مظفر وارثی :سلطنت شعر و سخن کے منفردبادشاہ

تحریر : پروفیسر صابر علی


کل 15 ویں برسی:وہ بنیادی طورپرغزل کے شاعر تھے تاہم غزل کہتے کہتے کائنات ِنعت میں داخل ہوئے

مختصر سوانح

مظفر وارثی20دسمبر 1933ء کو میرٹھ(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ اصل نام محمد مظفر الدین احمد صدیقی تھا۔ والد صوفی شرف الدین احمد صدیقی چشتی قادری سہروردی بھی ایک بلند پایہ عالم دین اور شاعر تھے اورصوفی وارثی کہلاتے تھے۔ مظفر وارثی نے چھٹی جماعت تک تعلیم میرٹھ سے حاصل کی۔قیام پاکستان کے بعد ان کا کنبہ پاکستان آ گیا اور لاہور میں بودو باش اختیار کی۔ مظفر وارثی نے ساتویں سے نویں تک اردو بازار لاہور کے مسلم ماڈل ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے تعلیم تو پرائیویٹ حاصل کی ساتھ ساتھ مزدوری بھی شروع کر دی ۔ اس طرح ادیب فاضل اور انٹر کا امتحان پاس کیا۔ روزگارکیلئے بینک دولت پاکستان میں ملازم ہوگئے اور یہیں سے ریٹائر ہوئے۔مظفر وارثی نے 60ء کی دہائی میں لکھنا شروع کیا تھا اور پھر ایسا لکھا کہ سلطنتِ شعر و سخن میں ظفر مند ٹھہرے۔ 20سے زائد کتب شائع شدہ ہوئیں ۔مظفر وارثی نے 28 جنوری 2011ء کو وفات پائی۔

 حسان العصرکا لقب پانے والے مظفروارثی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔اقلیم شعروسخن میں مظفروارثی کوہرصنف ِسخن پرملکہ حاصل تھا لیکن انہیں عالمگیرشہرت نعت گوئی سے حاصل ہوئی۔ بنیادی طورپرغزل کے شاعر تھے، بھرپور غزل کہتے کہتے کائنات ِنعت میں داخل ہوئے تواس عظیم صنف ِسخن کووسیع ترشعری وحدت میں پرودیا۔نعت گوئی ایک ایسا نازک فن ہے جس پر ہر کوئی طبع آزمائی نہیں کر سکتا۔ اس کیلئے عشق رسولﷺِشرطِ اول ہے ، یہی لفظوں اور جذبوں کے عکس میں ظاہر ہو کر سامنے آتا ہے۔  دل میں عشق کے بغیر زبان کا اظہار اور لفظوں کی معنویت بے سود اور بے معنی ہے۔ مظفر وارثی کا شمار ان خوش بختوں میں ہوتا ہے جن کو یہ  سعادت نصیب ہوئی۔ ڈاکٹر انور سدیدکے مطابق، مظفر وارثی جب حمدونعت نگاری کی طرف آئے تو انہوں نے فلمی گیت نگاری کو یکسر ترک کردیا اور سچ تو یہ ہے کہ اُن کی نعت نگاری نے ان کی غزل کو پس منظر میں دھکیل دیا۔ ان کی نعت کو قبولِ عام عقیدت کی فراوانی اور جذبے کی نئی بنت کاری نے دیا لیکن ان کی مقبولیت میں ان کا ترنم بھی شامل تھا جس کی لَے ان کی اپنی اختراع تھی اور لحن ایسا کہ جس کی تقلید نہیں کی جاسکتی تھی۔ وہ نعت کو اپنی عقیدت کے والہانہ اظہار کا وسیلہ سمجھتے تھے اور اس کے ابلاغ عامہ کے لیے ہمیشہ آسان الفاظ کا انتخاب کرتے۔ غزل کو جدید پیکر عطا کرنے والے مظفر وارثی نے اردو نعت کو بھی نئی تاب و توانائی، خیال کی رفعت اور جذبے کی ندرت عطا کی ہے۔

’’باب حرم ‘‘مظفر وارثی کے حمدیہ ،نعتیہ، مناجات، منقبت اورقطعات پر مبنی کلام کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے نے جہاں جہاں سفر کیامظفر وارثی کی پہچان بنتا گیا۔ مظفر وارثی کے اس کلام میں دورِ جدید کی ساری زندگی کی کیفیات سموئی ہوئی ہے۔ مظفر وارثی کی نعتیہ شاعری کی بے شمار خصوصیات ہیں۔ان کا ایک ایک شعر موتیوں سے جڑا محسوس ہوتا ہے۔ ’’باب حرم ‘‘میں سرور کونین ﷺ کی تعریف میں نعتیہ کلام پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مرا پیمبر عظیم تر ہے

کمالِ خلاق ذات اس کی

جمالِ ہستی حیات اس کی

بشر نہیں عظمتِ بشر ہے

مرا پیمبر عظیم تر ہے

مظفر وارثی کی نعتیں ’’ یا رحمت للعالمین‘‘ اور’’تو کجا من کجا‘‘کو بھی بے پناہ قبولیت ملی ۔

 مظفر وارثی کے نعتیہ اور حمدیہ کلام کا جائزہ لیں  تو اس میں مراقباتی انداز، دعائیہ رنگ اور تشبیہات کا استعمال بہت عمدہ ہے۔ اس حوالے سے ان کی نعتیہ شاعری ہر جگہ ان کے مزاج کی عاجزی اور انکساری کا رویہ بے پناہ نظر آتا ہے۔تخلیقی اعتبار سے مظفر وارثی نے بہت کام کیا ہے اور بہت سے ایسے موضوعات پر کام کیا جن پر کلام ہر شاعر کے بس کی بات نہیں ۔ ان کی خواہش رہی ہے کہ انسانوں کے رویوں کو بدلیں اور احساس و شعور پیدا کریں ۔آپس کی نفرتوں اور کدورتوں کو ختم کرکے امن کا پرچار کریں۔ اپنی کتاب ’حصار‘ میں امن کا پیغام دیا ہے اور مسلم اُمہ کے اتحاد کیلئے باب حرم میں’’اسلامی کانفرنس ‘‘کے عنوان سے کلام پیش کیااور مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی ضرورت کو واضح کیا ۔مظفر وارثی نے نعت گوئی میں بعض نئے اسالیب کا اضافہ کیا اور جدید زندگی کی کیفیات سے اپنے اسالیب میں نئی جہت پیدا کی ۔مظفر وارثی کی شاعری میں فارسی الفاظ کی آمیزش اکثر مقامات پر نظر آتی ہے۔ بعض نظموں کا عنوان فارسی میں ہے۔ ان کی اس خوبی کی بنا پر بھی ان کی شاعری کو اہم اور قابل ذکر سمجھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے موضوع کی تبدیلی سے شاعری کے اسلوب میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ان کی تمام غزلوں اور نظموں میں تازہ خیالی اور تازہ کاری کی جو کیفیت ملتی ہے وہ نعتوں میں بدرجہ اتم نظر آتی ہے۔

نعتیہ کلام

مرے خدا تری جانب خوشی سے آیا ہوں

کہ میں مدینۂ عشقِ نبی سے آیا ہوں

وجود جس کا ترے نور سے عبارت ہے

میں سایا ہوں مگر اُس روشنی سے آیا ہوں

اٹھو، ادب سے فرشتو، مجھے سلام کرو

محمدؐ عربی کی گلی سے آیا ہوں

سنا ہے حشر میں دیدارِ مصطفیؐ ہوگا

اسی لئے تو بڑی عاجزی سے آیا ہوں

گناہ گھات میں رہتے ہیں آدمی کی جہاں

میں اس شکار گہ زندگی سے آیا ہوں

مجھے نہ اور پشیماں، مرے خدا کرنا

پہلے ہی بڑی شرمندگی سے آیا ہوں

…………

قرآں کے لفظ لفظ کی سچی دلیل ہیں

میرے حضور میرے خدا کی دلیل ہیں

پیغمبروں کی بھیڑ میں تنہا دکھائی دیں

تاریکیوں میں شمع جلاتی دلیل ہیں

تہذیب کوئی کر نہ سکے مسترد جسے

انسان کے عروج کی ایسی دلیل ہیں

گزرے نہ کیوں انہی کے حوالے سے زندگی

وہ مستقل جواز ہیں حتمی دلیل ہیں

اوراقِ کائنات پہ لکھا ہے اُن کا نام

ہر اک طلوع ہوتی سحر کی دلیل ہیں

نبیوں میں ان کی ذات مظفرؔ ہے آخری

لیکن وجودِ حق کی وہ پہلی دلیل ہیں

…………

آپ محبوب خدا یا مصطفی

ہو گیا دل آپ کا یا مصطفی

وہ حقیقت میں کہا اللہ نے

آپ نے جو کچھ کہا یا مصطفی

آپ پر اور آپ کے فرمان پر

جان و دل سے ہم فدا یا مصطفی

آپ کے نقش قدم پر ہم چلیں

آپ سب کے رہنما یا مصطفی

والیان ملک سلطاں تاجور

آپ کے در کے گدا یا مصطفی

امتوں میں افضل امت آپ کی

آپ شاہ انبیا یا مصطفی

دین حق کی آپ نے تعلیم دی

آپ حق ہیں حق نما یا مصطفی

آپ ہی نے تو کیا انسان کو

خود نگر خود آشنا یا مصطفی

آپ پر ہیں ختم ساری عظمتیں

تھا نہ ہوگا آپ سا یا مصطفی

ہر گھڑی میں آپ پر بھیجوں درود

دل کہے صل علیٰ یا مصطفی

غزلیں

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

اس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے

سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرح

اب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے

جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑا

سولیوں سے یہاں پیمائشِ قد ہوتی ہے

شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباس

بولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجازِ سخن

ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

………

ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لینے سے خطرہ نہیں جاتا

دیوار سے بھونچال کو روکا نہیں جاتا

دعووں کی ترازو میں تو عظمت نہیں تلتی

فیتے سے تو کردار کو ناپا نہیں جاتا

فرمان سے پیڑوں پہ کبھی پھل نہیں لگتے

تلوار سے موسم کوئی بدلا نہیں جاتا

چور اپنے گھروں میں تو نہیں نقب لگاتے

اپنی ہی کمائی کو تو لوٹا نہیں جاتا

فولاد سے فولاد تو کٹ سکتا ہے لیکن

قانون سے قانون کو بدلا نہیں جاتا

دریا کے کنارے تو پہنچ جاتے ہیں پیاسے

پیاسوں کے گھروں تک کوئی دریا نہیں جاتا

اللہ جسے چاہے اسے ملتی ہے مظفرؔ

عزت کو دکانوں سے خریدا نہیں جاتا

………

کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا

زخم دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا

تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر

ڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا

جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے

بو اڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا

کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوں

میں تری کھوج میں تجھ سے بھی پرے جا نکلا

مجھ سے چھپتا ہی رہا تو مجھے آنکھیں دے کر

میں ہی پردہ تھا اُٹھا میں تو تماشا نکلا

توڑ کر دیکھ لیا آئینہ دل تو نے

تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا

نظر آیا تھا سر بام مظفرؔ کوئی

پہنچا دیوار کے نزدیک تو سایا نکلا

………

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا

لباس غیر نہ ہوگا بدن پہ جب اپنے

تو کوئی سانپ نہ پھر آستیں سے نکلے گا

جو آسمانوں میں بانٹے گا روشنی اپنی

وہ آفتاب اسی سرزمیں سے نکلے گا

وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا

مقابلہ تو مظفرؔ کروں اندھیروں سے

چراغ بن کے پسینہ جبیں سے نکلے گا

تصانیف واعزازات

حمد و ثنا: الحمد،  لاشریک

نعت:بابِ حرم ، نورِازل ، کعبہ عشق،  صاحب التاج،میرے اچھے رسولﷺ،اُمی لقبی،

نظم ، گیت، قطعات:حصار، لہوکی ہریالی،ستاروں کی آبجو،

غزلکھلے دریچے بند ہوا، گہرے پانی،برف کی ناؤ، لہجہ،

سوانح عمری:گئے دنوں کا سراغ

 اعزازات:1981ء میں ریڈیو پاکستان سے بہترین نعت خواں کا ایوارڈ،1988ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی۔ 

خوبصورت نعت

ایک بے نام کو اعزازِ نسب مل جائے

کاش مداحِ پیمبرؐ کا لقب مل جائے

میری پہچان کسی اور حوالے سے نہ ہو

اقتدارِ درِ سلطانِ عرب مل جائے

آدمی کو وہاں کیا کچھ نہیں ملتا ہو گا

سنگریزوں کو جہاں جنبشِ لب مل جائے

کس زباں سے میں تِری ایک جھلک بھی مانگوں

طلبِ حسن تو ہے،حسن ِطلب مل جائے

اب تو گھر میں بھی مسافر کی طرح رہتا ہوں

کیا خبر اذنِ حضوری مجھے کب مل جائے

خیمۂ دل ترے جلووں سے منور کر لوں

دیدۂ شوق کو بیدارء شب مل جائے

تُو اگر چھاپ غلامی کی لگا دے مجھ پر

مجھ گنہ گار کو پروانۂ رب مل جائے

دے نہ قسطوں میں مظفر کو محبت اپنی

جس قدر اس کے مقدر میں ہے سب مل جائے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وادی تیراہ سے نقل مکانی

حقائق، سیاست اور دہشت گردی کی معیشت

لاہور میں بسنت کا تہوار

سیاسی ڈائیلاگ کیوں حقیقت نہ بن پایا؟ انتظامی اقدامات، انسانی جانیں محفوظ رہیں گی؟

کراچی، مسائل اور سیاست

’’ہمارے لیے تالیاں نہ بجائیں بلکہ ہمیں گالیاں دی جائیں تب ہی ہم سدھریں گے‘‘ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے یہ جملہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ایک شہری کی بیٹی کو پلاٹ دینے کے موقع پر بولا۔

تیراہ سے نقل مکانی کا ذمہ دار کون؟

تیراہ سے شدید سرد موسم میں نقل مکانی جاری ہے۔ برف باری سے متعدد مقامات پر راستے بند ہیں۔ اس موسم میں نقل مکانی کرنے والوں پر کیاگزری یہ الگ کہانی ہے لیکن اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت میں سے کوئی بھی اس انخلا کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔

مؤثر کارروائیاں، بھر پورنتائج

بلوچستان میں حالیہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم اور یکسو ہیں۔

کون بنے گا چیف الیکشن کمشنر ؟

آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن کمشنر کیلئے تین ناموں پر مشتمل پینل وزیر اعظم پاکستان و چیئر مین کشمیر کونسل محمد شہباز شریف کو بھیج دیاہے۔