سعادت حسن منٹو:سماجی حقیقت نگاری کا اوجِ کمال
سعادت حسن منٹو نے افسانہ نگاری کا آغاز سیاسی موضوعات سے کیا۔ ان کا اولین مجموعہ ’’آتش پارے‘‘(1934ء) مکمل سیاسی رحجان کی غمازی کرتا ہے۔ ایک مبتدی کی اس اولین کاوش میں واضح سیاسی اور سماجی شعور جھلکتاہے۔
اس احساس کے زیر اثر وہ اونگھتے ہوئے معاشرے کو جگانا چاہتے تھے۔ منٹو کے اس مجموعے کے تقریباً تمام افسانوں میں انقلاب اور مزدور کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ نچلی سطح کے مزدور طبقے سے ہمدردی، جذباتی واربستگی اور جذباتی کیفیات کو کئی افسانوں میں ابھارا گیاہے۔ خاص کر ’’خونی تھوک‘‘، ’’تماشا‘‘، ’’دیوانہ شاعر‘‘ اور ’’انقلاب پسند‘‘ میں انقلابی جوش بہت نمایاں ہے۔ ہر افسانے میں باغیانہ لہجہ اور دردمندانہ انداز ملتا ہے۔ دراصل یہ دور سیاسی ابتری اور کشمکش کا تھا۔ انہوں نے کروٹیں لیتے ہوئے اس عہد کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی زندگی کو کئی افسانوں کی زینت بنایا۔ ان کے بعد کے دور کے دیگر افسانے مثلاً ’’1919کی ایک بات‘‘، ’’نیا قانون‘‘، ’’نعرہ‘‘، ’’سوراج کے لیے‘‘، ’’خونی تھوک‘‘ وغیرہ بھی اُس دور کی زندگی کا آئینہ ہیں۔ سیاسی نظام کے خلاف نفرت، جلیا نوالا باغ کا حادثہ ، مارشل لاء سیاسی تحریکیں اور حصول ِآزادی کے واقعات وغیرہ کے بارے میں ان کا رد عمل خاصا اشتعال انگیز ہے۔
منٹو نے اپنے اولین افسانوی مجموعے کے ابتدائی مختصر دیباچہ میں ان افسانوں کو دبی ہوئی چنگاریاں بتایا ہے اور امید کی ہے کہ قارئین بھی پڑھنے کے بعد انہیں شعلوں میں تبدیل کر دیں گے۔ جلیانوالا باغ کے اس خونی حادثہ کے وقت سعادت حسن منٹو صرف سات برس کے تھے۔ انہوں نے یہ حادثہ اپنے والد کے ہمراہ بہ چشم خود دیکھا تھا۔ 1919ء کا یہ حادثہ منٹو کے تحت الشعور میں محفوظ ہو گیا تھا۔ ’’خلق‘‘کے اگست 1933ء کے شمارے میں ان کا افسانہ ’’تماشا‘‘ شائع ہوا ۔اس کا موضوع یہی جلیا نوالا باغ تھا جو اُن کے لا شعور سے شعور میں در آیا۔ ’’تماشا‘‘ کے خالد اور ’’خونی تھوک‘‘ کے قلی کا ردعمل درحقیقت منٹو کی روح کا شعلۂ انتقام و احتجاج تھا جو اُن کے دوسرے دور کے کچھ افسانوں میں بھی نظر آتا ہے۔
منٹو کے تخلیقی، فتی اور فکری شعور نے بہت تیزی سے ارتقائی مراحل طے کیے ہیں۔ سماجی تبدیلی کا گہرا احساس روز ِاول ہی سے ان کی سرشت میں موجود تھا، رفتہ رفتہ یہ احساس فزوں سے فزوں تر ہوتا گیا جسے منٹو نے سماجی حقیقت نگاری کے پیرائے میں بے رحم سماجی تضادات کو بغیر کسی جذباتیت کے اپنی کہانیوں میں پیش کیا۔منٹو کی سماجی حقیقت نگاری میں انفرادیت کی جو تصویران کی تحریروں سے ذہن میں ابھرتی ہے وہ ان کی زندگی کے پس منظر سے بھی نمایاں ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک منفرد مصنف اور منفرد شخصیت کے طور پر نظر آنے کے لیے ساری زندگی یہ شعوری کوشش کی کہ وہ حیرت انگیز اور غیر معمولی کام انجام دیتے رہیں کہ جس سے وہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں۔
منٹو نے اپنے ادبی سفر کا آغاز ایک انسان پرست افسانہ نویس کی حیثیت سے کیا تھا، رفتہ رفتہ ایک سماجی حقیقت نگاری کا روپ دھار لیا۔ منٹو نے کسی پردے سے یا لیبل کا سہارا لیے بغیر ہمیشہ بے باکی سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی حقیقت نگاری میں بے رخی اور بے خوفی در آئی اور ان کا فن زیادہ سے زیادہ سفاک ہوتا گیا۔ منٹو کے مزاج میں جو بے باکی ، تلخی ، ترشی اور درشتی پائی جاتی ہے وہ ان کی شخصیت کے ساتھ ان کی تحریروں میں بھی نمایاں ہے۔ حمید شاہد کی دانست میں منٹو اپنی تحریروں میں بسا اوقات اتنا زہر بھر دیتے ہیں جیسے خون میں اتر کر سارے بدن کو نیلا تھوتھا بنا دیا گیا ہو۔ کشور ناہید کو منٹونے قہقہوں میں بھی زہر نظر آتا ہے۔ در حقیقت منٹو جوذ کی الحس واقع ہوا تھا ملک کی سماجی، سیاسی اور اقتصادی ابتر صورتحال نے منٹو جیسے حساس ادیب کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
ان کے قلم کی یہ تلخی، چبھن اور نشریت دراصل ان کے عہد میں مردوزن کا استحصال، ان کی حق تلفی، لوٹ کھسوٹ ، سماجی منافقت ، ریا کاری اور خباثتوں کو دیکھ کر در آئی ۔ سماجی رشتوں کے کھو کھلے پن پر بھر پور وار کے ساتھ ان کے یہاں سماجی زندگی کا گہرا تجزیہ بھی ملتا ہے۔ ان کے افسانوں کی بڑی تعداد اسی سماجی حقیقت نگاری کے ضمن میں آتی ہے۔ منٹو ، افسانہ نگاری کے میدان میں مخصوص طرز کی بنا پر سب سے الگ تھلگ تن تنہا انفرادی شان کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے توسط سے سماجی حقیقت نگاری نے برسوں کا سفر دنوں میں طے کیا ہے۔ بلا شبہ انہوں نے اپنے افسانوں میں سماجی حقیقت نگاری کو اوجِ کمال پر پہنچا دیا ہے۔