دعا مومن کا سب سے بڑا سہارا

تحریر : صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی


’’دعا عبادت کا مغز (اصل جوہر) ہے‘‘(جامع ترمذی) تمہارا پروردگار بہت زیادہ حیا اور کرم فرمانے والا ہے، اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے کہ جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دعا کیلئے اٹھائے تو انہیں خالی لوٹا دے (ابو دائود)

دعا مومن کا وہ روحانی ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ اپنی کمزوریوں، محرومیوں اور پریشانیوں کو ربِ کائنات کے حضور پیش کرتا ہے اور اسی سے نجات، سکون اور امید کی روشنی پاتا ہے۔ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ بندے اور اس کے خالق کے درمیان ایک زندہ تعلق کا اظہار ہے، جو دل کی گہرائیوں سے اٹھتا اور آسمانوں تک پہنچتا ہے۔ جب انسان دنیا کی الجھنوں، آزمائشوں اور مصیبتوں میں گھر جاتا ہے تو دعا اس کیلئے وہ سہارا بن جاتی ہے جو مایوسی کو یقین میں، بے بسی کو طاقت میں اور اندھیروں کو اجالے میں بدل دیتی ہے۔

اسلامی تعلیمات میں دعا کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جس سے بندہ اپنے رب کی رحمت کو پکار سکتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی مانگ سکتا ہے۔ دعا نہ صرف مشکلات سے نجات کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایمان کو تازگی، دل کو اطمینان اور روح کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و سنت میں بار بار دُعا کی تلقین کی گئی ہے اور اسے بندگی کی اصل روح قرار دیا گیا ہے۔ اگر انسان خلوصِ نیت اور کامل یقین کے ساتھ دُعا کو اپنا شعار بنا لے تو یہ یقیناً اس کی نجات اور کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

دُعا عربی زبان کا ایک عام لفظ ہے۔ لغت میں اس کے معنی ’’پکارنا‘‘ اور مدد طلب کرنا ہیں اور اصطلاح شرع میں اپنے آپ کو انتہائی حقیر و ذلیل ،کمتر وفقیر سمجھتے ہوئے انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اﷲرب العزت کے حضورکسی کام کے کرنے یانہ کرنے کی التجا کرنا دعا کہلاتا ہے۔

دعا کے بارے میں ایک آیت اور اس کے شان نزول کا ذکر کیا جا رہا ہے ،جس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ کس قدر اہم عبادت ہے۔ جلیل القدر مفسر علامہ ابن کثیر ؒ اپنی سند سے نقل کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا ،کیا ہمارارب ہم سے قریب ہے کہ ہم اس سے (دعا کے وقت ) سرگوشیاں کریں یا ہمارا رب ہم سے دورہے کہ چیخ چیخ کر پکاریں؟ آپ ﷺ نے اس کی بات کاکوئی جواب نہ دیا اور خاموش رہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ’’جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں (کہ میں ان سے قریب ہوں یا دور)سومیں قریب ہوں،جب کوئی مجھ سے دعا مانگے تو دعا مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں، لہٰذاچاہیے کہ وہ میراحکم مانیں اور مجھ پر یقین لائیں،تاکہ نیک راہ پر آئیں ‘‘۔شاید معمولی غور و فکر کے بعدہی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ایک آیت میں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں سے کس قدرمحبت اور شفقت کتنے پیارے اندازمیں کیاہے کہ جب سوال اﷲکے رسولﷺ سے کیاگیاکہ اﷲ قریب ہے یادُورتو اﷲنے یہ نہیں فرمایاکہ ’’اے نبی !آپؐ فرما دیجئے بلکہ براہ راست فرمایا ’’میں توقریب ہوں، کوئی پکارنے والاجب مجھے پکارتاہے تو جواب بھی دیتا ہوں تو مجھے پکارواور مجھ پر ہی ایمان لاؤ‘‘۔اسی طرح قرآن کی ایک دو نہیں، بیشمار آیات میں اﷲتعالیٰ اپنے سے مانگنے کانہ صرف حکم دیتا ہے بلکہ نہ مانگنے پر سخت ناراضگی کا اظہاربھی فرماتا ہے۔

حضرت نعمان بن بشیر ؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا ’’دُعا عین عبادت ہے‘‘  پھر آ پﷺ نے سند کے طور پر یہ آیت پڑھی ’’تمہارے رب کا فرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو،میں قبول کروں گا اور تم کو دوں گا۔جو لوگ میری عبادت سے متکبرانہ روگردانی کریں گے ان کوذلیل و خوارہوکرجہنم میں جانا ہو گا‘‘ (معارف الحدیث)۔حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا ’’دُعا عبادت کا مغز (اصل جوہر)ہے‘‘(جامع ترمذی)۔

 حضرت ابو ہریرہ ؓفرماتے ہیں رسول اکرمﷺنے فرمایا ’’اﷲکے یہاں کوئی عمل دعاسے زیادہ عزیزنہیں‘‘ (ترمذی) لہٰذا معلوم ہو ا کہ اﷲکے نزدیک جب یہی سب سے افضل ہے تو اﷲکے لطف وعنایت اور رحمت کو کھینچنے کی سب سے زیادہ طاقت دعا ہی میں ہے۔ حضرت ابن عمرؓسے منقول ہے کہ رسول اﷲﷺنے فرمایا : ’’تم میں سے جس کیلئے دُعا کا دروازہ کھل گیا اس کیلئے رحمت کے دروازے کھل گئے اور اﷲ کو دعاؤں میں سب سے زیادہ محبوب یہ ہے کہ بندے اس سے عافیت کی دعاکریں‘‘ (جامع ترمذی )۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے ہی روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا ’’جو اﷲسے نہ مانگے اﷲ اس سے ناراض ہوتا ہے‘‘(ترمذی )۔یقینا رحمت و شفقت کی اس سے بڑھ کرکوئی انتہانہیں ہو سکتی۔حضرت عبداﷲبن مسعودؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’اﷲسے اس کا فضل مانگو کیونکہ اﷲکویہ بات محبوب ہے کہ اس کے بندے اس سے دعاکریں اور مانگیں اور اس بات کا انتظارکرنا کہ وہ بلا اور پریشانی کواپنے کرم سے دُور فرمائے گا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے (جامع ترمذی)۔ درحقیقت بات یہ ہے کہ بندوں کے مقامات میں سب سے بلند عبدیت کا مقام ہے اور دعا چونکہ عبدیت کا جوہر اور خاص مظہر ہے (بشرطیکہ دعا کرتے وقت انسان کا ظاہر و باطن عبدیت میں ڈوبا ہوا ہو) اس لئے دعا کو اس قدر اہمیت دی گئی اور افضل ترین عبادت کہا گیا ہے۔ نبی کریمﷺ چونکہ اس مقام عبدیت کے امام تھے، اس لئے آپﷺ کے احوال میں سب سے غالب و صف اور حال دعا کا ہے۔ اسی وجہ سے آپﷺ کے ذریعے اُمت کو روحانی دولتوں کے جو عظیم خزانے ملے ہیں ان میں سب سے بیش قیمت خزانہ ان دعائوں کا ہے، جو مختلف اوقات میں اللہ تعالیٰ سے خود آپ ﷺ نے کیں یا امت کو ان کی تلقین فرمائی۔

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’دعا کا رآمد ہوتی ہے(ضرور فائدہ پہنچاتی ہے) ان حوادث(مصیبت اور بلائوں) میں بھی جو نازل ہو چکے ہیں اور ان میں بھی جو ابھی نازل نہیں ہوئے، پس اے اللہ کے بندو! دعا کا خوب اہتمام کرو‘‘(معارف الحدیث)۔  سبحان اللہ! کتنا بڑا احسان ہے اللہ کا کہ دعا کو ایسا فائدہ مند بنایا کہ اس کو مصیبتوں اور پریشانیوں کا بھی حل بنا دیا، جن کا انسان فی الحال سامنا کر رہا ہے اور ان پریشانیوں کے دور کرنے میں بھی موثر بنایا جو مستقبل میں کبھی پیش آئیں گی۔

 اب دعا کی مقبولیت اور اللہ کے نزدیک اس کے مقام کے بارے میں ایک اور حدیث پڑھئے: حضرت سلمان فارسیؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ رسول اکرم ﷺے فرمایا: ’’تمہارا پروردگار بہت زیادہ حیا(شرم) اور کرم فرمانے والا ہے، ان کو اپنے بندے سے شرم آتی ہے کہ جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دعا کیلئے اٹھائے تو انہیں خالی لوٹا دے‘‘ (ابو دائود)۔ اب دعا کے مقام اور نافعیت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں اس لئے نبی اکرمﷺ نے دعا کو مومن کا خاص ہتھیار فرمایا ہے اور ہر جگہ ذریعہ نجات بتایا ہے۔حضرت جابر ؓ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺنے فرمایا: ’’ کیا میں تمہیں وہ عمل بتائوں جو تمہارے دشمنوں سے تمہارا بچائو کرے اور تمہیں بھر پور روزی دلائے؟ وہ یہ ہے کہ اپنے اللہ سے دعا کیا کرور ات میں اور دن میں کیونکہ ’’دعامومن کا ہتھیار ہے‘‘۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺنے فرمایا: ’’ جب اللہ سے مانگواوردعا کرو تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ وہ ضرور قبول کرے گااور عطا فرمائے گا۔اور خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول نہیں کرتا، جس کا دل(دعا کے وقت) اللہ سے غافل اور بے پرواہ ہو‘‘ (ترمذی)۔ اگر دعا بے دھیانی سے کی جائے تو اس کی مثال ایسی ہو گی کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے اپنی فریاداور درخواست پیش کرتے وقت بھی کبھی آسمان کو دیکھے، کبھی زمین کوتو کیا خیال ہے کہ بادشاہ اس کی فریاد سن کر پورا کرے گایا ناراض ہوکر سزا دے گا؟۔

انتہائی بے مروتی کی بات ہے کہ مصیبت اور پریشانی کے وقت کسی سے مدد طلب کی جائے اور اس کے سامنے فریاد کرکے اس کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں اورخوشی کے موقع پر اپنے معاون اور غمگسار کو بھول جایا جائے اور پھر جب دوبارہ مصیبت آئے تو ایک بار پھر اس کے سامنے اپنی خدمات پیش کی جائیں۔ اس لئے سرکار دو جہاں ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ’’ جوکوئی یہ چاہے کہ پریشانی کے وقت اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے تو اس کو چاہئے کہ عافیت اور خوشحالی کے زمانے میں کثرت سے دعا کیا کرے ‘‘ (جامع ترمذی)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔