آج کا پکوان:چکن چپلی کباب

تحریر : منیرا کرن


اجزا: چکن کاقیمہ: ایک کلو، مکئی کا آٹا: ایک پاؤ،لال مرچ پاؤڈر: ایک چائے کا چمچ ،ہری مرچ: چار عدد ،دھنیا پاؤڈر: دو چائے کے چمچ ، سفید زیرہ:

 ایک چائے کا چمچ (پسا اور بھنا ہو ا)، ٹماٹر: چار عدد، پیاز: ایک عدد، تیل تلنے کیلئے، انڈے: چار عدد، ہرا دھنیا، پودینہ: حسبِ ضرورت،انار دانہ :دو چمچ (موٹا پیس لیں)۔

ترکیب: ٹماٹر، ہری مرچ، دھنیا اور پودینہ باریک کاٹ لیں۔ مسالہ موٹا پیس کر سفید زیرے کے ساتھ قیمے میں ملالیں، ساتھ ہی مکئی کا آٹا اور انڈے پھینٹ کرشامل کردیں۔ اب درمیانے سائز کے کباب بنالیں۔ فرائنگ پین میں تیل گرم کرکے کباب سنہری تل لیں۔ 

گارلک بریڈ

اجزا : میدہ: ایک کپ، خمیر:ایک چائے کا چمچ،چینی:ایک چائے کا چمچ، آئل:ایک چائے کا چمچ،نمک: حسب پسند،لہسن: چھ جوے،نیم گرم دودھ:ایک کپ، مکھن: تین چمچ،ہر ا دھنیہ،کٹی لال مرچ۔

ترکیب :میدہ، خمیر، چینی ،آئل، نمک اور دودھ کو مکس کرکے ڈو بنالیں ۔جب ڈو بن جائے تو گھنٹہ دو گھنٹہ گرم جگہ پر رائز ہونے کیلئے رکھ دیں۔اس کے بعد مکھن، لہسن، ہرا دھنیہ ،کٹی مرچ مکس کردیں۔ڈو تیار ہوجاے تو اس کی روٹی بنالیں اور آدھے حصہ پر مکھن، لہسن لگادیں، کچھ چیز بھی لگا دیں اور فولڈ کرلیں ، کیک مولڈ میں آئل لگا کر رکھ دیں،پتیلی کو 10 منٹ گرم کریں اب 20منٹ مولڈ کو بیک کرنے کیلئے رکھ دیں ۔بریڈ کے اوپر بھی لہسن مکھن کا برش کردیں اور ہلکا ہلکا کٹ لگا دیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

یوم یکجہتی کشمیر

بھارتی مظالم پر دنیا کی آنکھیں کب تک بند رہیں گی؟

مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادیں

یہ تاریخی مسئلہ عالمی برادری کیلئے بھی ایک کڑا امتحان ہے

سید علی گیلانی ،عظیم حریت لیڈر!

سید علی گیلانی فرد نہیں تحریک تھے۔زندگی کی آخری سانسوں تک وہ اس تحریک کے مردِ مجاہد کے طور پر ثابت قدم رہے۔جس تحریک سے وہ اصلاً وابستہ تھے۔

خواتین انٹرپرینیورز : مواقع، چیلنجز اور قومی ترقی میں کردار

پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے مگر بدقسمتی سے ملکی معیشت میں ان کی شرکت آج بھی محدود ہے۔ حالیہ برسوں میں اگرچہ خواتین بطور انٹر پرینیور (Entrepreneur ) ابھر کر سامنے آئی ہیں لیکن مجموعی طور پر ان کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔

کاجل …پرکشش آنکھوں کا راز

ہر دور میں فیشن کے اپنے تقاضے اور انداز رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ میک اپ کے رجحانات میں بھی جدت آتی رہی ہے کیونکہ میک اپ فیشن کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

بانو قدسیہ اور ہماری اقدار

ان کے خیال میں تہذیبی ، اخلاقی اورمذہبی اقدار ہی کسی شخص، قوم اور معاشرے کی شناخت ہوا کرتی ہیں:بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ ہر معاشرتی گروہ اور تہذیب کا اپنا تشخص ہوتا ہے‘ اگر وہ اپنی اقدار کوچھوڑ کردوسرے نظام اقدار کو اپناتا ہے تو وہ اپنی شناخت کھو دیتا ہے جو متعدد مسائل کا باعث بنتا ہےوہ روحانی ، اخلاقی اور مادی اقدار کا موازنہ کرکے انسانی شخصیت اور اس کی ذہنی وجذباتی زندگی پر ان کے اثرات کا جائزہ لیتی ہیں‘ ان کے نزدیک انسان مادی اقدارکے حوالے سے احساسِ کمتری کا شکار ہو رہا ہے