لاہور میں بسنت کا تہوار

تحریر : سلمان غنی


سیاسی ڈائیلاگ کیوں حقیقت نہ بن پایا؟ انتظامی اقدامات، انسانی جانیں محفوظ رہیں گی؟

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈائیلاگ کی کوششیں کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش کے بعد یہ امید بندھی تھی کہ اہل سیاست مل بیٹھ کر ایشوز پر مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھائیں گے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے منصب پر محمود خان اچکزئی جیسے سینئر سیاستدان کی تقرری کے بعد ایک بار پھر یہ امید تھی کہ شاید مذاکراتی عمل بحال ہو اور معاملات کے سیاسی حل کی جانب پیش رفت ہو، لیکن ابھی تک ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن لیڈر کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنے خطاب میں ڈھکے چھپے انداز میں انہی خیالات کا اظہار کیا جو اُن کی پہچان رہے ہیں اور اب تو اُن کی تقرری کے بعد قومی اسمبلی کی براہ راست کارروائی میں بھی ’’بیپ‘‘ کا استعمال شروع ہو گیا ہے اوربراہ راست کوریج میں کچھ سکینڈ کا وقفہ رکھا گیا ہے تا کہ کوئی قابلِ اعتراض بات نشر نہ ہوجائے۔اگرچہ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سمجھتے ہیں کہ جمہوری سسٹم کے مستقبل کیلئے ڈائیلاگ کے آپشن کو بروئے کار لایا جانا چاہئے اور اس حوالے سے ان کے اپوزیشن اور حکومتی اتحاد کے سینئر رہنمائوں سے روابط بھی رہتے ہیں اور مذاکرات کی ضرورت و اہمیت کا احساس بھی دلایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی تک جن ڈائیلاگ کی بات ہوئی ہے ان کے ایجنڈا کا کہیں اظہار نہیں ہوا۔پی ٹی آئی کے اراکین پارلیمنٹ تو یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ مذاکرات بانی پی ٹی آئی کی مرضی سے مشروط ہیں۔ سپیکر ایاز صادق ابھی تک خوش گمان ہیں کہ ڈائیلاگ سے ہی حل نکل سکتا ہے، اگر پی ٹی آئی کی قیادت اس حوالے سے سنجیدگی اختیار کرے، اور اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈائیلاگ کا مطلب بانی پی ٹی آئی کیلئے ریلیف ہے تو پھر یہ معاملہ حکومت کے ہاتھ میں نہیں مطلب یہ کہ یہ عمل محض وقت گزاری ہے، مگر سیاسی لوگ پھر بھی ڈائیلاگ کی ضرورت و اہمیت کا احساس دلاتے نظر آئیں گے۔

 اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے 8فروری کی ہڑتال کیلئے جو کال دے رکھی ہے فی الحال پنجاب کی سطح پر اس حوالے سے تیاریاں نظر نہیں آ رہیں۔ انہوں نے عوام اور مختلف طبقات کو8فروری کے حوالے سے جو اپیل کر رکھی ہے اس کے اثرات بھی دکھائی نہیں دے رہے، لیکن 8فروری کے احتجاج کی کال پی ٹی آئی سے زیادہ اپوزیشن کی نئی لیڈر شپ کیلئے چیلنج ہے کیونکہ یہ کال پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے ہے اور اس اپیل پر خیبر پختونخوا کی حد تک تو کچھ ہوتا نظر آتا ہے البتہ پنجاب میں پی ٹی آئی 8فروری کو کچھ بڑا کر سکے گی اس کا امکانات کم ہی ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اتوار کی چھٹی کے روز اس کال پر علامتی مظاہرے ضرور ہوں گے اور پی ٹی آئی یہ کہہ سکے گی کہ اس کی اپیل پر لوگوں نے کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں بند رکھیں۔ لیکن بڑا سوال تو خود اپوزیشن کے آگے کھڑا ہوگا کہ 8فروری کی ہڑتال کے اصل مقاصد پورے ہو پائیں گے؟ حکومت دبائو میں آئے گی؟

ادھرصوبائی دارالحکومت لاہور میں بسنت کی تیاریاں زوروں پر نظر آ رہی ہیں اس حوالے سے صوبائی حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے اور بسنت کو ہر طرح کے خطرات اور خدشات سے محفوظ رکھنے کیلئے پنجاب ریگولیشن آف کائیٹ فلائنگ ایکٹ 2025 جاری ہواہے جس کے تحت صرف چار گٹھی پتنگ اور ڈیڑھ تاوا گڈا اڑانے کی اجازت ہوگی۔ پتنگ سازی میں کاٹن کے دھاگے کی ڈور کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے جبکہ پتنگ سازی کیلئے خطرناک ڈور دھاتی تار، نائیلون، کیمیکل اور شیشہ لگے مانجھے کے استعمال اور خریدو فروخت پر پابندی ہے۔ خلاف ورزی پر تین سے پانچ سال تک قید اور 20لاکھ روپے تک جرمانے کی سزائیں تجویز کی گئیں ہیں۔ اس حوالے سے حقائق کا جائزہ لیا جائے تو ماضی میں بسنت پر پابندی کی وجہ ڈور پھرنے سے ہلاکتیں اور حادثات تھے لیکن اب وزیراعلیٰ مریم نواز بسنت کے تہوار کو روایتی انداز میں منانے کے لیے پرُعزم ہیں اور انتظامی مشینری اس حوالے سے ضروری اقدامات کرتی بھی نظر آ رہی ہیں۔ پتنگوں پر مقدس کتب، مقامات، شخصیات اور سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کی تصاویر لگانے پر پابندی عائد کی گئی ہے، صرف سادہ، یک رنگی پتنگوں کے بنانے اور اڑانے کی اجازت دی گئی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کو ڈور پھرنے سے بچانے کیلئے 10لاکھ انٹینا راڈ تقسیم کئے گئے ہیں۔ ایک طرف جہاں اہم ہوٹلوں اور عمارات کی بکنگ لاکھوں روپے کے عوض ہو رہی ہے تو دوسری جانب والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے شہر کی پرانی عمارتوں بشمول اکبری منڈی، دہلی گیٹ، بھاٹی گیٹ، کشمیری گیٹ اور موچی گیٹ میں 346عمارتوں کی چھتیں خطرناک قرار دیتے ہوئے ان پر بسنت منانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ایک طرف بسنت کے ضمن میں خطرات و خدشات کے خاتمہ کے لیے انتظامی مشینری سرگرم دکھائی دے رہی ہے تو دوسری طرف حکومت اور متعلقہ محکمے بسنت کی کامیابی کیلئے سرگرم ہیں۔مذکورہ تین ایام میں مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور ان ایام میں خصوصی انتظامات کھانوں کی دعوتوں کے اہتمام بھی ہو رہے ہیں۔ مطلب یہ کہ بسنت کے تہوار کی رعنائیاں بحال کرنا ہیں، لیکن یہ ایک بڑے رسک کے ساتھ ہو رہا ہے۔ خدانخواستہ کسی جگہ بھی بسنت کے موقع پر کسی جان کا ضیاع ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ قواعد و ضوابط اور قانون کی پابندی کے ساتھ سب کی جان اور مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ عدالت عالیہ میں بھی گیا ہے اور انتظامی ذمہ داران اس حوالے سے حکومتی بندوبست اور اقدامات سے آگاہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ حکومت کا عزم کلچرل اور عوام دوست تاثر قائم کرنا ہے مگر اپوزیشن بسنت کے اس عمل کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتی ہے کہ ایک جانب ملک میں مہنگائی ہے،بے روزگاری اور مایوسی ہے اور دوسری طرف حکومت بسنت جیسی عیاشوں میں سرگرم ہے اور پتنگیں اڑا رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

وادی تیراہ سے نقل مکانی

حقائق، سیاست اور دہشت گردی کی معیشت

کراچی، مسائل اور سیاست

’’ہمارے لیے تالیاں نہ بجائیں بلکہ ہمیں گالیاں دی جائیں تب ہی ہم سدھریں گے‘‘ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے یہ جملہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق ہونے والے ایک شہری کی بیٹی کو پلاٹ دینے کے موقع پر بولا۔

تیراہ سے نقل مکانی کا ذمہ دار کون؟

تیراہ سے شدید سرد موسم میں نقل مکانی جاری ہے۔ برف باری سے متعدد مقامات پر راستے بند ہیں۔ اس موسم میں نقل مکانی کرنے والوں پر کیاگزری یہ الگ کہانی ہے لیکن اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت میں سے کوئی بھی اس انخلا کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔

مؤثر کارروائیاں، بھر پورنتائج

بلوچستان میں حالیہ دنوں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت اور سکیورٹی فورسز امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم اور یکسو ہیں۔

کون بنے گا چیف الیکشن کمشنر ؟

آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر کے ساتھ مشاورت کے بعد الیکشن کمشنر کیلئے تین ناموں پر مشتمل پینل وزیر اعظم پاکستان و چیئر مین کشمیر کونسل محمد شہباز شریف کو بھیج دیاہے۔

تعلیم اور آگاہی‘ اعتماد کی بنیاد

ہمارا معاشرہ تیزی سے تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے اور ان حالات میں خواتین کو کئی سماجی، معاشی اور نفسیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز میں سب سے نمایاں مسئلہ اعتماد کی کمی ہے جو اکثر تعلیم اور خود آگاہی کے فقدان سے جنم لیتی ہے۔