کاجل …پرکشش آنکھوں کا راز

تحریر : سارہ خان


ہر دور میں فیشن کے اپنے تقاضے اور انداز رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ میک اپ کے رجحانات میں بھی جدت آتی رہی ہے کیونکہ میک اپ فیشن کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

 آنکھیں چہرے کا سب سے نمایاں اور دلکش حصہ ہوتی ہیں اور ان کی خوبصورتی کو ابھارنے میں کاجل ہمیشہ سے بنیادی کردار ادا کرتا آیا ہے۔کاجل ہر دور میں مقبول رہا ہے۔ یہ نہ صرف آنکھوں کو شفاف، جاذبِ نظر اور پرکشش بناتا ہے بلکہ روایتی طور پر آنکھوں کے مختلف امراض سے بچاؤ کے لیے بھی مفید سمجھا جاتا ہے۔ قدیم تہذیبوں میں، خصوصاً برصغیر اور مصر میں کاجل اور سرمہ کا استعمال حسن کے ساتھ ساتھ طبی نقطہ نظر سے بھی کیا جاتا تھا۔ آج کے جدید دور میں اگرچہ آئی میک اپ کے بے شمار انداز اور مصنوعات مارکیٹ میں دستیاب ہیں لیکن کاجل کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔آج کل خواتین میں مختلف اقسام کے آئی میک اپ کا استعمال بے حد مقبول ہو چکا ہے۔ نت نئے میک اپ ٹولز، آئی شیڈز، آئی لائنرز اور مسکارا کی بھرمار کے باعث بعض اوقات آنکھوں کی قدرتی خوبصورتی دب سی جاتی ہے۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ کاجل کے ذریعے بھی آنکھوں کی خوبصورتی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے خاص طور پر اس دور میں جب لائٹ میک اپ کا رجحان عام ہو چکا ہے۔ لڑکیاں ہلکے میک اپ کے ساتھ کاجل کو اس انداز سے لگاتی ہیں کہ میک اپ نمایاں بھی لگتا ہے اور بناوٹی بھی محسوس نہیں ہوتا۔اگر چہرہ نکھرا نکھرا ہو لیکن آنکھیں خالی خالی لگیں تو مجموعی تاثر میں کچھ کمی سی محسوس ہوتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے میں کاجل کی ایک پتلی سی لکیر بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بسا اوقات میک اپ مکمل اور درست طریقے سے کیا گیا ہو مگر کاجل نہ لگایا جائے تو چہرہ ادھورا سا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاجل کو آنکھوں کے میک اپ کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

بیسک کاجل

کاجل کا وہ انداز جس میں اوپر اور نیچے پلکوں کے ساتھ ہلکی گولائی یا سیدھی لکیر میں کاجل لگایا جائے اسے بیسک کاجل سٹائل کہا جاتا ہے۔ اگر آپ کو جلدی کسی تقریب میں جانا ہو تو یہ سٹائل بہترین انتخاب ہے کیونکہ یہ محض دو منٹ میں آنکھوں کی خوبصورتی کو دوبالا کر دیتا ہے۔

اپر لیش لائن سٹائل

 اگر آپ کسی عام یا روزمرہ تقریب میں جا رہی ہیں تو اپر لیش لائن کاجل سٹائل آپ کے لیے موزوں ہے۔ اس سٹائل میں آنکھ کے اوپری حصے پر کاجل لگایا جاتا ہے جبکہ نچلے حصے کو قدرتی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ انداز آنکھوں کو بڑا اور نمایاں دکھانے میں مدد دیتا ہے۔

سموکی سٹائل

اگر آپ سموکی آئی سٹائل اپنانا چاہتی ہیں تو پہلے آنکھوں کی لیش لائن پر کاجل لگائیں پھر تھوڑی سی مقدار میں پیٹرولیم جیلی لے کر آنکھوں پر ہلکے ہاتھ سے بلینڈ کریں۔ اس عمل سے کاجل نرم سموکی انداز اختیار کر لیتا ہے، جو شام کی تقریبات کے لیے نہایت موزوں سمجھا جاتا ہے۔

مصری سٹائل

منفرد اور دلیر انداز اپنانے کی خواہشمند خواتین مصری سٹائل کاجل کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس سٹائل میں پلکوں سے لے کر بھنوؤں کی ہڈی تک ایک میٹلک شیلڈ لگائی جاتی ہے۔ اس کے بعد آنکھ کے نچلے حصے پر گہری لائن بنائی جاتی ہے جس کا آغاز آنکھ کے اندرونی گوشے سے کر کے بیرونی کونے پر ختم کیا جاتا ہے۔ یہ انداز آنکھوں کو پراسرار اور پرکشش بنا دیتا ہے۔

سجنا سنورنا دراصل آنکھوں کو دلکش بنائے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ خواتین کا حسن ان کی گہری اور کاجل سے سجی آنکھوں سے نمایاں ہوتا ہے۔ آنکھوں کو دلکش بنانے کے لیے کاجل، سرمہ، آئی پینسل، آئی لائنر، مسکارا اور مختلف آئی شیڈز استعمال کیے جاتے ہیں مگر ان سب کے باوجود کاجل آج بھی آنکھوں کی خوبصورتی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔