بانو قدسیہ اور ہماری اقدار

تحریر : میر ظہیر عباس روستمانی


ان کے خیال میں تہذیبی ، اخلاقی اورمذہبی اقدار ہی کسی شخص، قوم اور معاشرے کی شناخت ہوا کرتی ہیں:بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ہر معاشرتی گروہ اور تہذیب کا اپنا تشخص ہوتا ہے‘ اگر وہ اپنی اقدار کوچھوڑ کردوسرے نظام اقدار کو اپناتا ہے تو وہ اپنی شناخت کھو دیتا ہے جو متعدد مسائل کا باعث بنتا ہےوہ روحانی ، اخلاقی اور مادی اقدار کا موازنہ کرکے انسانی شخصیت اور اس کی ذہنی وجذباتی زندگی پر ان کے اثرات کا جائزہ لیتی ہیں‘ ان کے نزدیک انسان مادی اقدارکے حوالے سے احساسِ کمتری کا شکار ہو رہا ہے

 بانوآ پاکے ماہ و سال

بانو قدسیہ28 نومبر 1928ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پورمیں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی ۔اشفاق احمد سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اوراپنے شوہر کی معیت میں ادبی پرچہ’’ داستان گو‘‘جاری کیا۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں ناقابلِ ذکر، بازگشت، امر بیل اور کچھ اور نہیں کے نام شامل ہیں۔ ان کا ناول راجہ گدھ اپنے اسلوب کی وجہ سے اردو کے اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ ان کے ناولٹس میں ایک دن، شہر بے مثال، پروا،موم کی گلیاں اور چہار چمن کے نام شامل ہیں۔بانو قدسیہ نے ٹیلی ویژن کے لیے بھی کئی یادگار ڈرامہ سیریلز تحریر کیے۔ جن کے متعدد مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا۔ بانو قدسیہ 4 فروری 2017ء کو جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔

 اقدار کی شکست ور یخت کے حوالے سے بانو قدسیہ کے تینوں ناول’’شہر ِبے مثال‘‘، ’’ راجہ گدھ‘‘ اور ’’ حاصل گھاٹ‘‘ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔تینوں ناولوں کے تحقیقی مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بانو قدسیہ سمجھتی ہیں کہ ہر معاشرتی گروہ مخصوص اقدار کا حامل ہوتا ہے۔ اس گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد ان اقدار کو شعوری اور لاشعوری طور پر تسلیم کرکے اسے اپنی فطرت کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ ایک بڑے معاشرے کے اندر چھوٹے چھوٹے معاشرتی گروہ لسانی، نسلی اور طبقاتی بنیادوں پر وجود میں آتے ہیں۔ ان معاشرتی گروہوں کے افراد جب اپنے حلقے اور دائرہ کار سے باہر نکلتے ہیں تو دوسرے گروہوں کے ساتھ ان کی اقدار ٹکراتی ہیں۔ بعض دفعہ یہ منفی اثرات کا حامل ہوتا ہے اور کبھی یہ ٹکرائو مثبت نتائج لے کر آتا ہے۔دیہات اور شہر کا ماحول بھی الگ الگ اقدار و رسم و رواج کو ترویج دیتا ہے۔ دیہات میں پرورش پانے والا فطری طور پر شہری سے مختلف رویوں اور رجحانات کا اظہار کرتا ہے۔’’شہر بے مثال‘‘ میں بانو قدسیہ نے ایسے ہی دو معاشرتی گروہوں کی اقدار کے تصادم کو موضوع بنایا ہے۔ دیہات کی فطری سادگی، معصومیت اور تحیر جب شہر کی جدت، ذہانت اور ہوشیاری سے ٹکراتا ہے تو ترقی کی خواہش میں دیہات سے آئے ہوئے افراد کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں۔ جدید معاشرے کی شہری اقدار انہیں احساس دلاتی ہیں کہ ان کی اقدار فرسودہ ہیں۔ وہ زیادہ دیر تک اپنے پرانے نظام اقدار پر ثابت قدم نہیں رہ سکتے۔

’’حاصل گھاٹ‘‘ میں بھی بانو قدسیہ کم و بیش یہی نظریہ پیش کرتی ہیں کہ ہر ملک اور معاشرہ اپنی تہذیبی و اخلاقی اقدار کا سرمایہ رکھتا ہے۔ جب تک کوئی فرد اپنے ملک میں اپنی اقدار و ثقافت کے ساتھ رہتا ہے وہ احساسِ کمتری کا شکار نہیں ہوتا لیکن جب وہ اپنا ملک چھوڑ کر ترقی یافتہ ملک کا رخ کرتا ہے تو وہاں کی مادی ترقی اسے انگشت بدنداں کر دیتی ہے۔ اسے اپنا معاشرتی نظام، رہن سہن، اقدار و روایات سب فرسودہ اور ترقی کی دشمن نظر آنے لگتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایک کرکے اپنی شناخت کے یہ تمام عناصر کھو دیتا ہے۔بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ہر معاشرتی گروہ اور تہذیب کا اپنا تشخص ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنی اقدار کو چھوڑ کر دوسرے نظام اقدار کو اپناتا ہے تو وہ اپنی شناخت کھو دیتا ہے۔ تہذیبی شناخت کا گم ہو جانا قوم کیلئے نفسیاتی و روحانی اور بقا کے مسائل کا باعث بنتا ہے۔’’شہر بے مثال‘‘ اور ’’ حاصل گھاٹ‘‘ میں بانو قدسیہ یہی خیال پیش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ان دونوں ناولوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بانو قدسیہ سمجھتی ہیں کہ شخصی اور قومی تشخص کا انحصار اقدار پر ہے۔ تہذیبی و ثقافتی اور اخلاقی و مذہبی اقدار ہی کسی شخص، قوم اور معاشرے کی شناخت ہوا کرتی ہیں۔ اگر وہ ان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں تو نہ صرف شخص بلکہ پورا معاشرہ اپنا قومی تشخص کھو بیٹھتا ہے۔ مادی ترقی کے حصول کیلئے اتنی بڑی قیمت چکانا نہ تو انفرادی سطح پر فرد کو راس آتا ہے اور نہ ہی اجتماعی سطح پر معاشرہ ہی اس کا متحمل ہو سکتا ہے۔

بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ انفرادی سطح پر فرد کے کردار کی تعمیر و تشکیل اور اجتماعی سطح پر معاشرتی توازن و استحکام اور ترقی میں اقدار اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بانو قدسیہ نے اپنے ناولوں میں جو کردار پیش کئے ہیں ان کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ کردار کی عظمت اور زوال کا انحصار مثبت اقدار کی پختگی اور کمزوری پر ہے۔ظفر کے کردار(شہر بے مثال) کے ذریعے بانو قدسیہ نے اخلاقی و روحانی اقدار کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ایک مستحکم و متوازن شخصیت کا نمونہ ہمارے سامنے لا کروہ یہ بتاتی ہیں کہ مثبت اقدار کا سہارا انسان کو ہر طوفان سے نپٹنے کی ہمت عطا کرتا ہے۔ اس کی پختہ اقدار کسی خوف اور دبائو کو قبول کئے بغیر اس کے ارادوں کو مضبوطی اور حوصلوں کو بلندی عطا کرتی رہیں۔ اپنی اقدار پر اس کا ایمان ہی اس کے استقلال کا باعث بنا۔ اس کردار کے ذریعے بانو قدسیہ یہ پیغام دیتی ہیں کہ اخلاقی اقدار کی بنیادیں اگر پختہ ہوں تو وہ ذات کو کلیت عطا کرکے اسے رفعتوں سے ہمکنار کر دیتی ہیں۔ رشو کے کردار کے ذریعے بانو قدسیہ نے کردار کی ناپائیداری اور بودے پن کے نتائج کو بیان کیا ہے۔

اقدار کی ناپختگی نے رشو کے رویوں اور رجحانات کو ناہموار بنا دیا تھا۔رشو کے کردار کے حوالے سے بانو قدسیہ تصادم ِقدر سے جنم لینے والی ذہنی و روحانی ٹوٹ پھوٹ کے اثرات کو بیان کرتی ہیں۔ رشو کی نفسیاتی کشمکش نے اسے اس حد تک متاثر کیا کہ وہ شیزوفرینیاکی مریضہ بن جاتی ہے۔ اپنی اقدار سے کٹ جانے کی سزا اسے معاشرتی تنہائی، پچھتاوے اور نفسیاتی بیماریوں کی صورت میں ملتی ہے۔ قیوم (راجہ گدھ) کو بانو قدسیہ نے روحانی و اخلاقی اقدار کے زوال کا استعارہ بنایا ہے۔ مردار خوری کو حرام فعل قرار دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ موجودہ عہد میں حرام اور حلال کا امتیاز ختم ہو کر مردار خوری انسانی فطرت کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ روح اور جسم دونوں کا حرام کھا رہا ہے اور نتیجے میں ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔بانو قدسیہ رزق حرام کو انسان کی جسمانی ذہنی اور روحانی پراگندگی کا سبب قرار دیتی ہیں۔ 

’’حاصل گھاٹ‘‘ میں انہوں نے مشرقی اور مغربی اقدار کے تضاد کو دکھا کر بتایا ہے کہ مشرقی اقدار جو مذہب اور اخلاقیات سے اخذ کی گئی ہیں، انسان کے اندر مثبت خصائص کو جگا کر اس کے سیرت و کردار کو عظمتوں سے ہمکنار کرتی ہیں۔’’حاصل گھاٹ‘‘ کا مرکزی کردار صبر، اطاعت اور فرمانبرداری کی روحانی اقدار کو اپنا کر حقیقی مسرت اور راحت و سکون حاصل کرتا ہے۔وہ’’ حاصل گھاٹ‘‘ میں روحانی و اخلاقی اقدار اور مادی اقدار کا موازنہ کرکے انسانی شخصیت اور اس کی ذہنی وجذباتی زندگی پر ان کے اثرات کا تقابلی جائزہ لیتی ہیں۔ہمارے سامنے یہ نتیجہ رکھتی ہیں کہ مادی اقدارکے حوالے سے احساس کمتری کا شکار ہو رہا ہے۔ امریکی معاشرہ جسے مادی ترقی کی علامت سمجھا جا رہا ہے، روحانی و اخلاقی قدروں سے دامن چھڑا کرمادی اقدار کو اپنا چکا ہے کیونکہ یہ ترقی حاصل کرنے کیلئے ناگزیر تھا۔ مشرقی لوگ جب ترقی کی خاطر امریکہ کا رخ کرتے ہیں تو ان کو اپنی اخلاقی اور مذہبی اقدار ترقی کے راستے میں حائل نظر آنے لگتی ہیں۔ وہ اپنی سماجی اقدار کو اپنے لئے باعث شرم محسوس کرتے ہوئے جلد ہی ان سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں۔

بانو قدسیہ عورت اور مرد کو مختلف اخلاقی اقدار کا امین سمجھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ فطرتی و حیاتیاتی تقاضے سے عورت پرورش کی ضامن ہے اور مرد کفالت کا ۔جب عورت اپنے اس فطری اور حیاتیاتی مقصد اور فرض سے انحراف کرتی ہے تو اس کی روح ناآسودگی کا شکار ہو جاتی ہے۔ جدید معاشرے کی عورت اپنے فطرتی مقصد کو بھلا کر اپنی شناخت کی تلاش کے سفر پر نکل کھڑی ہوئی ہے۔ وہ پرورش کی ضامن نہیں رہی بلکہ آزادی کی طلبگار ہو چکی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ آزادی کے نعرے نے عورت کے روایتی کردار کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔ اس نے آزادی تو حاصل کر لی ہے لیکن یہ اپنے ساتھ ذہنی دبائو، فرسٹریشن اور ڈیپریشن جیسی بیماریاں لے کر آئی ہے کیونکہ عورت اپنے فطری تقاضوں کو پورا کئے بغیر خوشی حاصل نہیں کر سکتی۔دوسری طرف مرد نے کفالت کی ذمہ داری کو عورت کے ساتھ بانٹ لیا ہے۔ اس کی ذات کا فخر و غرور اور عزت و افتخار اس کے ساتھ ہی جاتے رہے ہیں۔ روحانیت اور اخلاقیات کے بنیادی اصولوں سے انحراف نے ان دونوں کے تشخص کو برباد کر دیا ہے۔ بانو قدسیہ محبت کو انسانیت کی سب سے بڑی قدر تسلیم کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آج کا جذبہ عہد محبت کی بجائے آزادی کا طلب گار ہے۔ آزادی کی خواہش نے انسانی تعلقات میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔ معاشرہ جس رفتار سے ترقی کی طرف بڑھ رہا ہوگا اسی نسبت سے تعلق کا خاتمہ ہو رہا ہوگا۔ مادی ترقی کے ساتھ آزادی کی قدر وابستہ ہے اور روحانیت کے ساتھ محبت کی قدر پرورش پاتی ہے۔ محبت کی قدر نے ختم ہو کر ہوس کو جنم دیا ہے۔ محبت کی اس کمی سے انسان کی روح پیاسی ہے۔ اسے کہیں سکھ چین نصیب نہیں ہو رہا۔ تعلق کے خاتمے اور محبت کی کمی سے نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں، منشیات کے استعمال، خود کشی کی شرح، شکستہ خاندانوں کی تعداد اور جنسی بے راہروی کا گراف دن بدن اونچا ہو رہا ہے۔

بانو قدسیہ اطاعت اور فرمانبرداری کو اعلیٰ اخلاقی قدر گردانتے ہوئے انسانی کردار کی تشکیل اور ذہنی تربیت میں اس کی ضرورت کو ناگزیر قرار دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انسانی کردار کو روحانی سطح پر رفعتوں اور عظمتوں سے ہمکنار کر دینے والی سب سے بڑی قدر ’’ مان لینا‘‘ ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ فیصلے کا اختیار انسان کو ذہنی و روحانی کرب میں مبتلا کردیتا ہے۔ اسی طرح لاینجل سوالات کی خاطر بے نشان منزلوں کا سفر انسانی روح کو تھکا دیتا ہے۔ ایسی صورت میں جاننے کی بجائے ماننا روح کی آسودگی کا باعث بنتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جاننے سے پہلے حکم سن کر مان لینا ایسی روحانی صفت ہے جو انسان کو خدا کا محبوب بنا دیتی ہے۔ یہی صفت انسانی تعلقات کی استواری کا بھی واحد طریقہ ہے۔

بانو قدسیہ نے ’’ راجہ گدھ‘‘ اور ’’ حاصل گھاٹ ‘‘ میں روحانی و اخلاقی لحاظ سے زوال پذیر معاشروں کو موضوع بنایا ہے’’ راجہ گدھ‘‘ میں پاکستانی معاشرہ اور ’’ حاصل گھاٹ‘‘ میں امریکی معاشرے کی روحانی و اخلاقی قدروں کے زوال کو بیان کرتی ہیں۔مجموعی طور پر بانو قدسیہ کی فکر کا احاطہ کیا جائے تو ایک بڑے لکھاری کی طرح زندگی، معاشرے اور اقدار کے بارے میں ان کے ہر ناول میں غورو فکر کی کیفیت ملتی ہے۔ ان کے ہاں تلاش کا سفر بھی موجود ہے اور عرفان و آگہی کی منزلیں بھی نظر آتی ہیں۔ انہوں نے اپنے فکری اور قلبی تجربے سے کچھ تنائج اخذ کئے ہیں جن سے اختلاف و اتفاق کی دونوں صورتیں موجود ہیں اور ایک بڑے فن پارے میں یہ دونوں موجود رہتی ہیں جو اس کی ہمہ جہتی کا ثبوت ہوتی ہیں۔

بانو قدسیہ کی تصانیف 

1 ۔راجہ گدھ  

2 ۔ایک دن (ناولٹ)

3۔موم کی گلیاں (ناولٹ)

4 ۔شہر بے مثال

5۔چہار چمن

6 ۔امربیل(افسانوی مجموعہ)

7۔آتش زیرپا

8 ۔ناقابلِ ذکر

9 ۔بازگشت

10۔کچھ اور نہیں

11۔دست بستہ،سامان وجود،پروا،پیا نام کا دیا

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سعادت حسن منٹو:سماجی حقیقت نگاری کا اوجِ کمال

سعادت حسن منٹو نے افسانہ نگاری کا آغاز سیاسی موضوعات سے کیا۔ ان کا اولین مجموعہ ’’آتش پارے‘‘(1934ء) مکمل سیاسی رحجان کی غمازی کرتا ہے۔ ایک مبتدی کی اس اولین کاوش میں واضح سیاسی اور سماجی شعور جھلکتاہے۔

پاکستان سپرلیگ سیزن11کرکٹ سٹارز کی نیلامی کامرحلہ

آکشن سے قبل ہر فرنچائز کو 5 کھلاڑیوں کو ری ٹین کرنے کی اجازت ہو گی:پلیئرز آکشن 11 فروری کو ہو گی،پی ایس ایل کا گیارہواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک چلے گا، 8 فرنچائزز حصہ لیں گی،ٹاپ کیٹیگری میں بیس پرائس 4 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھی گئی ہے، دیگر میں 2 کروڑ 20 لاکھ، 1 کروڑ 10 لاکھ اور 60 لاکھ روپے ہے

کھیلتا پنجاب پنک گیمز2026ء

خواتین کھیلوں کاسب سے بڑا مقابلہ:پنجاب کے ہر ڈویژن سے 21سال سے کم عمرخواتین کھلاڑی 16مختلف کھیلوں میں11تا 15فروری لاہور میں شرکت کریں گی

جنت کا متلاشی (دوسری قسط )

یہ جلیل القدر صحابی عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے۔ آپؓ کا تعلق قبیلہ بنوسہم سے تھا۔ اس کا شمار مکہ کے معزز ترین خاندانوں میں ہوتا تھا۔

ہوشیار مرغی

کسی جنگل کے کنارے لکڑی کے چھوٹے سے دڑبے میں ایک مرغی اکیلی رہتی تھی۔ وہ بہت ہنس مکھ تھی۔ ہر ایک کے کام آتی اور اپنے کام خود کرتی تھی۔

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

بادل مختلف شکلوں میں کیوں ہوتے ہیں؟