بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

تحریر : محمد عارف جان


بارش کیوں ہوتی ہے؟

بادل کبھی کبھی برستے ہیں۔ پانی کے لاکھوں کروڑوں ننھے ننھے قطرے اور برف کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوا میں معلق ہوتے ہیں لیکن اگر وہ بڑے اور بھاری ہو جائیں تو بارش کی شکل میں زمین پر گر جاتے ہیں۔

بادلوں کی گرج میں گڑگڑاہٹ کیوں ہوتی ہے؟

شعلے سے نکلتی ہوئی بجلی اپنے راستے میں آنے والی ہوا کو گرم کرتی ہے، ہوا بڑی تیزی سے پھیلتی ہے اور پھر اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی ٹھنڈی ہوا سے ٹکراتی یا رگڑ کھاتی ہے اس طرح گرج کی آواز آتی ہے۔ گرج میں گڑ گڑاہٹ اس لئے ہوتی ہے کہ یہ آواز ہمارے پاس ہوا میں سے گزر کر پہنچتی ہے۔

برف کیوں گرتی ہے؟

دراصل ٹھنڈے بادلوں کے اندر برف کے ننھے ننھے ذرے ہوتے ہیں۔ پانی کے نئے بخارات ان بادلوں میں جا کر جمتے جاتے ہیں اور برف کے ٹکڑے جسامت میں بڑھنے لگتے ہیں۔ پھر جب یہ وزنی ہو کر گرنے لگتے ہیں تو آپس میں چپک جاتے ہیں اور برف کے گالے بن کر گرنے لگتے ہیں۔

 برف کب بنتی ہے؟

جن علاقوں کی آب و ہوا سرد ہوتی ہے وہاں برف بنتی ہے۔ سردیوں میں جب درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے تو پانی ٹھوس برف میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ عموماً رات کو موسم بہت ٹھنڈا ہو جاتا ہے چنانچہ صبح سویرے آپ کو بہت سی نئی برف نظر آتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

انسانی شکل میں فرشتے:اس پارے کے شروع میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے اجنبی انسان نہیں تھے بلکہ بشری شکل میں فرشتے تھے، تو ابراہیم ؑ نے اُن سے پوچھا کہ آپ کا مشن کیا ہے، اُنہوں نے کہا: ہم مجرموں کی ایک قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ اُن پر مٹی سے پکے ہوئے پتھر برسائیں، جو آپ کے رب کے نزدیک حد سے تجاوز کرنے والوں کیلئے نشان زدہ (Guided) ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ ہم اہل ایمان کو صحیح سلامت اُس بستی سے باہر نکال دیں گے اور اُس میں مسلمانوں کا ایک ہی گھر ہے، یعنی حضرت لوط علیہ السلام کا۔

خلاصہ قرآن(پارہ 27)

مقصدِ تخلیقِ انسان و جن:قرآن پاک کے ستائیسویں پارے کا آغاز سورۃ اَلذَّارِیَات سے ہوتا ہے۔ اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسانوں اور جنات کی تخلیق کے مقصد کا بھی ذکر کیا ہے کہ جنات اور انسان کی تخلیق کا مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نہ تو مجھے ان سے رزق کی طلب ہے اور نہ میں نے کبھی ان سے کھانا مانگا ہے۔

لیلۃ القدر:اجرِ عظیم کی بابرکت رات

جس شخص نے ایمان اور اخلاص کے ساتھ ثواب کے حصول کی غرض سے شب قدر میں قیام کیا تو اس کے سارے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے(صحیح بخاری و مسلم شریف)

شبِ قدَر:توبہ اور دعائوں کی قبولیت کے بابرکت لمحات

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مکمل سورۃ نازل فرما کر اس کی عظمت و رفعت پر مہر تصدیق ثبت فرمائی

خلاصہ قرآن(پارہ 26)

سورۃ الاحقاف:اس سورہ میں ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا تاکیدی حکم ہے اور ماں نے حمل اور وضع حمل کے دوران جو بے پناہ مشقتیں اٹھائیں، ان کا ذکر ہے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 26)

سورۃ الاحقاف:قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کا آغاز سورۃ الاحقاف سے ہوتا ہے۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ مشرک کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں ہے اور جو شرک کرتے ہیں‘ ان کو کہیے کہ اگر وہ سچے ہیں تو کوئی سابقہ کتاب یا علم کا ٹکڑا اپنے موقف کی دلیل کے طور پر لے کر آئیں۔