خواتین انٹرپرینیورز : مواقع، چیلنجز اور قومی ترقی میں کردار
پاکستان کی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خواتین پر مشتمل ہے مگر بدقسمتی سے ملکی معیشت میں ان کی شرکت آج بھی محدود ہے۔ حالیہ برسوں میں اگرچہ خواتین بطور انٹر پرینیور (Entrepreneur ) ابھر کر سامنے آئی ہیں لیکن مجموعی طور پر ان کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔
خواتین کی کاروباری سرگرمیوں میں شمولیت نہ صرف معاشی استحکام بلکہ قومی ترقی اور پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
خواتین انٹرپرینیورشپ کا تصور
انٹرپرینیورشپ سے مراد ایسے افراد ہیں جو کاروباری خیالات کو عملی جامہ پہناتے، روزگار کے مواقع پیدا کرتے اور معیشت میں جدت لاتے ہیں۔ جب خواتین اس میدان میں قدم رکھتی ہیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے خودمختاری حاصل کرتی ہیں بلکہ اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی انٹرپرینیورشپ اب صرف روایتی گھریلو صنعتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی، ای کامرس، فیشن، تعلیم، صحت اور سروسز کے شعبوں تک پھیل چکی ہے۔
خواتین کے لیے مواقع
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ نے پاکستانی خواتین کے لیے کاروبار کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ فری لانسنگ، آن لائن سٹورز، سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ای کامرس پلیٹ فارمز نے خواتین کو گھر بیٹھے کاروبار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں خواتین دستکاری، کڑھائی، زراعت سے وابستہ مصنوعات اور فوڈ بزنس کے ذریعے اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہیں۔حکومتی سطح پر بھی خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں ،خواتین کے لیے مخصوص قرضہ سکیمیں بھی ہیں۔ اس کے علاوہ نجی شعبے اور غیر سرکاری تنظیمیں بھی ٹریننگ، فنانشل لٹریسی اور بزنس ڈیویلپمنٹ میں خواتین کی مدد کر رہی ہیں۔
درپیش چیلنجز اور رکاوٹیں
اگرچہ مواقع موجود ہیں لیکن خواتین انٹرپرینیورز کو متعدد سماجی، معاشی اور ثقافتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ معاشرتی رویے ہیں جہاں خواتین کے کاروبار کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کئی خاندان اب بھی خواتین کو کاروبار کرنے کی اجازت دینے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔سرمائے تک محدود رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بینکوں سے قرض حاصل کرنا خواتین کے لیے نسبتاً مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس ضمانت یا کریڈٹ ہسٹری نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ کاروباری تعلیم اور مارکیٹ تک رسائی کی کمی، قانونی پیچیدگیاں اور سکیورٹی خدشات بھی خواتین کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
تعلیم اور تربیت کی اہمیت
خواتین کی کامیاب انٹرپرینیورشپ کے لیے تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ بزنس پلاننگ، اکاؤنٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور لیڈرشپ سکلز میں تربیت خواتین کو اعتماد اور مسابقتی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ جامعات اور ٹیکنیکل اداروں میں خواتین کے لیے بزنس انکیوبیشن سینٹرز کا قیام ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
قومی ترقی میں کاروباری خواتین کا کردار
خواتین انٹرپرینیورز روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں، غربت میں کمی لاتی ہیں اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہیں۔ ایک خاتون کا کامیاب کاروبار صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کی فلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ خواتین اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم، صحت اور گھریلو فلاح پر خرچ کرتی ہیں جس سے انسانی ترقی کے اشاریے بہتر ہوتے ہیں۔
مثبت ملکی تشخص کی تشکیل
بین الاقوامی سطح پر جب پاکستانی خواتین بطور کامیاب بزنس لیڈرز سامنے آتی ہیں تو وہ پاکستان کا ایک روشن اور ترقی پسند چہرہ دنیا کے سامنے پیش کرتی ہیں۔سدریٰ قاسم،کلثوم لاکھانی،جہاں آرا، صبا گل ، ماریہ عمر ، فاطمہ رضوان اور دیگر کامیاب کاروباری خواتین اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی خواتین عالمی معیار پر پورا اترنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ کامیابیاں نہ صرف سرمایہ کاری کے مواقع بڑھاتی ہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔ حکومت، نجی شعبہ اور سول سوسائٹی مل کر خواتین انٹرپرینیورشپ کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائیں، آسان قرضے، بزنس نیٹ ورکس، مینٹورشپ پروگرامز اور قانونی سہولیات فراہم کی جائیں تو یہ سماجی رویوں میں مثبت تبدیلی لانے میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔ خواتین بطور انٹرپرینیور پاکستان کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہیں۔ اگر انہیں مساوی مواقع، تحفظ اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنا سکتی ہیں بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار اور ترقی پذیر ملک کے طور پر منوانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔