بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

تحریر : محمد عارف جان


بارش کیوں ہوتی ہے؟

بادل کبھی کبھی برستے ہیں۔ پانی کے لاکھوں کروڑوں ننھے ننھے قطرے اور برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوا میں معلق ہوتے ہیں لیکن اگر وہ بڑے اور بھاری ہو جائیں تو بارش کی شکل میں زمین پر گر جاتے ہیں۔

بادلوں کی گرج میں گڑگڑاہٹ کیوں ہوتی ہے؟

شعلے سے نکلتی ہوئی بجلی اپنے راستے میں آنے والی ہوا کو گرم کرتی ہے، ہوا بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اور پھر اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی ٹھنڈی ہوا سے ٹکراتی یا رگڑ کھاتی ہے اس طرح گرج کی آواز آتی ہے۔ گرج میں گڑ گڑاہٹ اس لئے ہوتی ہے کہ یہ آواز ہمارے پاس ہوا میں سے گزر کر پہنچتی ہے۔

برف کیوں گرتی ہے؟

دراصل ٹھنڈے بادلوں کے اندر برف کے ننھے ننھے ذرے ہوتے ہیں۔ پانی کے نئے بخارات ان بادلوں میں جا کر جمتے جاتے ہیں اور برف کے ٹکڑے جسامت میں بڑھنے لگتے ہیں۔ پھر جب یہ وزنی ہو کر گرنے لگتے ہیں تو آپس میں چپک جاتے ہیں اور برف کے گالے بن کر گرنے لگتے ہیں۔

 برف کب بنتی ہے؟

جن علاقوں کی آب و ہوا سرد ہوتی ہے وہاں برف بنتی ہے۔ سردیوں میں جب درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے تو پانی ٹھوس برف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ عموماً رات کو موسم بہت ٹھنڈا ہو جاتا ہے چنانچہ صبح سویرے آپ کو بہت سی نئی برف نظر آتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنت کا متلاشی (تیسری قسط )

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوئے تو اس وقت قرآن پاک کی کئی آیات اور سورتیں نازل ہو چکی تھیں۔ عبداللہؓرسول اللہﷺ اور صحابہ کرامؓ کے پاس جا کر قرآن سنتے، پھر اس کو حفظ کر لیتے اور بعد میں لکھ لیتے۔

اصلاح کا سبب

رابیعہ ایک خوش حال گھرانے سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی۔ قدرت نے اسے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بے پناہ صلاحیتیں بھی دی تھیں۔

جادوئی ہانڈی

ایک غریب عورت اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔ ایک دن ایک امیر آدمی ان کے گھر آیا تو ماں نے اپنے بیٹے سے کہا، جائو مہمان کے کھانے کیلئے کچھ لے آؤ۔ بیٹے نے ہانڈی میں چاول کا صرف ایک دانہ ڈالا اور اسے پکنے کیلئے چولھے پر چڑھا دیا۔

ذرا مسکرایئے

ایک سردار کا ایک ریسٹورنٹ تھا۔ ایک آدمی اس کے پاس آیا اور کہا:سردار جی! سوپ میں مکھی ہے۔

ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالی

ٹوٹ بٹوٹ نے بکری پالیدبلی پتلی ٹانگوں والی

پہیلیاں

کھائے لوہا اگلے آگگائے ہر دم موت کے راگ