمرو نے اسے دھمکایا۔
’’ میرے آقا، جب آپ کا ہر تشدد مجھے ایمان چھوڑنے پر مجبور نہیں کر سکا، تو موت جیسا آسان راستہ مجھے صراط مستقیم سے کیسے ہٹا سکتا ہے‘‘۔ غلام نے اپنے زخموں سے چور بدن کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ وہ کمسن بچہ عبداللہ حیران رہ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیسا جذبہ ہے، یہ کونسا دین ہے، جس نے اس غلام کی روح کو سرشار کر رکھا ہے۔
ذہن چھوٹا تھا، معاملہ بڑا تھا، اس کی سوچیں پریشان ہو کر رہ گئیں۔ کانوں میں غلام کی چیخیں گونج رہی تھیں۔ اس کا باپ عمرو شاید اب غلام پر تشدد کے نئے حربے آزما رہا تھا۔ عبداللہ نے ایک بار پھر اس کھڑکی سے اندر جھانکا تو اس کا جسم لرز کر رہ گیا۔ غلام کا شکستہ جسم دیکھ کر اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ وہ غمزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گیا۔ وہ دھوپ سے تپتی زمین پر ننگے پائوں چل رہا تھا، انگارہ بنی زمین، اس کے پائوں میں آبلے ڈال رہی تھی، لیکن اس کا ذہن تو اس غلام کی باتوں میں کھویا ہوا تھا۔ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے، کسی چیز سے اتنی زیادہ محبت بھی ہو سکتی ہے کہ اس کیلئے ہر خوشی، ہر راحت اور ہر آسائش ترک کر دی جائے۔
ایک دفعہ تو حد ہو گئی۔ اس کے دادا عاص نے اپنے ایک غلام کو زنجیروں میں جکڑ کر تپتی زمین پر ڈال دیا، اس کی پشت آ بلوں سے بھر گئی۔ وہ اس سے بھی اپنی بات منوانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اس کا جواب بھی وہی تھا: ’’ محمدﷺ کا دین نہیں چھوڑوں گا‘‘۔تب عبداللہ کے ذہن کے بند دروازے کھلتے چلے گئے۔ ’’ یہ لوگ سچائی پر ہیں‘‘ اس نتیجے پر پہنچتے ہی اس کے معصوم دل میں تڑپ پیدا ہو گئی۔ وہ جاننا چاہتاتھا کہ یہ دین کیا ہے، اس پر کیسے چلا جا سکتا ہے؟ وہ بھی اپنے باپ دادا کے غلاموں کی طرح حق پر ایمان لانے کا اعلان کرنا چاہتا تھا لیکن وہ ابھی بچہ تھا، اس کے پاس نہ قوت تھی اور نہ طاقت کہ سب کے سامنے ڈٹ کر اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتا۔
وقت کا پہیہ گردش کرتا ہوا بالآخر اپنے دامن میں امید کی ایک کرن لے کر آیا۔ اس کے چچا ہشام نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ چچا کے اس اقدام نے اس کے دل میں خوشی کی لہر دوڑا دی۔ عبداللہ کیلئے اس سے بڑی خوشی کوئی نہیں ہو سکتی تھی۔ عبداللہ دس سال کا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا جذبہ دل میں لئے مکہ سے مدینہ کی طرف بھاگ نکلا۔ راستے کی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرتے، بالآخر مدینہ جا پہنچا۔ بار گاہ نبوی میں حاضری دی، پھر ہمیشہ کیلئے وہیں کا ہو کر رہ گیا۔(جاری ہے)