کراچی، مسائل اور سیاست

تحریر : طلحہ ہاشمی


’’ہمارے لیے تالیاں نہ بجائیں بلکہ ہمیں گالیاں دی جائیں تب ہی ہم سدھریں گے‘‘ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے یہ جملہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ایک شہری کی بیٹی کو پلاٹ دینے کے موقع پر بولا۔

 گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ اگر سب بڑے مل کر بیٹھ جائیں تو سانحے کے ذمہ دار کو آٹھ گھنٹے میں سامنے لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ لواحقین کو لاشوں اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے مختلف شعبوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے میئر کو بھی شاملِ تفتیش کرنے کا مطالبہ کرڈالا۔ گورنر سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی کا اقتدار ایم کیو ایم کو دے کر دیکھا جائے پھر دیکھیں شہر کو کیسے چمکا دیتے ہیں۔ فاروق ستار کا یہ کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کو اس کا گھمنڈ لے ڈوبے گا۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کیا اور کہا کہ بلاول بھٹو کو سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن بنوانا چاہیے۔فاروق ستار ہوں یا مصطفی کمال سبھی نے پیپلز پارٹی کو تیروں پر رکھ لیا ہے۔ فاروق ستار نے کئی سوالات کیے کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب حادثے کے 20گھنٹے بعد جائے وقوع پر پہنچے۔ کیا انہیں اس شہر اور اس کے عوام کی کوئی پروا نہیں ؟ فاروق ستار کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ لوگوں کو گمراہ کرنے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سانحہ کو نہ تو سازش کہا اور نہ ہی کوئی قیاس آرائی کی، میئر کہتے ہیں کہ وہ اسلام آباد میں تھے تو کیا وہاں سے کانفرنس کال پر سب کو نہیں لے سکتے تھے؟ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ ہم نے تو سوالات پوچھے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم سیاست کر رہے ہیں۔

گورنر صاحب یا فاروق ستار کے جملوں کو سیاسی بیان بازی کہیں، تنقید یا کچھ بھی کہیں اہم بات یہ ہے کہ بات میں دم ہے لیکن ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کو اقتدار کیوں دیا جائے؟ کیا اس سے پہلے ایم کیو ایم اقتدار میں نہیں رہی؟ گورنر جس پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ایم کیو ایم تو اسی کے ساتھ شریک اقتدار رہی۔ پھر جب میئر شپ ایم کیو ایم کے پاس تھی اور ایم کیو ایم برسوں تک وفاق کا حصہ رہی تو اداروں کو مضبوط کیوں نہ بنایا گیا؟ شہر کا نظام درست کرنے میں کیا امر مانع تھا؟ تجاوزات کا خاتمہ ممکن کیوں نہ ہوسکا؟ پیپلز پارٹی یا دوسری کوئی جماعت ایم کیو ایم پر تجاوزات یا چائنا کٹنگ کا الزام لگاتی ہے تو کہیں نہ کہیں کچھ تو ہوگا۔

سینئر وزیر شرجیل میمن حکومت کے دفاع میں سامنے آئے اور کہا کہ گل پلازہ کی لیز اور قانون شکنی میں فاروق ستار کا بھی کردار ہے۔ وہ بطور میئر ذمہ دار ہیں، اسی طرح جماعت اسلامی کے ناظمین کا بھی اس میں کردار ہے۔ انہی وجوہات نے سانحہ گل پلازہ کو جنم دیا۔ ریکارڈ اور دستاویزات چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات اور بے ضابطہ ریگولرائزیشن کی بنیاد اسی دور میں رکھی گئی۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اگر ان کے استعفیٰ دینے سے آگ بجھ جاتی تو وہ استعفیٰ دینے کو تیار ہیں، اگر لاہور میں کوئی سانحہ ہو تو اسے قدرتی آفت کہا جاتا ہے اور اگر کراچی میں ہو تو کہا جاتا ہے مرتضیٰ وہاب کو پکڑ لو۔ انصاف کا ترازو برابر رکھنا چاہیے۔

 ایک اور مطالبہ بہت تیزی سے سر اٹھا رہا ہے اور وہ ہے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے اس مطالبے پر پیپلز پارٹی برہم ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے طنزیہ کہا کہ کراچی میں سردی زیادہ ہوگئی، 18ویں ترمیم ختم کرو کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ سانحے پر مسلسل سیاست کی گئی۔ پہلے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات کی گئی پھر 18ویں ترمیم اور سانحے کو جوڑا گیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت 18ویں ترمیم کے ذریعے گند صاف کر رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے واضح کیا کہ18ویں ترمیم اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں ون یونٹ والی کہانی اور آگ سے کھیلنے والی باتیں ہیں۔ شہر کوئی چیز نہیں ہے کہ اٹھا کر دے دیا جائے۔ اور اگر اس معاملے پر اتحاد ٹوٹ جائے اور حکومت کو گھر جانا پڑے تو پھر کیا ہوگا۔شہلا رضا تو کچھ زیادہ ہی برہم نظر آئیں۔ صاف صاف کہ دیا کہ اس معاملے پر سول وار تو ہو سکتی ہے لیکن شہر کو وفاق کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ سندھ سے کراچی کو الگ کرنے کی بات خواب ہیں اور خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) پر بھی سانحے پر پیپلز پارٹی کے خلاف مہم چلانے کا الزام لگا دیا۔

دوسری جانب جیکب آباد کی ایک خبر نے مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے کہ انسان کہاں جائے، کس سے فریاد کرے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ 17سالہ لڑکی کو دو ایس ایچ اوز سمیت آٹھ افراد نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ لڑکی نے عدالت میں بیان بھی ریکارڈ کرا دیا ہے۔ کیا ہم یہ توقع رکھیں کہ لڑکی کو انصاف دلانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی اور اسے جلد انصاف ملے گا؟ یا پھر رانی پور کی 10سالہ فاطمہ کے ریپ اور قتل کیس کی طرح یہ کیس بھی اپنی موت آپ مرجائے گا؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔