بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

تحریر : محمد عارف جان


بارش کیوں ہوتی ہے؟

بادل کبھی کبھی برستے ہیں۔ پانی کے لاکھوں کروڑوں ننھے ننھے قطرے اور برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوا میں معلق ہوتے ہیں لیکن اگر وہ بڑے اور بھاری ہو جائیں تو بارش کی شکل میں زمین پر گر جاتے ہیں۔

بادلوں کی گرج میں گڑگڑاہٹ کیوں ہوتی ہے؟

شعلے سے نکلتی ہوئی بجلی اپنے راستے میں آنے والی ہوا کو گرم کرتی ہے، ہوا بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اور پھر اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی ٹھنڈی ہوا سے ٹکراتی یا رگڑ کھاتی ہے اس طرح گرج کی آواز آتی ہے۔ گرج میں گڑ گڑاہٹ اس لئے ہوتی ہے کہ یہ آواز ہمارے پاس ہوا میں سے گزر کر پہنچتی ہے۔

برف کیوں گرتی ہے؟

دراصل ٹھنڈے بادلوں کے اندر برف کے ننھے ننھے ذرے ہوتے ہیں۔ پانی کے نئے بخارات ان بادلوں میں جا کر جمتے جاتے ہیں اور برف کے ٹکڑے جسامت میں بڑھنے لگتے ہیں۔ پھر جب یہ وزنی ہو کر گرنے لگتے ہیں تو آپس میں چپک جاتے ہیں اور برف کے گالے بن کر گرنے لگتے ہیں۔

 برف کب بنتی ہے؟

جن علاقوں کی آب و ہوا سرد ہوتی ہے وہاں برف بنتی ہے۔ سردیوں میں جب درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے تو پانی ٹھوس برف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ عموماً رات کو موسم بہت ٹھنڈا ہو جاتا ہے چنانچہ صبح سویرے آپ کو بہت سی نئی برف نظر آتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

واقعہ موسیٰ علیہ السلام:سولہویں پارے میں حضرت موسیٰ و حضرت خضر علیہما السّلام کے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جا رہی تھی کہ حضرت خضر علیہ السّلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: جن اَسرار کا آپ کو علم نہیں، اُن کے بارے میں آپ صبر نہیں کر پائیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 16)

موسیٰ و خضر علیہ السلام:سولہویں پارے کا آغاز بھی سورۃ الکہف سے ہوتا ہے۔ پندرھویں پارے کے آخر میں جناب ِموسیٰ علیہ السّلام کی جنابِ خضر علیہ السّلام سے ملاقات کا ذکر ہوا تھا‘ جنابِ موسیٰ علیہ السّلام حضرت خضر علیہ السّلام کی جانب سے کشتی میں سوراخ کرنے اور پھر ایک بچے کو قتل کر دینے کے عمل پر بالکل مطمئن نہ تھے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سورہ بنی اسرائیل: سورۂ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں رسول کریم ﷺ کے معجزۂ معراج کی پہلی منزل‘ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا ذکر صراحت کے ساتھ ہے۔ یہ تاریخ نبوت‘ تاریخ ملائک اور تاریخ انسانیت میں سب سے حیرت انگیز اور عقلوں کو دنگ کرنے والا واقعہ ہے۔ اس کی مزید تفصیلات سورۃ النجم اور احادیث میں مذکور ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 15)

سفر اسراء:پندرھویں پارے کا آغاز سورۂ بنی اسرائیل سے ہوتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کے شروع میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی‘ جس کے گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں‘ بے شک وہ خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

اہل جہنم:چودھویں پارے کی پہلی آیت کا شانِ نزول حدیث میں آیا کہ اہل جہنم جب جہنم میں جمع ہوں گے تو جہنمی ان گناہگار مسلمانوں پر طعن کریں گے کہ تم تو مسلمان تھے‘ پھر بھی ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہگار مسلمانوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں لے جائے گا تو کفار تمنا کریں گے کہ کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے اور اس مرحلے پر نجات پا لیتے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 14)

فرشتوں کا اتارنا:چودھویں پارے کا آغاز سورۃ الحجر سے ہوتا ہے۔ چودھویں پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس امر کا ذکر کیا ہے کہ کافر رسول اللہﷺ کی ذاتِ اقدس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہتے کہ اگر آپ سچے ہیں تو ہمارے لیے فرشتوں کو کیوں لے کر نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ فرشتوں کو تو ہم عذاب دینے کیلئے اتارتے ہیں اور جب فرشتوں کا نزول ہو جاتا ہے تو پھر اقوام کو مہلت نہیں دی جاتی۔