وادی تیراہ سے نقل مکانی
حقائق، سیاست اور دہشت گردی کی معیشت
خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ ایک مرتبہ پھر قومی سیاسی منظر نامے پرآنے لگی ہے۔ حالیہ دنوں میں وہاں سے مقامی آبادی کی نقل مکانی کی خبروں نے ملک کے سیاسی اور سکیورٹی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اس صورتحال کا ذمہ دار مبینہ سکیورٹی آپریشن کو قرار دے رہی ہے تو دوسری جانب وفاقی حکومت نے ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے’’ سیاسی پوائنٹ سکورنگ‘‘ اور’’ دہشت گردی کی معیشت ‘‘کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت نے بیانیہ بنانا شروع کیا ہے کہ تیراہ میں فوجی آپریشن شروع ہو چکا ہے اور ہزاروں خاندان وفاقی حکومت اور فوج کے کہنے پر نقل مکانی کر رہے ہیں مگر صورتحال اس کے برعکس نظرآتی ہے۔ تیراہ کی جغرافیائی صورتحال کا اندازہ لگایا جائے تو یہ پاک افغان بارڈر کے قریب ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کا گڑھ بن گیا جہاں ٹی ٹی پی نے آبادی والے علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا لئے۔
اس علاقے میں دہشت گردی کے متعدد ہائی پروفائل واقعات رونما ہوئے۔ وفاقی حکومت اور سکیورٹی حکام کی جانب سے بارہا بتایا گیا کہ تیراہ میں منشیات کی پیداوار دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ دہشت گردی، سیاست اور جرائم کا بڑا گٹھ جوڑ وجود میں آچکا ہے جس کے روابط افغان طالبان اور منشیات کے نیٹ ورکس سے ملتے ہیں۔ اس گٹھ جوڑ کو سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گرد مقامی افراد کی بجائے سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں تاکہ مقامی سطح پر انہیں سپورٹ مل سکے۔ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی پیداوار کے خلاف ایکشن لیتے ہیں تو دہشت گرد منشیات انڈسٹری کو بچانے کیلئے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔ سکیورٹی حکام کا کہناہے کہ منشیات سے حاصل ہونے والا منافع عشر کے طور پر لیا جاتا ہے اور یہ منافع افغانستان تک جاتا ہے۔ اس علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف ملک کے دیگر علاقوں کی طرح انٹیلی جنس بیسڈآپریشنز شروع کئے گئے، دہشت گردوں نے آبادی والے علاقوں میں اس لئے ٹھکانے بنائے تاکہ وہ اسے شیلڈ کے طور پر استعمال کرسکیں اور سکیورٹی فورسز کوآپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
اس کا نقصان مقامی افراد کو ہونے لگا کیونکہ جب انٹیلی جنس بیسڈآپریشن شروع ہوئے تو اس کے نتیجے میں کولیٹرل ڈیمج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال میں سکیورٹی فورسز کیلئے بھی کلولیٹرل ڈیمج ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ بے گناہ جانوں کے ضیاع سے بچنے کیلئے تیراہ کی مقامی انتظامیہ کے ساتھ قبائلی عمائدین کے متعدد جرگے منعقد کئے گئے جن میں دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خاتمے کے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ مقامی مشران کو اپنی مرضی کا حل تجویز کرنے کیلئے تین ماہ کا وقت دیا گیا۔ مشران نے پہلے تیراہ میں موجود خوارج سے رابطہ کیا اور انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ علاقہ چھوڑ جائیں تاکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران ہونے والے کولیٹرل ڈیمج سے بچا جا سکے مگر مشران کی بات خوارج نے رد کر دی۔ پھر اِن مشران نے مقامی حکومت سے رجوع کرتے ہوئے یہ آپشن پیش کیا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران وہ خود عارضی طور پر اپنے گھروں سے نقل مکانی کریں تاکہ دہشت گردوں کو مکمل طور پر نکالا جا سکے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے کبھی بھی تیراہ کے عوام کی نقل مکانی کا مطالبہ نہیں کیا البتہ مقامی مشران کے ساتھ بات چیت کے دوران کولیٹرل ڈیمج سے بچنے کیلئے اسے ایک آپشن کے طور پر ضرور پیش کیا گیا‘ مگر اس میں حتمی فیصلہ مقامی افراد نے ہی کرنا تھا۔
مشران نے جب مقامی انتظامیہ سے ابتدائی مشاورت کر لی تو صوبائی سطح پر بھی جرگے منعقد ہوئے۔ 26 دسمبر 2025ء کو مشران نے خود صوبائی حکومت کو علاقہ چھوڑنے پرآمادگی ظاہر کی یعنی نقل مکانی کا یہ آپشن خود جرگے نے منتخب کیا۔ اس فیصلے کے بعد صوبائی حکومت نے تیراہ کے عوام کیلئے چار ارب روپے کی منظور ی دی۔ صوبائی حکومت نے اس رقم کو عارضی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں پر خرچ کرنا تھا۔ اپنا گھر چھوڑنے والے ان افراد کیلئے دیگر شہروں میں کیمپس قائم کئے جانے تھے۔ مگر گزشتہ ایک ماہ کے دوران نہ تو صوبائی حکومت چار ارب روپے ان افراد پر خرچ کر سکی نہ ہی نقل مکانی کرنے والے افراد کیلئے کیمپس قائم کئے جا سکے۔ تیراہ کے عوام صوبائی حکومت کی بد انتظامی کے باعث مشکلا ت کا شکار ہونے لگے۔
ذرائع کے مطابق تیراہ کے علاقے باغ میدان کے علاقے سے 19 ہزار خاندانوں کی نقل مکانی طے تھی، اب تک 65 سے 70 فیصد تک خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ 35 فیصد اب تک تیراہ میں موجود ہیں۔ اگرچہ وفاقی وزرا نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ یہ ایک موسمی ہجرت ہے جس میں سخت موسم کے باعث یہاں کے لوگ نسبتاً کم سردی والے علاقوں کو ہجرت کرتے ہیں مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہ موومنٹ جرگے کی مقامی اور صوبائی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی نشستوں کے نتیجے میں ہوئی۔ 19 ہزار خاندانوں کا صرف موسم کے باعث ہجرت کا حکومتی دعویٰ سمجھ سے بالا تر ہے۔
جہاں تک معاملہ تیراہ میں آپریشن کا ہے تو یہ بات بڑی واضح ہے کہ تیراہ میں کوئی بڑے پیمانے کا آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ پہلے سے جاری انٹیلی جنس بیسڈآپریشنز ہی ہو رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پرآپریشن نہ ہونے کی تین وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ انٹیلی جنس بیسڈآپریشنز سے وہ تمام نتائج حاصل ہو رہے ہیں جو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے در کار ہیں۔ دوسرا معاملہ تیراہ کا سخت موسم ہے۔ اس موسم میں بڑے پیمانے پرآپریشن ممکن ہی نہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ ماضی میں حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر پاک فوج وہاں بڑے پیمانے پرآپریشن کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی کیونکہ ایسا کرنے سے آئی ڈی پیز کو مشکلات اور انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔وادی تیراہ کا مسئلہ خاندانوں کی نقل مکانی کا نہیں بلکہ یہ پاکستان کی خود مختاری، قانون کی بالادستی اور دہشت گردی کے مالی ذرائع کے خاتمے کا معاملہ ہے۔
اس معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومت ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ الزام تراشی کے بجائے حقائق پر مبنی تحقیقات کی جائیں۔ اگر منشیات کی کاشت سے دہشت گرد مستفید ہو رہے ہیں تو اس سلسلے کو روکنا صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ قبائلی عوام کو سیاسی فٹ بال بنانے کے بجائے ان کی مستقل آباد کاری اور علاقے میں پائیدار امن کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ وادی تیراہ کو جنگ یا غیر قانونی تجارت کے بجائے ترقی اور تعلیم کا مرکز بننا چاہیے، اور یہ تبھی ممکن ہے جب سیاست سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔